بھارتی مریخ پر رہائش پذیر ہونے کے شوقین کیوں؟

منصوبے کے مطابق مریخی بستی میں ہر دو سال کے بعد چار مزید افراد شامل ہوتے رہیں گے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمنصوبے کے مطابق مریخی بستی میں ہر دو سال کے بعد چار مزید افراد شامل ہوتے رہیں گے
    • مصنف, آجے شرما
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی

’میں اجنبی مخلوق سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ ہم کائنات میں اکیلے نہیں ہیں۔ اگر ممکن ہو تو میں کچھ وقت کے لیے زمین اور کچھ وقت کے لیے مریخ پر رہنا چاہتا ہوں۔‘

یہ خیالات انجینیئرنگ کے طالب علم آمولا ندہی راستوگی کے ہیں جو بھارتی دارالحکومت دہلی کے مضافاتی علاقے گوڑ گاؤں کی رہائشی ہیں۔

21 سالہ راستوگی ان 1058 درخواست گزاروں میں سے ایک ہیں جنھیں مریخ کے یک طرفہ سفر کے لیے ابتدائی مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

ولندیزی تنظیم ’مارز ون‘نے 2024 میں مریخ کا یک طرفہ ٹکٹ جاری کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد دنیا بھر سے 20 لاکھ افراد نے مریخ کے یک طرفہ سفر پر جانے کی درخواستیں بھیجی تھیں اور ان میں سے اب تک 1058 کو منتحب کیا گیا ہے۔ اس کے بعد دوسرے، تیسرے اور آخری مرحلے میں صرف 24 افراد کو مریخ کے سفر پر روانہ کیا جائے گا۔

درخواست گزاروں میں امریکہ کے بعد سب سے زیادہ 62 بھارتی شہری شامل ہیں۔

حتمی امیدواروں کو مریخ کے سفر پر روانہ کیے جانے سے پہلے 2015 سے سات سالہ تربیت شروع کی جائے گی۔

آمولا ندہی مریخ پر اجنبی مخلوق سے ملنا چاہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنآمولا ندہی مریخ پر اجنبی مخلوق سے ملنا چاہتے ہیں

منتخب افراد کو خود کو حالات میں ڈھالنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی تربیت اور ایک چھوٹے گروہ میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کرنے اور رہنے کا اہل بنایا جائے گا۔

بھارتی درخواست گزاروں میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ان میں طالب علم، چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والے، بازارِ حصص کے سٹاک بروکر اور اعلیٰ نوکریوں پر فائز افراد شامل ہیں۔

مثال کے طور پر ان میں مشرقی شہر کلکتہ کے رہائشی 24 سالہ آرندم ساہا بھی شامل ہیں۔ وہ توانائی کے متبادل ذرائع کے شعبے میں کام کرتے ہیں اور انھوں نے مریخ کے سفر کے لیے شادی کا ارادہ ملتوی کر دیا ہے۔

آرندم کے مطابق: ’مجھے شک تھا کہ ایک ایسے شخص سے کوئی خاتون شادی نہیں کرے گی جو مریخ پر رہائش پذیر ہونا چاہتا ہو۔ اسی لیے میں نے شادی کا ارادہ ترک کر دیا ہے، میری کوئی محبوبہ نہیں اور نہ ہی شادی کرنے کی کوئی خواہش ہے۔‘

درخواست دینے کی فہرست میں ممبئی سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ سٹاک بروکر اشیش مہتا بھی شامل ہیں۔ اشیش کے مطابق ان کے مستقبل کی منصوبہ بندی میں مریخ کا سفر شامل ہے۔

آرندم مریخ پر جانے کے شوق کی وجہ سے شادی نہیں کر رہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنآرندم مریخ پر جانے کے شوق کی وجہ سے شادی نہیں کر رہے

’میں 20 سال سے شادی کے بندھن میں ہوں، میرا ایک 19 سالہ بیٹا اور ایک 17 سالہ بیٹی ہے، میں نے اپنے مکان کی قسطیں ادا کر دی ہیں اور پانچ سے چھ کروڑ روپے کا سرمایہ میرے پاس ہے، میرا خیال ہے کہ میں نے اپنے خاندان کے لیے بہت کچھ کر دیا ہے۔‘

اشیش کے مطابق: ’جب میں مریخ کے سفر پر روانہ ہوں گا تو اس وقت میرے بیٹے کی عمر 29 سال اور بیٹی کی عمر 27 سال ہو گی۔ اس وقت تک انھوں نے یقینی طور پر اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد شادی کر لی ہو گی۔ میری خواہش ہے کہ جب میں سفر پر روانہ ہوں تو اپنے پوتوں، نواسوں کو دیکھ کر جاؤں۔‘

اگرچہ کامیاب درخواست گزاروں کو مریخ کے سفر کے لیے تربیت دی جائے گی لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ ایک ایسے سیارے پر گزارا کیسے کریں گے جہاں زندگی کے لیے حالات سخت غیرموافق ہیں۔

مریخ کی فضا بہت ہلکی ہے، وہاں موسم شدید سرد ہے اور پانی ممکنہ طور پر ہے تو سہی، لیکن زیرِ زمین منجمد حالت میں۔

خطرناک تابکار ذرات سے لیس شمسی جھکڑ ایک اور پریشانی ہیں۔ اس کے علاوہ سرمائے اور ٹیکنالوجی کے حصول کے بارے میں بہت سے سوالات حل طلب ہیں۔

ونود کے مطابق زندگی میں ایسا موقع ایک بار ہی آتا ہے اور وہ اسے ہاتھ سے جانا نہیں چاہتے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنونود کے مطابق زندگی میں ایسا موقع ایک بار ہی آتا ہے اور وہ اسے ہاتھ سے جانا نہیں چاہتے

جیراڈ ہوفٹ جیسے نمایاں سائنس دان حیران ہیں کہ مریخ کے سفر کے لیے سرمایہ کہاں سے حاصل کیا جائے گا کیونکہ منتخب کردہ امیدواروں سے کوئی معاوضہ نہیں لیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ میرے پاس اندازہ لگانے کا کوئی طریقہ نہیں کیونکہ یہ پروگرام انتہائی مہنگا ہے۔

لیکن مارز ون کے شریک بانی بیس لینڈورپ کو یقین ہے کہ وہ دس سالوں میں انسان کو کامیابی سے مریخ پر اتار سکتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کو اس مشن کے لیے چھ ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور اس رقم کو ہائی پروفائل عطیات اور نشریاتی حقوق فروخت کر کے حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔

بیس لینڈورپ کے مطابق: ’اگر لندن اولمپکس تین ہفتے کے ایونٹ میں نشریاتی حقوق اور تشہیری ذرائع سے چار ارب ڈالر حاصل کر سکتا ہے تو مارز ون ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟ یہ ایسا ہی ہو گا کہ لوگ اولمپک مقابلے، غیر معمولی لوگوں اور چیزوں کو دیکھ رہے ہیں۔‘

دریں اثنا بھارتی درخواست گزار مریخ پر انسانوں کو بسانے کے سلسلے میں پرامید ہیں۔ توانائی کے ایک سرکاری ادارے میں مینیجر ونود کوٹیا کے مطابق وہ مریخ پر جا کر مثال قائم کرنا چاہتے ہیں:

’میں اس خوف سے نہیں جا رہا کہ زمین پر کسی دن کچھ ہو جائے گا، میں مثال قائم کرنا چاہتا ہوں اور زندگی میں ایسا موقع ایک بار ہی ملتا ہے اور میں اسے کسی صورت میں ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا۔‘