وقت آ گیا ہے کہ اشرف غنی کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے: مشرف

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغانستان میں جنگجوؤں کی مدد بند کر دینی چاہیے۔
برطانوی اخبار گارڈیئن کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں پرویز مشرف نے اعتراف کیا کہ جب وہ اقتدار میں تھی تو اس وقت افغانستان میں صدر حامد کرزئی کی حکومت کے خلاف کام کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا اس لیے کیا جا رہا تھا کہ حامد کرزئی نے ’بھارت کی مدد کی تھی پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے میں‘۔
’لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اشرف غنی کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے کیونکہ اشرف غنی خطے میں امن کی آخری امید ہیں۔‘
پرویز مشرف نے کہا کہ ’حامد کرزئی کے دورِ حکومت میں وہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے تھے اسی لیے پاکستان ان کے مفادات کے خلاف کام کر رہا تھا۔‘
یاد رہے کہ صدر اشرف غنی نے اقتدار میں آنے کے بعد نہ صرف بھارت کے ساتھ اسلحے کے تجویز کردہ معاہدے کو ختم کیا ہے بلکہ سکیورٹی فورسز کو مشرقی افغانستان میں پاکستان مخالف جنگجوؤں کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجا ہے۔
گارڈیئن اخبار سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صدر غنی کا سب سے اچھا فیصلہ چھ کیڈٹس کو پاکستان ملٹری اکیڈمی تربیت کے لیے بھیجنا ہے۔
واضح رہے کہ سابق صدر حامد کرزئی نے مشرف اور جنرل کیانی کی جانب سے افغان فوجیوں کو تربیت دینے کی پیشکش کو رد کردیا تھا۔ حامد کرزئی نے پاکستان کی بجائے کیڈٹس کو بھارت تربیت کے لیے بھجوایا تھا۔
پرویز مشرف کا کہنا تھا ’پاکستان کی افغانستان میں اپنی پراکسی تھی، بھارت کی اپنی جو کہ دائدہ مند نہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس کا فائدہ نہیں۔ یہ افغانستان، پاکستان اور بھارت کے لیے سود مند نہیں۔ یہ رکنا چاہیے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ آئی ایس آئی نے طالبان کی مدد کی کیونکہ حامد کرزئی کی حکومت میں پشتونوں کی نمائندگی کم تھی۔ طالبان کی مدد اس لیے کی گئی کہ وہ افغانستان میں بھارت کے اثر و رسوخ کو روکے۔
’یقیناً ہم کسی ایسے گروہ کی تلاش میں تھے جو بھارت کے پاکستان مخالف اقدامات کو روکے۔ اس لیے انٹیلیجنس ایجنسیوں سے کام لیا گیا۔ ایجنسیاں طالبان کے ساتھ رابطے میں تھے۔ یقیناً ایجنسیاں طالبان کے ساتھ رابطے میں تھیں اور ان کو رہنا بھی چاہیے تھا۔‘
سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے بھارت پر بات کرتے ہوئے اصرار کیا کہ وہ ’بھارت دشمن‘ نہیں ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا ’بھارت دنیا کی عزیم جمہوریت ہے، انسانی حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے اور جمہوری کلچر ہے؟ سب بکواس ہے۔ کوئی انسانی حقوق نہیں ہیں۔ مذہب ہی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ بھارت کے دیہی علاقوں میں اگر اچھوت کا سایہ بھی پنڈت پر پڑ جائے تو اس کو قتل کردیا جاتا ہے۔‘
گارڈیئن کو انٹرویو میں پرویز مشرف نے اپنے اوپر مقدمات اور ملک سے باہر جانے کی اجازت نہ ہونے پر کہا کہ سارے مسائل تقریباً ختم ہو گئے ہیں اور اس کے لیے وہ فوج کے شکر گزار ہیں۔
’مجھے فوج کے ادارے پر بڑا فخر ہے۔ وہ جو بھی میری مدد کر رہے ہیں، اپنے سابق آرمی چیف کے عزت اور وقار کو بچانے کے لیے جو بھی کر رہے ہیں مجھے بڑا فخر ہے۔‘







