2014: بھارت نے کیا کھویا کیا پایا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یہ وہ سال تھا جس نے بھارت کو نیا وزیرِاعظم اور ایک نوبیل انعام جیتنے والی شخصیت دی اور ساتھ ہی ساتھ اسی سال ہی بھارت نے ایک مصنوعی سیارہ کامیابی کے ساتھ مریخ کے مدار میں بھی بھیجا۔
سنہ 2014 میں ہی بھارت نے عالمی ادارۂ صحت سے پولیو فری ملک کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
لیکن اس کے ساتھ اس سال مصیبتیں اور دکھ بھی آئے۔بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بدترین سیلاب آیا اور ملک کے مشہور مصنف خشونت سنگھ انتقال کر گئے۔
مودی کی فتح

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں وزیرِ اعظم مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کی۔
2013 کے آخر میں مودی کو وزیرِ اعظم کا امیدوار بنائے جانے سے پہلے انھیں پارٹی کے سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی سے سخت مقابلہ کرنا پڑا۔
انھوں نے کانگریس اور دیگر جماعتوں کی مخالفت کے باوجود اپنی جماعت کے لیے واضح اکثریت سے کامیابی سے ہمکنار کیا۔
مبصرین کہتے ہیں کہ مودی نے اپنی انتخابی مہم صدارتی انداز میں چلائی اور وہ یہ باور کرانے میں بھی کامیاب رہے کہ انتخابات میں ان کی شاندار کامیابی دراصل ان کی لیڈرشپ کے حق میں ایک ریفرنڈم تھا۔
ناقدین ان کی رہنمائی کو مغربی ریاست گجرات کے متنازعہ وزیرِ اعلیٰ کے ریکارڈ کی بنیاد پر تنقدی کا نشانہ بناتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مودی کو گجرات کی ریاست کو ایک اقتصادی طاقت بنانے والا سمجھا جاتا ہے لیکن ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ انھوں نے سنہ 2002 میں مسلم کش فسادات کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا تھا جس میں 1000 سے زائد لوگ ہلاک ہو گئے تھ جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
وہ تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
کیجری وال کا استعفیٰ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اگر مودی نے عام انتخابات جیت کر اپنی جماعت کے لیے تاریخ رقم کی تو ان کے مقابلے میں کرپشن کے خلاف نئی جماعت عام آدمی پارٹی (اے اے پی) انتخابات میں بری طرح ہاری۔
مبصرین کا خیال ہے کہ عام آدمی پارٹی کی ناکامی کی وجہ اس کے رہنما اروند کیجری وال کا 49 دن بعد ہی دلی کی وزارتِ اعلیٰ چھوڑنے کا فیصلہ بنا۔
کیجری وال نے فروری میں ریاستی اسمبلی میں بدعنوانی کے خلاف پیش کیے جانے والے بل کو بلاک کیے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دیا تھا۔
عام آدمی پارٹی 2011 میں بھارت میں کرپشن کے خلاف چلنے والی ایک بڑی تحریک کے بعد وجود میں آئی تھی۔
مریخ کا مشن

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
2014 کی سب سے بڑی کامیابی کی کہانی سپیس ٹیکنالوجی تھی۔ 24 ستمبر کو بھارت کے مارس آربیٹر مشن نے، جسے منگلاین کہا جاتا ہے، کامیابی کے ساتھ سرخ سیارے کا چکر شروع کیا۔
اس کے ساتھ بھارت دنیا کا واحد ملک بن گیا جس نے پہلی ہی کوشش میں مریخ کے گرد خلائی جہاز چھوڑ دیا۔
مشن کی کامیابی پر ملک کے خلائی تحقیق کے ادارے سپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کو پوری دنیا میں پذیرائی ملی۔
وزیرِ اعظم نریندرا مودی نے کہا کہ مشن پر ہالی وڈ کی فلم ’گریویٹی‘ سے بھی کم خرچہ آیا ہے۔
نوبیل انعام

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یہ سال اس لیے بھی یاد رکھا جائے گا کہ اس سال بھارت کے بچوں کے حقوق کی مہم چلانے والے کیلاش ستیارتھی کو پاکستان کی تعلیم کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ملالہ یوسفزئی کے ساتھ امن کا نوبیل انعام دیا گیا۔
60 سالہ ستیارتھی بھارت میں ایک غیر سرکاری تنظیم بچن بچاؤ اندولن چلاتے ہیں جو چائلڈ لیبر کو روکنے کے لیے سرگرم ہے۔
ان کی کوششوں کی وجہ سے پورے بھارت میں اب تک 80,000 سے زیادہ بچوں کو مختلف فیکٹریوں اور ورکشاپوں سے آزاد کرایا جا چکا ہے۔
پولیو فری بھارت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مارچ میں عالمی ادارۂ صحت نے بھارت کو پولیو سے پاک ملک قرار دیا اور اس طرح اس نے اس بیماری کے خلاف ایک لمبی جنگ کے بعد کامیابی حاصل کی۔
مبصرین کہتے ہیں کہ بھارت کے ہیلتھ کیئر کے خراب نظام کو سامنے رکھتے ہوئے یہ ایک حیرت انگیز کامیابی ہے۔
اس کامیابی کا سہرا صحت کے محکمے کے حکام اور ویکسینیشن کی ٹیموں کو جاتا ہے جنھوں نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے امیونائزیشن کی انتھک مہم چلائی اور بالآخر کامیابی حاصل کی۔
کشمیر کا سیلاب

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ستمبر میں آنے والے سیلاب سے کم از کم 270 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ہزاروں بے گھر۔
انڈین فوج کو بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لیے تعینات کیا گیا۔
ریاست میں 60 سال میں آنے والے سب سے برے سیلاب میں پورے کے پورے گاؤں ڈوب گئے اور سڑکوں اور مواصلاتی رابطے بھی کٹ گئے۔
تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دارالحکومت سرینگر کے اہم علاقوں میں پانی بھرا ہوا تھا اور لوگ چھتوں پر کھڑے ریسکیو کا انتظار کر رہے تھے۔
بھارت کی 29 ویں ریاست

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کئی برسوں کے پر تشدد مظاہروں کے بعد بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کو 2 جون کو تقسیم کر کے ایک نئی ریاست بنا دی گئی جسے تلگانا کا نام دیا گیا۔
تلنگانا راشٹرا سمیتھی پارٹی کے کے چندراشیکھر راؤ نے بھارت کی اس 29 ویں ریاست کے وزیرِاعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔
راؤ اور ان کی جماعت نے 14 سال کی کوششوں کے بعد یہ نئی ریاست حاصل کی ہے۔
تلنگانا کے عوام نے اس نئی ریاست پر خوشیاں منائیں جبکہ آندھرا پردیش میں لوگ مایوس ہوئے۔
جو 2014 میں ہمیں چھوڑ گئے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت نے 2014 میں ادب اور پبلک ہیلتھ کے شعبے میں کچھ لوگ بھی کھوئے۔
ملک کے نامور مصنفین میں سے ایک خشونت سنگھ کا 20 مارچ کو 90 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ انھوں نے بہت سی کتابیں لکھیں جن میں ’ٹرین ٹو پاکستان‘ بہت مشہور ہے۔
یوگا کے گرو بی کے ایس آئینگر 95 ویں برس کی عمر میں 20 اگست کو انتقال کر گئے۔
انھوں نے دیگر مشہور شخصیات جن میں مصنف آلڈس ہگزلے اور وائلن نواز یہودی مینوہن شامل ہیں، کو یوگا سکھایا۔







