اوباما کا یومِ جمہوریہ پر دورہ اہم کیوں ہے؟

اوباما اور مودی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر اوباما اور وزیرِ اعظم مودی میں گذشتہ سال ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد امریکی صدر کو انڈیا کے دورے کی دعوت دی گئی تھی
    • مصنف, پرامیت پال چوہدری
    • عہدہ, تجزیہ کار

امریکی صدر اوباما کے دورۂ بھارت کا سب سے اہم پہلو یہ ہو گا کہ وہ یہاں وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مذاکرات کے علاوہ یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں بھی مہمان خصوصی کے طور پر شامل ہوں گے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی امریکی سربراہ کو انڈیا نے ایسی عزت بخشی ہو اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ دلی اور واشنگٹن کے تعلقات میں اب کتنا استحکام ہے۔

روایتی طور پر انڈیا یومِ جمہوریہ پر ان مہمانوں کو بلاتا ہے جن سے یہاں کوئی تنازع نہیں کھڑا ہوتا اور جن کا تعلق ان ممالک سے ہوتا ہے جن کے ساتھ انڈیا کے قریبی تعلقات ہوتے ہیں۔

اس لیے پاکستان اور چین کے سربراہانِ مملکت کو دعوت نامہ نہیں بھیجا جاتا اور نہ ہی لاطینی امریکہ سے کبھی کوئی آیا ہے۔

اس سے یہ پتہ بھی چلتا ہے کہ امریکہ اور انڈیا کے تعلقات کتنے مشکل رہے ہیں کیونکہ دلی کو امریکی صدر کو اس تقریب کا دعوت نامہ بھیجنے میں سات دہائیاں لگی ہیں۔

اگرچہ اس بات پر بہت توجہ دی جا رہی ہے جسے سفارت کار ’ڈلیور ابلز‘ (معاہدے یا سودے) کہتے ہیں، اور جو دونوں سربراہانِ مملکت کی ملاقات کے نتیجے میں طے پائیں گے، لیکن اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ یہ دورہ زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہو گا۔

صدر اوباما اور وزیرِ اعظم مودی کے درمیان ایک کامیاب اجلاس گذشتہ سال ستمبر میں ہوا تھا اور حالیہ دعوت نامہ اس وقت دیا گیا تھا جب دونوں رہنما گذشتہ نومبر مشرقی ایشیا کے اجلاس میں برما میں ملے تھے۔

دونوں طرف سے اہلکار اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کسی حقیقی ایجنڈے کو طے کرنے کے لیے ان کے پاس بہت کم وقت تھا۔

یومِ جمہوریہ کے اجلاس کا بہتر ایجنڈا جن پر دوطرفہ مذاکرات مرکوز رہیں گے وہ دفاع، توانائی اور انسدادِ دہشت گردی ہو سکتا ہے۔

یہ زیادہ تر حکومتوں کے لیے حساس مسئلے ہیں اور ان میں مذاکرات کی گہرائی سے پتہ چلے گا کہ دونوں ممالک کتنے قریب آ چکے ہیں۔

دفاع کے شعبے میں تعلقات میں اہم بات ہتھیاروں کی خرید و فروخت کم ہو گی بلکہ انڈیا اور امریکہ باہمی طور پر یہ کوشش کریں گے کہ کس طرح مل کر ہتھیاروں کی نئی جنریشن یا نسل بنائی جا سکتی ہے۔

یہ خیال دونوں ممالک کو بہت پہلے آیا تھا اور دونوں ممالک کے دارالحکومتوں میں کوشش ہو رہی تھی کہ کس طرح سیاسی اور نوکر شاہی کی طرف سے پیدا ہونے والی مزاحمت سے نمٹا جائے۔

توقع ہے کہ اس طرح کے کم از کم ایک معاہدے پر اگلے ماہ دستخط ہو جائیں گے۔

امریکہ نے کچھ درجن ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے نظام کی پیشکش کی ہے۔

انڈیا خصوصی طور پر ڈرونز اور کیریئر ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتا ہے جو اس کی فضائی اور بحری طاقت کی صلاحیت کو نمایاں کر سکیں۔

یومِ جمہوریہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنانڈیا اپنے یومِ جمہوریہ پر صرف ان ممالک کے سربراہان کو بلاتا ہے جس سے اس کے بہت اچھے تعلقات ہوتے ہیں

توانائی میں دونوں حکومتوں کو قناعت پسندانہ دلچسپیوں کی تلاش ہے جو نامیاتی ایندھن کی ترسیل بہتر کر سکیں اور ماحولیاتی تبدیلی کو روک سکیں۔

اس حوالے سے صدر اوباما اور وزیرِ اعظم مودی دوسرے عالمی رہنماؤں سے قدرے غیر معمولی ہیں کیونکہ کہ وہ ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ عالمی حدت بہت اہم تر مسئلہ نہیں ہے۔

اس طرح امریکہ انڈین حکومت کے قابلِ تجدید توانائی خصوصاً شمسی توانائی کے منصوبوں کا بہت بڑا حامی ہے۔ یقیناً اس کے نظر کمرشل مواقع پر بھی ہے۔ اس لیے انڈیا اور امریکہ کے درمیان ستمبر مذاکرات گرین اینرجی سے بھرے پڑے تھے۔

انڈیا کی نظریں امریکہ کی سستی قدرتی گیس کی طرف لگی ہوئی ہیں اور وہ واشنگٹن سے اس کی درآمد کے طویل مدتی وعدے چاہتا ہے۔

اس کے بدلے میں امریکہ چاہے گا کہ انڈیا اپنے جوہری قوانین میں تبدیلی لائے جو امریکہ اور دوسرے ممالک کے لیے انڈیا کو ری ایکٹروں بیچنے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

امکان ہے کہ ان میں سے کوئی بھی مسئلہ اس اجلاس میں حل نہیں ہو گا، اگرچہ ان پر بات چیت کا امکان ضرور ہے۔

دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی کو انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی سے دو وجوہات پر ماپا جا سکتا ہے۔

اول یہ کہ انڈیا اس بات پر ہمیشہ پریشان رہتا ہے کہ امریکہ اس کے حریف ملک پاکستان کے ساتھ کس حد تک خفیہ معلومات کے تبادلے میں تعاون کرتا ہے۔ جتنا زیادہ امریکی اور انڈین انٹیلی جنس ایجنسیاں مل کر کام کرتی ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات پر پاکستان کا سایہ اتنا ہی کم اہم ہو گا۔

لیکن اب بھی بہت حد تک امریکہ اور انڈیا دہشت گردی کے حوالے سے اہم معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

دونوں ممالک سائبر سکیورٹی پر بھی مل کر کام کر رہے ہیں۔

تاہم دونوں رہنماؤں کی توجہ اندرونی مسائل پر زیادہ ہے اور وہ خارجہ پالیسی کو اپنے اپنے ممالک میں اقتصادی اور سوشل ایجنڈے کے سائیڈ شو پر دیکھ رہے ہیں۔

دونوں ملک جس مسئلے پر بالکل ایک دوسرے کے مخالف ہیں، وہ امریکہ کی پاکستان اور افغانستان کے بارے میں پالیسی ہے۔ لیکن جب چین اور مشرقی ایشیا کی بات آتی ہے تو دونوں بالکل ایک ہی طرح کے خیالات کے حامی ہیں۔

(پرامیت پال چودھری ہندوستان ٹائمز کے خارجی امور کے ایڈیٹر ہیں)