مشرف حملہ کیس: ’عدالتی نوٹس کے باوجود‘ مجرم کو پھانسی دے دی گئی

 لاہور ہائی کورٹ کے جج قاضی امین نے جعمرات کو اس درخواست کی سماعت کی تھی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن لاہور ہائی کورٹ کے جج قاضی امین نے جعمرات کو اس درخواست کی سماعت کی تھی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر سنہ 2003 میں راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چیچی میں ہونے والے حملے کے الزام میں گرفتار پاکستانی فضائیہ کے سینیئر ٹیکنیشن خالد محمود کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل انتظامیہ نے ’عدالتی حکم کے باوجود‘ پھانسی دے دی ہے۔

خالد محمدو کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’عدالتی نوٹس کے باوجود‘ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کی اننتظامیہ نے ان کے موکل خالد محموم کو کو پھانسی دے دی ہے۔

کرنل ریٹائرڈ انعام کے مطابق خالد محمود کو جمعے کی رات دس بجے کے قریب پھانسی دی گئی۔

ادھر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھیں پھانسی روکنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے تحریری احکامات موصول نہیں ہوئے۔

راولپنڈی کی جیل انتظامیہ نے اس مقدمے میں پاکستانی فضائیہ کے سینیئر ٹیکنیشن خالد محمود کی ان کے اہلخانہ کے ساتھ جمعے کی صبح آخری ملاقات بھی کروا دی تھی۔

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف پر حملہ کرنے کے تین مجرموں کی پھانسی سے متعلق دائر درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو 12 جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

اس مقدمے کی سماعت کے موقع پر مجرموں کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب کسی مقدمے میں نیا قانونی نکتہ سامنے آجائے تو اس کے بعد سزا پر عمل درآمد روک دیا جاتا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج قاضی امین نے جعمرات کو اس درخواست کی سماعت کی تھی۔

درخواست گزاروں کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم نے عدالت کو بتایا کہ جب ملک میں قصاص اور دیت کا قانون موجود ہے اور اس مقدمے میں کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تصدیق بھی نہیں ہوئی تو پھر کیسے ان کے موکلوں کو اس وقت کے صدر پرویز مشرف پر حملہ کرنے کے الزام میں پھانسی دی جا سکتی ہے؟

انھوں نے کہا کہ ان کے موکلوں کو سابق فوجی صدر پر حملوں کی سازش تیار کرنے میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

انعام رحیم کا کہنا تھا کہ اس حملے میں پرویز مشرف سمیت کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تو پھر یہ کیسا جرم ہے جس کی سزا موت سنائی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ قانون میں سازش تیار کرنے کی سزا بھی دس سال سے زیادہ نہیں ہے جبکہ اُن کے موکل گذشتہ 11 برس سے جیلوں میں قید ہیں۔

انعام رحیم نے کہا کہ ان کے موکلوں کو سنے بغیر ہی اس مقدمےکا فیصلہ سنا دیا گیا جبکہ ان کی اپیلیں بھی اس وقت کے ایئر وائس مارشل شاہد لطیف نے مسترد کر دیں، حالانکہ انھوں نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی نہیں لکھا کہ وہ کس کی اپیلیں مسترد کر رہے ہیں؟

عدالت نے اس درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 12 جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر سنہ 2003 میں راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چیچی میں ہونے والے پہلے حملے کے الزام میں پاکستانی فضائیہ کے تین اہلکاروں سمیت چار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس واقعے میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا۔

گرفتار ہونے والوں میں سینیئر ٹیکنیشن خالد محمود، نوازش علی، نیاز محمد اور ایک سویلین مشتاق احمد شامل تھے۔

نیاز محمد کو چند روز پہلے پشاور کی جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔