ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ صدر کا پروٹوکول کے برخلاف استقبال کیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ صدر کا پروٹوکول کے برخلاف استقبال کیا
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

امریکہ کے صدر براک اوباما تو دہلی میں ہیں لیکن دہلی والے کہاں ہیں؟ وسطی دہلی کی سڑکیں ویران پڑی ہیں، چپے چپے پر سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔

اخباروں کی مانیں تو آوارہ کتوں سے لے کر گدا گروں تک، سب کو نظروں سے اوجھل کر دیا گیا ہے۔

دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت کے سربراہ سب سے بڑی جموریت کےدورے پر جوہیں۔

اوباما تاج محل دیکھنے آگرہ نہیں جاسکیں گے نہیں، سکیورٹی کا کوئی خطرہ نہیں تھا، وہ صرف ایک بادشاہ پر دوسرے بادشاہ کو ترجیج دے رہے ہیں، تعزیت کے لیے انھیں ریاض جانا ہے۔

اوباما دہلی پہنچے تو پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خود وزیر اعظم نریندر مودی ان کے استقبال میں کھڑے تھے، دونوں نے گلے مل کر کچھ اس انداز میں ایک دوسرے کی پیٹھ تھپتھپائی کہ پسلیاں بھی چرمرا گئی ہوں گی اور ٹی وی چینلوں پر اینکر اور ان کے ساتھ موجود درجنوں تجزیہ نگار دونوں رہنماؤں کی ’مثبت باڈی لینگوئج‘ کی باریکوں سے سفارتی پیغامات اخذ کرنے میں مصروف ہوگئے۔

اوباما تاج محل دیکھنے آگرہ نہیں جاسکیں گے نہیں، سکیورٹی کا کوئی خطرہ نہیں تھا، وہ صرف ایک بادشاہ پر دوسرے بادشاہ کو ترجیج دے رہے ہیں، تعزیت کے لیے انھیں ریاض جانا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناوباما تاج محل دیکھنے آگرہ نہیں جاسکیں گے نہیں، سکیورٹی کا کوئی خطرہ نہیں تھا، وہ صرف ایک بادشاہ پر دوسرے بادشاہ کو ترجیج دے رہے ہیں، تعزیت کے لیے انھیں ریاض جانا ہے

دہلی میں سکیورٹی کے ایسے انتظامات پہلے کبھی نہیں کیے گئے، نو فلائی زون نافذ ہے، کچھ سڑکیں بند کر دی گئی ہیں، صدر کے پورے راستے میں واقع اونچی عمارتوں پر سنائپرز تعینات ہیں، ہو سکتا ہے کہ ایئرپورٹ جانے والی میٹرو ٹرین بھی کچھ عرصے کے لیے بند کردی جائے کیونکہ وہ اس ہوٹل کے قریب سے گزرتی ہے جہاں وہ ٹھہرے ہوئے ہیں۔۔۔پیر کو دو گھنٹے کے لیے بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی بند رہےگا۔

صدر اوباما کیا کھائیں گے، کیا پئیں گے، خاتون اول میشیل کیا پہنیں گی، کہاں کہاں جائیں گی، اخبارات بس انھیں خبروں سے بھرے پڑے ہیں۔ ’اوباما کا دورہ: دہلی میں آلودگی کی سطح خطرناک۔‘ فکر تو جائز ہے لیکن اوباما کو دو گھنٹے اور دو کروڑ دہلی والوں کو تمام عمر اسی ہوا میں سانس لینا ہے۔

اتوار کی صبح میٹرو کی ٹرینوں میں بھی بات چیت بس اوباما کے دورے تک ہی محدود تھی: ’بچے ساتھ نہیں آئے؟ سکول کھلے ہوئے ہوں گے۔‘

تجزیہ نگار باور کرا رہے ہیں کہ اس دورے کو صرف معاہدوں کے ترازو میں نہیں تولا جانا چاہیے۔ اس کی بے پناہ ’علامتی‘ اہمیت ہے جس کا احاطہ کسی مشترکہ اعلامیے میں نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات شاید اس لیے کہی جا رہی ہے کہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان بڑے بڑے معاہدے تو پہلے بھی ہوئے ہیں لیکن بات آگے نہیں بڑھتی۔

سول نیوکلیئر معاہدے کو کئی سال گزر چکے ہیں لیکن اس پر ابھی عمل شروع بھی نہیں ہوسکا ہے۔گذشتہ کئی برسوں میں شاید دونوں ملکوں کے درمیان سب سے بڑا تنازع جوہری توانائی، ٹیکنالوجی یا ماحولیات پر نہیں بلکہ ایک سفارتکار اور ان کے گھر میں کام کرنے والی خاتون پر تھا۔

دہلی میں سکیورٹی کے ایسے انتظامات پہلے کبھی نہیں کیے گئے، نو فلائی زون نافذ ہے، کچھ سڑکیں بند کر دی گئی ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندہلی میں سکیورٹی کے ایسے انتظامات پہلے کبھی نہیں کیے گئے، نو فلائی زون نافذ ہے، کچھ سڑکیں بند کر دی گئی ہیں

خیر، ہندوستانی تجزیہ نگاروں کے مطابق اب دونوں ملکوں کے تعلقات ایک نئے ’لیول‘ یا سطح پر پہنچ جائیں گے اور امریکہ میں ایک صحافی کا یہ خیال غلط ثابت ہو سکتا ہے کہ ’اوباما صرف یوم جمہوریہ کی پریڈ اور تاج محل دیکھنے دہلی جا رہے ہیں۔‘

بھارت چاہتا ہے کہ امریکہ آؤٹ سورسنگ پر اپنی پالیسی تبدیل کرے، اس کی خاص دلچسپی امریکہ سے جدید ترین ٹیکنالوجی حاصل کرنے اور مشترکہ منصوبوں میں جدید ترین اسلحہ بھارت میں بنانے میں بھی ہے۔

اس کے علاوہ سکیورٹی جیسے پرانے مسائل بھی ہیں، افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا، وہاں پاکستان اور بھارت کا رول، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کے لیے ویزا کے کوٹے میں اضافہ۔۔۔ہندوستان کی خواہشات کی فہرست لمبی ہے۔

امریکہ کی سب سے زیادہ دلچسپی اس قانون میں ترمیم کرانے میں ہے جس کےتحت جوہری حادثات کی صورت میں بجلی گھر سپلائی کرنے والی کمپنیوں کو بھی معاوضے کی ادائیگی کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ راستہ نکالنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن جب یہ قانون بنا تھا تو اس وقت حزب اختلاف بی جے پی نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔ اس لیے قانون میں نرمی کرنا اس کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ امریکہ چاہتا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اِخراج پر بھی بھارت نئی سخت شرائط تسلیم کر لے۔

یہ اہم مذاکرات تو اتوار کی شام تک مکمل ہو جائیں گے لیکن صدر کا دورہ منگل تک جاری رہے گا۔ پیر کو وہ یوم جمہوریہ کی پریڈ دیکھیں گے اور جیسا ایک اخبار نے لکھا ہے، اس پریڈ میں کچھ اسلحہ اتنا پرانا ہے کہ جسے دیکھ کر اوباما کو لگے گا جیسے وہ کوئی پرانی ایلبم دیکھ رہے ہوں۔

بھارت شاید اسی تصویر کو بدلنا چاہتا ہے۔