امریکی عدالت میں مودی کے خلاف دائر مقدمہ خارج

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

امریکہ میں ایک وفاقی عدالت کے جج نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف دائر مقدمہ خارج کر دیا ہے۔

یہ مقدمہ انسانی حقوق کے گروپ امریکن جسٹس سینٹر کی جانب سے نیویارک کے جنوبی ڈسٹركٹ جج کی عدالت میں دائر کیا گیا تھا۔

مودی کے دورۂ امریکہ سے قبل دائر کیے جانے والے مقدمے میں ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ بھارتی ریاست گجرات میں سنہ 2002 میں ہونے والے فسادات میں مبینہ طور پر شامل تھے۔

مودی ان مسلم کش فسادات کے وقت ریاست کے وزیر اعلی تھے اور ان فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

امریکی جج اینالیزا ٹوریس نے یہ کہتے ہوئے معاملہ خارج کیا کہ مودی کو بطور وزیرِ اعظم استثنیٰ حاصل ہے اور کسی ملک کے سربراہ کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

درخواست میں وزیر اعظم مودی پر تین سنگین الزام لگائے تھے لیکن تینوں ہی الزام خارج کر دیے گئے ہیں.

گزشتہ ستمبر مہینے میں جب مودی امریکہ پہنچنے والے تھے اسی دوران نیویارک کی ایک عدالت نے ان کے خلاف سمن جاری کیے تھے اور جواب دینے کو کہا تھا۔

اسی دوران امریکی وزارت خارجہ نے کہا تھا وہ بھارتی وزیر اعظم کو ان کے عہدے کی وجہ سے کسی بھی طرح کے قانونی معاملے سے الگ سمجھتا ہے۔

امریکی عدالت کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر براک اوباما بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔

براک اوباما 26 جنوری کو بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ انھیں اس دورے کی دعوت نریندر مودی نے اپنے دورۂ امریکہ کے دوران دی تھی۔

امریکہ اور یورپی ممالک تقریباً ایک دہائی تک گجرات فسادات اور انسانی حقوق کی صورتحال کو بنیاد بنا کر نریندر مودی کو ویزا دینے سے انکار کرتے رہے تاہم ان کے وزیرِ اعظم بننے کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔