کشمیر میں انتخابات کے چوتھے مرحلے میں ووٹنگ

سرینگر کے پرانے شہر کے علاقے میں انتخابی بائیکاٹ کا اثر ووٹنگ کی شرح پر زیادہ پڑا
،تصویر کا کیپشنسرینگر کے پرانے شہر کے علاقے میں انتخابی بائیکاٹ کا اثر ووٹنگ کی شرح پر زیادہ پڑا

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے چوتھے مرحلے میں اتوار کو دارالحکومت سرینگر کے علاوہ تین علاقوں میں 18 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

سرینگر کو پولنگ کے حوالے سے حساس ترین ضلع قرار دیا گیا اور یہاں سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے گئے تھے۔

گذشتہ تین مرحلوں کی طرح اتوار کو بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے سخت سردی اور علیحدگی پسندوں کی بائیکاٹ کال کے باوجود پولنگ مراکز کا رُخ کیا تاہم سری نگر کے اکثر حلقوں میں بائیکاٹ کا اثر بھی نمایاں تھا۔

اس دوران وادی بھر میں الیکشن مخالف ہڑتال رہی اور بعض مقامات پر لوگوں نے الیکشن مخالف مظاہرے کیے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولنگ اپنے مقررہ وقت یعنی صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور تاحال کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

اس بار انتخابات کے دوران جموں و کشمیر میں ووٹنگ کی شرح ماضی کے مقابلے میں کافی بہتر رہی ہے۔

ریاست میں 25 نومبر اور دو اور نو دسمبر کو الیکشن کے ابتدائی تین مراحل میں ریکارڈ ووٹ ڈالے گئے اور ووٹنگ کی شرح بالترتیب 71، 71 اور 58 فیصد رہی۔

مرکز میں بر سر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر میں بھی اقتدار میں آنے کے لیے ضروری 44 نشستوں کو حاصل کرنے کے لیے سرگرمی سے انتخابی مہم چلا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمرکز میں بر سر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر میں بھی اقتدار میں آنے کے لیے ضروری 44 نشستوں کو حاصل کرنے کے لیے سرگرمی سے انتخابی مہم چلا رہی ہے

تاہم اس مرحلے میں سرینگر کے پرانے شہر کے علاقے میں انتخابی بائیکاٹ کا اثر ووٹنگ کی شرح پر پڑ سکتا ہے۔

بی بی سی ہندی کے فیصل محمد علی کے مطابق اتوار کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی جن 18 نشستوں کے لیے پولنگ ہوئی ہے ان میں حکمراں پارٹی نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔

سرینگر ماضی میں نیشنل کانفرنس کا مضبوط گڑھ رہا ہے جبکہ جنوبی کشمیر میں اننت ناگ اور شوپياں کی آٹھ میں سے دو کے علاوہ تمام نشستیں پی ڈی پی کے پاس ہیں۔

18 میں سے دو نشستیں سامبا میں ہیں جو جموں کا علاقہ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مرکز میں بر سر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر میں بھی اقتدار میں آنے کے لیے ضروری 44 نشستیں حاصل کرنے کے لیے سرگرم انتخابی مہم چلا رہی ہے۔

ان انتخابات میں جہاں سابق علیحدگی پسند سجاد لون سے بھی بی جے پی کے قریبی رشتے کی بات ہوتی رہی ہے وہیں نیشنل کانفرنس کے سابق رہنما شفيع بھٹ کی بیٹی حنا بھٹ کو بی جے پی کا ’ کشمیر میں مسلمان چہرہ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

حنا بھٹ کے انتخابی علاقے اميركدل میں بھی اتوار کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

کشمیر کی ریاستی اسمبلی کی کل 87 نشستیں ہیں اور یہاں چوتھے اور پانچویں مرحلے میں 14 اور 20 دسمبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 23 دسمبر کو ہوگی۔

بی جے پی نے منصوبہ بنایا ہے کہ سرینگر کے جلسے میں کم از کم ایک لاکھ لوگ آئیں اور اس کے لیے مقامی رہنماؤں کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

کشمیر میں اسمبلی کی کل 87 نشستیں ہیں اور پہلے دو مرحلوں میں ریکارڈ ووٹ ڈالے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکشمیر میں اسمبلی کی کل 87 نشستیں ہیں اور پہلے دو مرحلوں میں ریکارڈ ووٹ ڈالے گئے تھے

جلسے کی ذمہ داری سنبھالنے والے بی جے پی کے رہنما الطاف ٹھاکر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’لوگوں کو جلسے کے مقام تک لانے کے لیے تین ہزار بسیں کرائے پر لی گئی ہیں۔‘

آنے والے لوگوں کو تکلیف سے بچانے کے لیے حفاظتی انتظامات کو قدرے ’پوشیدہ‘ رکھا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی نے آرٹیکل 370 اور افسپا (اے ایس ایف پی اے) جیسے مسائل سے علیحدگی اختیار کر رکھی ہے جبکہ بی جے پی کو گھیرنے کے لیے نیشنل کانفرنس کا زور پوری طرح سے آرٹیکل 370 پر ہی رہا ہے۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بحث جاری ہے اور اسے انتخابی مہم کا حصہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس قبل بھی بھارتی وزیر اعظم کشمیر کا کئي بار دورہ کر چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس قبل بھی بھارتی وزیر اعظم کشمیر کا کئي بار دورہ کر چکے ہیں

تین دن پہلے ہی بارہ مولہ ضلعے کے اوڑی سیکٹر میں ایک فوجی کیمپ پر شدت پسند حملے میں 23 سکیورٹی اہل کار مارے گئے تھے۔ اس حملے میں تمام چھ شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔

تیسرے مرحلے میں نو دسمبر کو 16 اسمبلی حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے جن میں اوڑي، رافيہ آباد، سوپور، سگراما، بارہ مولہ، گلمرگ، پٹن، چھدورا، بڈگام، بيرواہ، خان صاحب، چرار شریف، ترال، پامپور، پلوامہ اور راج پورہ شامل ہیں۔