پاکستان، بھارت بات چیت شروع ہونے کا امکان؟

امریکہ کے صدر براک اوباما اتوار کو تین روزہ دورے پر بھارت پہنچ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنامریکہ کے صدر براک اوباما اتوار کو تین روزہ دورے پر بھارت پہنچ رہے ہیں
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

امریکہ کے صدر براک اوباما نے نئی دہلی پہنچنے سے پہلے ایک بھارتی جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ممبئی حملے کے ملزمان کو جلد از جلد سزائیں ملنی چاہئیں۔

انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں نہیں ہونی چاہئیں۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پچھلے دنوں اسلام آباد کے دورے میں پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ ملک کے اندر سرگرم دہشت گرد تنظیموں پر پابندی عائد کرے۔

اطلاعات کے مطابق حکومتِ پاکستان نے جماعت الدعوۃ سمیت کئی دہشت گرد تنظیموں پر پابندی عائد کر دی ہے اور ان کے اثاثے منجمد کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

حافظ محمد سعید جماعت الدعوۃ کے سربراہ ہیں اور بھارت انھیں ممبئی حملے کا اصل ملزم تصور کرتا ہے۔ ان کی تنظیم پر پابندی سے بھارت میں یقیناً خوشی ہوئی ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نئی دہلی میں جب وزیر اعطم نریندر مودی سے بات چیت کریں گے تو پاکستان سے تعلقات کا سوال یقیناً ایک اہم موضوع ہو گا۔ امریکہ بھارت پر زور دے گا وہ پاکستان سے بات چیت شروع کرے۔

حافظ محمد سعید جما عت الدعوۃ کے سربراہ ہیں اور بھارت انھیں ممبئی حملے کا اصل ملزم تصور کرتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحافظ محمد سعید جما عت الدعوۃ کے سربراہ ہیں اور بھارت انھیں ممبئی حملے کا اصل ملزم تصور کرتا ہے

بھارت نے پاکستان سے بات چیت کا سلسلہ ایک ایسے وقت توڑا جب دونوں ممالک کی نئی حکومتوں کے درمیان ایک طویل وقفے کے بعد بات جیت شروع ہونے والی تھی۔

اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں۔ برسوں کی بات چیت اور مشکل مرحلوں سے گزرنے کے بعد دونوں ممالک کی عوام کے لیے اعتماد سازی کے جو اقدامات بے دلی سے کیے گئے تھے وہ بھی ایک ایک کر کے ختم ہو رہے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان پرواز کا واحد ذریعہ یعنی پی آئی اے کی پروازوں کو بھی نئی دلی سےبند کیے جانے کا خدشہ ہے۔

غیر سرکاری سطح یعنی ٹریک ٹو کے ذریعے ہونے والی بات چیت بھی منقطع ہے۔

بھارت کی نئی حکومت کی توجہ ملک کے اندر اپنی داخلی پالیسیوں پر مرکوز ہے اور ادھر پاکستان اپنے مسائل میں الجھا ہوا ہے۔

بھارت اور پاکستان کے تعلقات کسی کی ترجیحات میں نظر نہیں آتے۔

صدر براک اوباما کی بھارت آمد سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت شروع ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

امریکہ کو یہ معلوم ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات ان دونوں کے ہی نہیں امریکہ کے اپنے مفاد میں بھی ہیں۔

واشنگٹن سے اس بات کے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع کرانے کے لیے دباؤ ڈالے گا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنواشنگٹن سے اس بات کے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع کرانے کے لیے دباؤ ڈالے گا

واشنگٹن سے اس بات کے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع کرانے کے لیے دباؤ ڈالے گا لیکن بات چیت سے پہلے بھارت امریکہ سے کہے گا وہ ممبئی حملے کے ملزموں کے خلاف مقدمے کی کارروائی جلد مکمل کرنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالے۔

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اگست میں خارجہ سیکریٹریز کی سطح پر ہونے والی بات چیت منسوخ کر کے یہ واضح کر دیا تھا کہ کشمیر کے سلسلے میں ان کی حکومت کشمیری علیحدگی پسندوں سے کوئی بات چیت نہیں کرے گی۔

بھارت نے اس قدام سے پاکستان کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کشمیر کے بارے میں اگر اسے کوئی بات کرنی ہے تو وہ صرف بھارت کی حکومت سے ہی ہو گی۔

اس بات کا غالب امکان ہے کہ بی جے پی آئندہ دنوں یا ہفتوں میں پی ڈی پی سے اتحاد کے ساتھ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اقتدار میں آ جائے اور اگر ایسا ہوا تو کشمیر کی سیاست کی نوعیت بدل سکتی ہے۔

بھارت اور پاکستان کے تعلقات پر بھی کشمیر کے اس بدلتے ہوئے پس منظر کا براہ راست اثر پڑے گا۔