پانچ چیزیں جو صدر اوباما کو دہلی میں محفوظ رکھیں گی

دہلی میں امریکہ کے صدر براک اوباما کی آمد کی تیاریاں اس وقت زوروں پر ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندہلی میں امریکہ کے صدر براک اوباما کی آمد کی تیاریاں اس وقت زوروں پر ہیں

امریکہ کے صدر اتوار کو بھارت کے تین روزہ دورہ پر دہلی پہنچ رہے ہیں اور اس موقعے پر ان کی سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔

ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے اور کئی سڑکوں کو عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور کئی گلیوں کو ریت کی بوریوں کی مدد سے بند کر دیا گیا ہے۔

سکیورٹی کے ماہرین کے مطابق بے شک یہ بھارتی تاریخ میں سکیورٹی کے سب سے موثر ترین اقدامات ہیں۔

15 ہزار سکیورٹی کیمرے

سکیورٹی کے ماہرین کے مطابق بے شک یہ بھارتی تاریخ میں سکیورٹی کے سب سے موثر ترین اقدامات ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی کے ماہرین کے مطابق بے شک یہ بھارتی تاریخ میں سکیورٹی کے سب سے موثر ترین اقدامات ہیں

اطلاعات کے مطابق دارالحکومت دہلی میں صدر اوباما کی آمد کے موقعے پر 15 ہزار سکیورٹی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

بھارت کے نجی ٹی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق ان میں سے 165 راج پاتھ کے کنگز ایونیو میں اس جگہ پر نصب کیے گئے ہیں جہاں صدر اوباما بیٹھ کر یوم جمہوریہ کی پریڈ دیکھیں گے۔

ان کیمروں کے کنٹرول رومز میں امریکی سکیورٹی اہلکار تعینات ہوں گے جہاں وہ بھارتی حکام کے ساتھ ان کیمروں کی فوٹیج کی نگرانی کریں گے۔

پریڈ کی جانب والی سڑکیں تقریباً ایک ہفتے سے بند ہیں اور سکیورٹی اہلکار ایک ایک انچ کی نگرانی کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صدر کی حفاظت کے لیے امریکہ کے 1500 سکیورٹی اہلکار پریڈ کے دوران دہلی میں تعینات ہوں گے۔

امریکہ کے صدر کسی کھلی تقریب میں زیادہ سے زیادہ 45 منٹ گزارتے ہیں لیکن یوم جمہوریہ کے موقعے پر ڈھائی گھنٹے تک کسی کھلے مقام پر صدر کا ہونا سکیورٹی اہلکاروں کے لیے حفاظتی نقطۂ نظر سے ایک مشکل مرحلہ ہے۔

ہوٹل کے 438 کمرے

اطلاعات کے مطابق صدر اوباما کی سکیورٹی ٹیم پہلے ہی ہوٹل پہنچ چکی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق صدر اوباما کی سکیورٹی ٹیم پہلے ہی ہوٹل پہنچ چکی ہے

امریکی صدر اوباما دہلی کے فائیو سٹار ہوٹل موریا شیرٹن میں قیام کریں گے۔ یہ ہوٹل امریکی صدور کا پسندیدہ رہا ہے اور سابق صدر بل کلنٹن اور جارج بش نے بھارت کے دورے کے دوران اسی ہوٹل کا انتخاب کیا تھا اور خود صدر اوباما نے 2010 میں بھارت کے دورے کے دوران اسی ہوٹل کو ترجیح دی تھی۔

اطلاعات کے مطابق ہوٹل کے تمام 438 کمرے صدر اوباما اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد اور سکیورٹی اہلکاروں کے لیے بک کر لیے گئے ہیں۔ ہوٹل میں باہر سے کسی مہمان کو آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ہوٹل کے عملے میں سے ایک خصوصی ٹیم کا انتخاب کیا گیا ہے جو کہ صدر اوباما اور ان کے وفد کی دیکھ بھال کرے گی۔

اطلاعات کے مطابق صدر اوباما کی سکیورٹی ٹیم پہلے ہی ہوٹل پہنچ چکی ہے اور اس نے تمام کمروں کے دروازوں کے تالے چیک کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایئر کنڈشنگ کے نظام کا معائنہ کیا ہے تاکہ اس میں جاسوسی کا کوئی آلہ نصب نہ ہو۔

صدر اوباما کی کار ’بیسٹ‘

امریکی صدر کی کار بم پروف ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنامریکی صدر کی کار بم پروف ہے

اطلاعات کے مطابق صدر اوباما کی کار دی بیسٹ دہلی پہنچ چکی ہے اور اگر مقامی میڈیا کی اطلاعات پر یقین کیا جائے تو بھارتی اور امریکی سکیورٹی اہلکاروں میں پیر کو صدر اوباما کو تقریب کے مقام پر پہنچانے کے معاملے پر تنازع چل رہا ہے۔

روایت کے مطابق مہمان خصوصی بھارتی صدر کے ساتھ ان کی کار میں پریڈ ایونیو پہنچتا ہے تاہم امریکی سکیورٹی اہلکار چاہتے ہیں کہ وہ اپنی کار بیسٹ میں پریڈ کے مقام پر پہنچیں۔ یہ کار خود ایک قلعہ ہے جس میں صدر کو بم حملے سے محفوظ کرنے صلاحیت ہے اور یہ صدر کو ان کے دفتر سے ہر وقت رابطے میں رکھتی ہے۔

نو فلائی زون

نو فلائی زون کا دائرہ بڑھایا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشننو فلائی زون کا دائرہ بڑھایا جا رہا ہے

بھارت میں اس سے پہلے یوم جمہوریہ کے موقعے پر 300 کلومیٹر کے دائرے میں فضائی حدود بند رکھی جاتی ہے لیکن اس بار توقع ہے کہ اس کا دائرہ بڑھا کر 400 کلومیٹر کر دیا جائے گا۔

اس کا مطلب ہو گا کہ دہلی کے علاوہ آگرہ اور جے پور میں بھی کوئی پرواز نہ تو اتر سکے گی اور نہ اڑان بھر سکے گی۔

اطلاعات کے مطابق صدر اوباما کی سکیورٹی ٹیم نے بھارتی حکام سے پریڈ ایونیو کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں بھی فضائی حدود بند کرنے کی درخواست کی ہے تاہم اس مسترد کر دیا گیا ہے کیونکہ تقریب میں بھارتی فضائیہ کے جنگی جہازوں کا فلائی پاسٹ بھی شامل ہوتا ہے۔

سراغ رساں کتے

جاسوس کے لیے استعمال ہونے والے کتوں کے فوجی رینک بھی ہوتے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجاسوس کے لیے استعمال ہونے والے کتوں کے فوجی رینک بھی ہوتے ہیں

24 کے قریب سراغ رساں کتے صدر اوباما کی سکیورٹی اقدامات کے سلسلے میں امریکہ سے دہلی پہنچ چکے ہیں۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ کتے امریکی خفیہ سروس کے خصوصی ’کے نائن ‘ یونٹ کے ’افسر‘ ہیں اور یہ بھی فائیو سٹار ہوٹل میں اپنے مخصوص سٹائل میں قیام کریں گے۔

دہلی پولیس کے مطابق چار ٹانگوں والے ان افسران میں سے چند ایک کے نام، جورڈن، راک اور فریڈریک ہیں اور یہ پریڈ ایونیو اور ہوٹل پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

امریکی کتوں کے بھی فوجی رینک ہیں اور یہ دھماکہ خیز مواد کی انتہائی معمولی سی مقدار کو سونگ سکتے ہیں اور 40 سے 50 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتے ہیں اور انتہائی خطرناک طریقے سے کاٹتے ہیں۔