جمہوریت میں سیاسی بادشاہوں کے برے دن

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

15 اگست 1947 کو جب بھارت آزاد ہوا تو ملک کے سیاستدانوں اوردانشوروں نے اپنے لیے ایک جمہوری سیاسی نظام کا انتخاب کیا ۔ ایک ایسا نظام جس میں ہر شخص کو مساوی درجہ دیا گیا اور ہر بالغ مرد اورعورت کو ووٹ ڈالنےکے حق سےنوازا گیا۔

یہ ایک غریب اور نوآبادیاتی قبضے سے نکلنےوالے ملک کے لیے ایک عظیم کامیابی تھی ۔ملک کا آئین عوام کے نام سے شروع ہوا ۔ یہ توقع کی گئی کہ جمہوری نظام آزاد بھارت میں یہ عام انسانوں کی ترقی اور اقتدار میں شراکت کا ذریعہ بنےگی مگربد قسمتی سے بھارت کی جمہوریت ایک نئےامیر تعلیم یافتہ سیاسی جاگیرداروں کے شکنجے میں چلی گئی اور یوں بھارت کی جمہوریت نے گذشتہ پینسٹھ برس میں سیاست کو ایک مخصو ص طبقے کےلیے دولت اور طاقت کےحصول کا ذریعہ بنا دیا۔ سیاست، مراعات، دولت اورطاقت کے حصول کا ذریعہ بن گئی۔

گذشتہ عشروں میں جمہوری بھارت نے متعدد ایسے سیاستدان پیدا کیے ہیں جو قرونِ وسطیٰ کے مغل شہنشاہوں سے بھی زیادہ طاقتور اور با اثر ثابت ہوئے۔

جمہوری نظام نے اقتدار میں حصے داری اور مساوی حقوق سے جس طرح کا سماجی اوراقتصادی نظام یورپ اورامریکہ میں تخلیق کیا وہ اس طرح کا نظام بھارت کو نہ دے سکا۔ یہاں سیاستدانوں نے سیاست کو اپنی جاگیر میں بدل دیا اورسیاست سماج اور معیشت کو بدلنے کا ذریعہ نہ بنی بلکہ ذاتی ترقی اور مراعات کا ذریعہ بن گئی۔ سیاست دانوں کا ایک نیا مراعات یافتہ طبقہ بھارت کا منتظم نہیں حکمراں بن بیٹھا۔یہی وجہ رہی کہ ہے آزادی کے پینسٹھ برس بعد بھی ملک کی ستر فی صد آبادی غربت اور افلاس کی گرفت میں ہے۔

لیکن سیاست کبھی ٹھہری نہیں ہوتی۔ ملک کی نئی نسل جاگیردارارنہ سیاست کو مزید جھیلنے کے لیےتیار نہیں ہے۔ ملک کے عوام اب ایک موثر اور جوابدہ نظام چاہتے ہیں۔ دلی میں عام آدمی پارٹی کی فتح اسی بدلتی ہوئی سیاست کی عکاس ہے۔

دلی کےانتخابات میں ایک طرف ایک ایسی جماعت تھی جس کے پاس نہ بڑی تنظیم تھی اورنہ وسائل اوردوسری جانب ملک کی سب سے بڑی اورسب سےمنظم سیاسی پارٹی تھی، جس کےپاس سارے وسائل تھے، میڈیا تھا اور ایک طاقتور وزیراعظم۔

دلی کے انتخابات کےدوران اپنی پوری طاقت اور انتخابی ٹیکنالوجی کے باوجود بی جے پی بری طرح مفلوج نظر آئی۔ انتخابی شطرنج کی بساط پر اس کی ہر چال مات کھاتی گئی۔بی جے پی اسی طرح شکست خوردہ اور بے بس نطر آ رہی ہے جس طرح نو مہینے پہلے لوک سبھا کےانتخابات کےدوران کانگریس تھی۔

وزیراعظم مودی کی یہ پہلی شکست ہے۔ مودی اگرچہ عوام کےموڈ کو سمجھ کر لوک سبھا کےانتخابات میں اترے تھے لیکن اگر ان کے آٹھ مہینے کی کارکردگی دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بدلتی ہوئی سیاست کی کچھ ہی عبارت پڑھ سکے ہیں۔ تجزیہ کارون کےمطابق ان کا سب سے کمزرر پہلو یہ ہے کہ انہیں جمہوریت میں بادشاہت کا شوق ہے۔

بھارت کی بدلتی ہوئی سیاست اور عوام کی بے چین امنگوں کےتناظر میں آج کوئی جماعت اور کوئی رہنما مستحکم نہیں ہے ۔شاید اروند کیجریوال اسی لیے بار بار خود کو تکبر اور غرور سے بچنےکی تنبیہ کرتے رہتے ہیں۔