ڈاکٹر جوڑے کا غریبوں کے لیے ہسپتال

،تصویر کا ذریعہPRASHANT RAVI
بھارت کی شمالی ریاست بہار میں تیزی سے ترقی کی جانب بڑھتے ہوئے شہر حاجی پورہ کے گنجان آباد علاقے میں واقع ایک سفید اور سرخ رنگ کی شوخ عمارت پہلی نظر میں کوئی عوامی ریسٹ ہاؤس دکھائی دیتی ہے۔
تاہم غور کرنے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگوں کی ایک قطار آشتھا ہسپتال میں داخل ہو رہی ہے، جو ہسپتال ایک ڈاکٹر جوڑے نے بھارت کے نجی شعبے کی منافع بخش ملازمتیں چھوڑ کر مناسب داموں پر علاج معالجے کی سہولت کے لیے قائم کیا ہے۔
سرجن اتل ورما اور امراض چشم کی ماہر جیاشری شیکھر کا کہنا ہے کہ بھارت میں علاج معالجے کی بہتر سہولیات اس وقت تک حاصل نہیں کی جا سکتیں جب تک آپ مالی طور پر مستحکم نہیں ہیں۔
بھارت اپنے کل آمدن یا (جی ڈی پی) کا صرف ایک فیصد حصہ صحت پر خرچ کرتا ہے، جو دنیا میں کم ترین شرح ہے۔ ایک گھرانہ کل اخراجات میں سے تقریباً 69 فیصد صحت پر خرچ کرتا ہے، یہ شرح دنیا میں بلند ترین ہے۔ اگرحکومت علاج معالجے کی بلامعاوضہ سہولت فراہم کرتی ہے لیکن دیہی علاقوں میں صرف 22 فیصد افراد اور شہروں میں 19 فیصد افراد سرکاری سہولیات سے استفادہ حاصل کرتے ہیں۔
بہار میں صحت کی سہولیات کی بدترین حالات ہے۔
اگرچہ بہار میں 800 سرکاری ہسپتال اور بنیادی صحت کے مراکز، اور تقریبًا 2000 غیرسرکاری نرسنگ ہومز یا کلینکس ہیں، تاہم بہار میں عوامی صحت کا نظام خستہ حال ہے۔ پرائیوٹ سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے وفاقی قوانین کا بھی اکثر تمسخر اڑایا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPRASHANT RAVI
سات سال پہلے ایک ڈاکٹر جوڑا بھارت اور بیرون ملک کام کرنے کے بعد اپنی آبائی ریاست واپس آیا۔ اتل ورما ایک سرکاری ہسپتال میں کام کرتے تھے چنانچہ انھوں نے اپنا ہسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
43 سالہ ڈاکٹر ورما کہتے ہیں ’میں نے دہلی میں بھارت کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں کچھ عرصہ کام کیا۔ جہاں میں نے دیکھا کہ بہار سے مریض داخلے کے لیے بے یار و مددگار کئی دن انتظار کرتے ہیں۔ ان کے رشتے دار ہاتھ جوڑے آتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہم ان کی بہت کم مدد کر سکتے تھے، کیونکہ بستر دستیاب نہیں تھے۔ اس امر نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ ہمیں ان کے آبادئی علاقے میں کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے ایک پرانے سکول کی عمارت کو خریدنے کے لیے بینک سے قرض لیا، سکول دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا اور اس 3600 مربع فٹ پر پھیلی اس عمارت میں 12 بستروں پر مشتمل ہسپتال کا افتتاح گذشتہ برس کیا گیا۔
گراؤنڈ فلور پر انتظار گاہ میں روزانہ مریض آتے ہیں اور ڈاکٹر ورما دور دراز کے دیہات سے آئے مریضوں کا علاج اور جنرل سرجریاں کرتے ہیں۔
اس ہسپتال میں علاج معالجے کی فیس صرف دو سو روپے اور سرجری کا خرچ آٹھ ہزار سے بارہ ہزارنروپے ہے۔ حاجی پورہ کے دیگر پانچ سو نرسنگ ہومز کے اخراجات کے مقابلے میں یہ انتہائی کم ہیں۔
دو تربیت یافتہ مشیر مریضوں سے بات چیت کرتے ہیں اور انہیں ان کی بیماری کے بارے میں ’تعلیم‘ دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPRASHANT RAVI
اپنے قیام سے اب تک کے مختصر وقت میں آشتھا ہستپال میں بڑی آنت کےآخری حصے کے بغیر دو سالہ بچے کے علاج سے لے کر 108 سالہ شخص کی غدود کی سرجری کی جاچکی ہے۔
یہ ڈاکٹر جوڑا روزانہ کی بنیاد سینکڑوں مریضوں کا سستا علاج کرتا ہے۔
یہاں پانی اور بجلی کی فراہمی کا بھی مسئلہ ہے، اور بجلی جانے کی صورت میں ڈیزل جنریٹر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ انہیں اپنے پٹنہ شہر سے ہسپتال آنے کے لیے روزانہ 18کلومیٹر (11 میل) کا سفر 90 منٹ میں طے کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں ٹریفک جام کے حوالے سے ایک مشہور پل سے گزرنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر ورما کہتے ہیں ’بعض اوقات میں اتنا تھک جاتا ہوں کہ مریضوں کا معائنہ نہیں کرپاتا۔‘
تاہم ڈاکٹر جوڑے کا اس کام کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
وہ اس ہسپتال کو مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اوپر ایک مزید منزل کا اضافہ کیا جاسکتا جہاں جیاشری اپنے مریضوں کا معائنہ کر سکتی ہیں۔ ان کا 40,000 سکوئرفٹ پر مشتمل بنجر زمین حکومت سے رعایتی قیمت پر خریدنے کا ارادہ بھی ہے، جہاں غریبوں کے لیے 100 بستروں پر مشتمل ہسپتال بنایا جائے گا۔
ایسا تین سال پہلے ہوا تھا اور اب وہ بھی اس کا انتظار کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر ورما کا کہنا ہے ’میں پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ ابھی بھی سب کچھ نہیں کھویا۔‘







