افغان کابینہ کے مسائل

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

افغان پارلیمان وزارتی امیدواروں کی اہلیت اور موزونیت کے حوالے سے ملک میں جاری بحث کے دوران ایک نئی کابینہ پر ووٹ کی تیاری کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ صدر اشرف غنی کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے چار ماہ بعد بھی کئی وزارتیں بغیر کسی سربراہ کے ہیں۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے گذشتہ سال ستمبر میں اقتدار اشتراک پر اتفاق کرنے کے باوجود افغانستان میں ابھی تک وزارتیں تشکیل نہیں دی جا سکی ہیں۔

افغانستان میں وزرا کی تعیناتی کے حوالے سے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے طویل مذاکرات کے بعد اتفاق کیا تھا تاہم دونوں کو اپنی پسند کے امیدواروں کی تعیناتی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔

افغان کابینہ میں وزیر زراعت کے طور پر یعقوب حیدری کا نام انٹرپول کی ’موسٹ وانٹڈ‘ فہرست میں آ جانے کے بعد انھیں اپنا نام واپس لینا پڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

انٹرپول کے مطابق محمد یعقوب حیدری ایسٹونیا میں سنہ 2003 میں وسیع پیمانے پر ٹیکس چوری کرنے کے الزام مطلوب ہیں جبکہ ان کا موقف ہے کہ وہ اس فہرست میں ضرور ہیں تاہم وہ سیاسی سازش کا شکار ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ کابینہ میں وزیرِ خزانہ کے طور غلام جیلانی پوپل افغان صدر سے کئی معاملات پر اختلافات کی وجہ سے وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالنےسے انکار کر چکے ہیں۔

افغان کابینہ میں پانی اور توانائی کے مجوزہ وزیر محمود سیکال کو بھی آخری لمحات میں ہٹا دیا گیا تھا جس کے بعد مغربی افغانستان سے تعلق رکھنے ایک دوسرے امیدوار کو منتخب کیا تھا۔ اس انتخاب کی بنیادی وجہ افغان ووٹروں کے علاوہ افغانستان کے اقتدار اشتراک کا معاہدے کروانے والوں کو مطمئن کرنا تھا۔

افغان کابینہ کی تشکیل میں سب سے بڑی رکاوٹ دوہری شہریت کا معاملہ ہے۔

افغان پارلیمان پہلے ہی کابینہ کے لیے نامزد سات ارکان کو دوہری شہریت کی وجہ سے ان کی بطور وزیر تعیناتی منسوخ کر چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

افغانستان کے ڈپٹی سپیکر صالح محمد سلجوقی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ دوہری شہریت کے حامل کسی بھی شخص کو اپنے کاغداتِ نامزدگی جمع کروانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے صدر اشرف غنی سے کہہ دیا ہے کہ وہ کابینہ کی تشکیل کے لیے نئے نام فراہم کریں۔

افغانستان کے ممکنہ وزیرِ داخلہ اور وزیرِ خارجہ کے عہدوں کے لیے نامزد افراد نا اہل قرار دے جا چکے ہیں جبکہ ایک اور اہم عہدے کے لیے تین میں سے ایک خاتون کو بھی نا اہل قراد دیا جا چکا ہے۔

افغان پارلیمان کے ارکان کا اصرار ہے کہ دوسرا پاسپورٹ رکھنے والے افراد وزیر کے عہدے کے لیے اہم چیز دیانتداری پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں اور بدعنوانی میں ملوث ہونے کی صورت میں وہ آسانی سے ملک چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔

افغانستان کا آئین دوہری شہریت رکھنے والوں کو واضح طور پر وزیر نامزد کیے جانے کے لیے نااہل قرار نہیں دیتا۔ لیکن آئین پارلیمان کو یہ اختیار دیتا ہے کہ دوہری شہریت کے حامل افراد کو وزیر بننے سے روک دے یا ان کی نامزدگی کو تسلیم کر لے۔

خیال رہے کہ افغان پارلیمان کے اکثریتی ارکان نے گذشتہ ماہ دوہری شخصیت والے کسی بھی شخص کی مستقبل میں وزارت کے لیے نامزد گی کو رد کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

دوسری جانب افغانسان کے شمالی صوبے سے تعلق رکھنے والے فرہاد عظیمی نے بی بی سی کو بتایا اس حوالے سے کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوہری شہریت رکھنے والے افغانی بھی اپنے ملک کے ساتھ مخلص ہیں اور وہ نسل در نسل افغانی ہیں اور وہ غیر ملکی نہیں ہو سکتے۔

،تصویر کا ذریعہAP

بی بی سی کی افغان سروس کے فون پروگرام میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے متعدد افغانیوں کا کہنا تھا کہ ملک میں وزرا کی تعیناتی کے حوالے سے بھی زیادہ اہم معاملات ہیں۔

ایک افغانی باشندے بشیر کا کہنا تھا کہ دوہری شہریت زیادہ اہم معاملہ نہیں ہے بلکہ نامزد وزرا کی اہلیت زیادہ اہم معاملہ ہے۔

ایک دوسرے افغانی حشمت اللہ کے مطابق دوہری شہریت کے معاملے کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے لیکن یہ اتنا اہم معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔

ایک اور شخص موباصر معارف کے مطابق وزرا کے لیے صرف افغانستان کی شہریت ہونی چاہیے تاکہ وہ ملک کی بہتر طریقے سے خدمت کر سکیں۔

فواد رجابی نے کہا کہ دوہری شخصیت کے حامل نامزد وزرا ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔

افغانستان میں بدعنوانی کا مسئلہ بھی ایک اہم معاملہ رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق ملک میں ہونے والے گذشتہ انتخابات میں وزرا نے ووٹوں کے ساتھ ساتھ ان کی وفاداریاں بھی خریدنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ملک میں برداشت کا کلچر اپنانے کا وعدہ کیا ہے۔

افغان صدر کے ترجمان نظیف اللہ سالارزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ کوئی بھی رکنِ پارلیمان بدعنوانی میں ملوث ہے تو وہ اگلے لمحے سے رکنِ پارلیمان نہیں رہے گا۔

صدر اشرف غنی نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوگ بد عنوانی سے تنگ آ چکے ہیں اور اگر کسی وزیر پر شبہ ہوا کہ وہ بد عنوانی میں ملوث ہے تو اسے مستعفی ہونا پڑا گا اور اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر میں بھی غلطی کروں تو میرے خلاف بھی مقدمہ چلایا جائے۔