’امریکہ افغانستان کے مابین تعلقات کا نیا دور‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, مائیکل او ہنلون
- عہدہ, بروکنگز انسٹی ٹیوٹ
افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ واشنگٹن ڈی سی کے دورے کی ایک ایسے وقت تیاری کر رہے ہیں جب امریکہ اور افغانستان کے درمیان دیرپا تعلقات کے امکانات روشن نظر آ رہے ہیں۔
یقیناً کچھ خدشات بھی ہیں۔ افغانستان میں کرپشن تشویشناک کا باعث ہے اور اندازِ حکمرانی کمزور ہے۔ امریکی صدر براک اوباما اپنے دور صدارت کے اختتام تک افغانستان میں امریکہ کے فوجی مشن کو سمیٹنا چاہتے ہیں جس کا مطالب یہ ہوا کہ آئندہ سال کے اختتام تک۔
افغانستان کے لیے امریکی امداد میں بھی امریکی کانگریس کی جانب سے کمی کی جا چکی ہے، جس کے بارے میں یہ خیال ہے کہ افغانستان اس کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں ناکام رہا ہے۔ امریکہ کے اپنے سالانہ اخراجات کا دباؤ بھی ہے۔
لیکن ان تمام باتیں کے باوجود گزشتہ سال کے مقابلے میں حالات میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔
سابق صدر حامد کرزئی کا ملک میں جو بھی کردار تھا یا امریکہ کی جو بھی خامیاں تھیں اور افغانستان میں چینلنز سے نبردآزما ہونے کی ناکامی کا ذمہ دار کسی حد تک امریکہ بھی ہے، تاہم سابق صدر حامد کرزئی افغانستان کے مغرب کے ساتھ تعلقات میں اہم مسئلہ رہے ہیں۔
یہ صورت حال امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں تھی جو امریکی قوم کے بیٹے اور بیٹیوں کو لڑنے اور اکثر اوقات ہلاکت میں ڈال کر ہندوکش بھیجتا رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کو سب سے زیادہ امداد مہیا کرتا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
افغانستان میں متنازع صدارتی انتخاب جس میں دونوں امیدواروں نے دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے افغان جمہوریت کو ہی خطرے میں ڈال دیا تھا اور ملک کو فرقہ وارانہ نفرت کے دھانے پر پہنچا دیا تھا۔
اسی دوران نیٹو فورسز نے افغانستان میں اپنی فوجی قوت میں کمی کرتے ہوئے صرف 10 فی صد کر دی تھی، یہاں تک کہ طالبان نے بھی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان حالات کے مقابلے میں افغانستان کی سیاستی معاونت کے لیے آج حالات کہیں بہتر ہیں۔
صدر غنی، عبداللہ عبداللہ اور امریکی ارکان کانگریس کے سامنے کئی اہم کام ہیں اور ان پر کامیابی سے عمل درآمد ہونا ناگزیر ہے۔
صدر اشرف غنی ایک سمجھدار شخص ہیں جو امریکہ کو سمجھتے ہیں، وہ ایک طویل عرصہ امریکہ میں قیام پذیر رہ چکے ہیں اور گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے کابل میں متعدد حکومتی عہدوں پر رہتے ہوئے جدید امریکہ افغانستان تعلقات کے مختلف پہلوؤں کو سمجھتے ہیں۔
وہ ایک رحم دل اور شفیق انسان بھی ہیں جو یقیناً ان کے ملک کے لیے امریکیوں کی قربانیوں کا شکریہ ادا کریں گے۔ وہ ایک اصلاح پسند بھی ہیں اوریہ جانتے ہوئے بھی کہ ابھی ایک طویل سفر باقی ہے وہ افغان حکومت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
مجھے یقین ہے کہ وہ یہ سب کہیں گے۔
اسی دوران، عبداللہ عبداللہ کسی حد تک محدود لیکن انتہائی اہم کردار بھی ادا کریں گے۔
وہ اس امرکا یقین دلائیں گے کہ افغانستان تنازعات کے باوجود لسانی اور فرقہ وارانہ سطح پر اشتراک کرتا رہے گا، جیسا مشرق وسطیٰ میں نہیں کیا گیا۔
افغان حکومت میں بہتری کے لیے ان کی اپنی سوچ ہوگی ، وہ صدر کے لیے سنہ 2009 اور سنہ 2014 میں انتخابات لڑ چکے ہیں۔
عموماً جو بھی کہا جائے امریکی کانگریس اسے پسند کرتی ہے۔
یقیناً، افغانستان کی امداد کے لیے درخواست خاص طور پر معاشی لحاظ سے اعتدال پسندی سے رد ہو سکتی ہے، جیسا پہلے بھی ہو چکا ہے۔
لیکن مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور عراق سے سنہ 2011 میں امریکی فوجوں کی واپسی ایک واضح غلطی دکھائی دیتی ہے۔ کچھ لوگوں کو اس غلطی کے دہرائے جانے کا اندیشہ ہوگا یا سنہ 2011 سے جاری بے بہا خون، پسینہ، آنسو اور معاشی وسائل خرچ کرنے کے بعد امداد میں کمی بھی غلطی سمجھا جاسکتا ہے۔
صدر اوباما کو دراصل امریکہ کی طرف سے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اگر وہ امریکی فوجوں کی اس سال افغانستان سے واپسی کے عمل کو مزید طول دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تب بھی اگلے سال کے اختتام تک امریکی فوجوں کی واپسی کا ارادہ ان کے پیش نظر رہے گا۔
یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے، اور اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
امریکہ کو چاہیے کہ انسداد دہشت گردی کے آلات، یعنی فوجی اڈے، سنہ 2016 کے بعد بھی القاعدہ، دولت اسلامیہ اور خطے میں دیگر شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرے۔
اس کو اپنی موجودگی قائم رکھنے کی ضرورت ہے جیسا کہ سنہ 2011 میں عراق میں ختم کر دی گئی تھی۔ (بالکل، عراقیوں کا بھی اس میں عمل دخل تھا)۔
عراق میں اثرورسوخ کی کمی سے واشنگٹن سابق عراقی وزیراعظم نور المالکی کو فرقہ وارنہ اور گمراہ کن حکومت پر بہت کم اثر انداز ہوسکتا تھا۔
ایک بار پھر افغانستان میں بھی اسی پالیسی کا دوہرانے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔
امریکہ افغانستان میں دو سے تین اڈے اپنی موجودگی اور تعاون کو جاری رکھنے کے لیے مستقل طور پر قائم رکھے۔
اگرچہ کانگریس کا کردار اس میں انتہائی اہم ہوگا لیکن افغان رہنماؤں کے دورے کے دوران وائٹ ہاؤس کا ردعمل بھی قریب سے دیکھنا چاہیے۔







