ناگالینڈ میں ریپ کا ملزم ہجوم کے ہاتھوں ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کی شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ میں ایک مشتعل ہجوم نے دیماپور کی سینٹرل جیل میں گھس کر پہلے ریپ کے ایک ملزم کو باہر نکالا اور پھر اسے مار مار کر ہلاک کر دیا۔
یہ واقعہ جمعرات کی شام پیش آیا حالانکہ شہر میں بدھ سے ہی کرفیو نافذ تھا۔
اطلاعات کے مطابق پولیس کی فائرنگ میں زخمی ہونے والا ایک شخص بھی چل بسا ہے جبکہ چار افراد زیر علاج ہیں۔
اس واقعے کی ایک مختصر ویڈیو فلم ٹی وی چینلوں پر دکھائی جا رہی ہے۔
اس فلم میں ہزاروں مظاہرین اس شخص کو برہنہ حالت میں اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں جس کا نام فرید خان بتایا گیا ہے اور اسے ایک ناگا لڑکی کو ریپ کرنے کے الزام میں چند روز قبل گرفتار کیا گیا تھا۔
گرفتاری کے بعد عدالت نے اسے جیل بھیج دیا تھا۔
مظاہرین کی رہنمائی ناگا طلبہ کی ایک تنظیم کر رہی تھی اور علاقے سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق ان کا ارادہ اس شخص کو سر عام پھانسی دینے کا تھا لیکن شدید پٹائی کی وجہ سے اس نے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔
شمال مشرق کی تقریباً سبھی ریاستوں میں نسلی تشدد کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک کیاجانے والا شخص بنگلہ زبان بولنے والا مسلمان تھا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں کافی کشیدگی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی کے مناسب انتظامات کیے جارہے ہیں اور نیم فوجی دستوں کو تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ریاست کےڈائریکٹر جنرل پولیس کے مطابق پولیس نے طاقت کا زیادہ استعمال کرنے سے گریز کیا کیونکہ اس سے اور زیادہ جانی نقصان ہوسکتا تھا۔ ان کے مطابق تفتیش جاری ہے اور ویڈیو کی مدد سے جتنے بھی لوگوں کی شناخت ہوگی انہیں گرفتار کیا جائے گا۔
شمال مشرقی ریاستوں میں بنگالی زبان بولنے والوں کو غیر ملکی مانا جاتا ہے اور عام تاثر یہ ہے کہ یہ لوگ بنگلہ دیش سے آکر وہاں غیر قانونی طور پر آباد ہوگئے ہیں جس سے مقامی قبائلی اپنے حق سے محروم ہو رہے ہیں۔ ناگالینڈ میں بھی ’غیر ملکیوں‘ کو نکالنے کی تحریک جاری ہے۔
اس سے پہلے آسام میں بھی بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔







