کشمیر میں بی جے پی کا ’مسلمان چہرہ‘

،تصویر کا ذریعہepa
- مصنف, سنجے مجمدار
- عہدہ, بی بی سی نیوز، سرینگر
سرینگر کے محلے امیرا کدال میں سیاہ کپڑوں میں ملبوس، سر پر سکارف لیے ایک جوان خاتون لوگوں کے گھروں پر دستک دے رہی ہے۔
لوگ محلے کی تنگ گلیوں میں اکھٹے ہونا شروع ہو جاتے ہیں، کچھ اپنی کھڑکیوں سے باہر جھانک رہے ہیں، اور خواتین اس جوان خاتون کے گرد جمع ہوجاتی ہیں۔ کوئی اس کے گال پر پیار سے ہاتھ لگاتی ہے تو باقی عورتیں اس سے باری باری گلے مل رہی ہیں۔
اس خاتون کا نام ہے حنا بھٹ جو کہ اس منگل کو شروع ہونے والے جموں و کشمیر کی اسمبلی کے انتخابات میں امیدوار ہیں۔ مسلم اکثریت کی اس ریاست میں حنا بھٹ کو توقع سے زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ حنا بھٹ ہیں تو کشمیری مسلمان ، مگر وہ انتخاب ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے ٹکٹ پر لڑ رہی ہیں۔
کشمیر کی سیاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کبھی بھی قابل ذکر جماعت نہیں رہی اور اس ریاست کے بھارت کے ساتھ نازک تعلقات کے حوالے سے بی جے پی کے سخت موقف کی وجہ سے وادی کشمیر میں بی جے پی کی حمایت نہ ہونے کے برابر ہے۔
لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کشمیری رائے دہندگان کے دل جیتنے کی مشکل بازی کھیلنے جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اپنی حامیوں کی بھیڑ اور سکیورٹی اہلکاروں کے جھرمٹ میں تنگ سی گلی سے گزرتے ہوئے حنا بھٹ نے کہا کہ ’ کشمیریوں کو جو چیز اصل میں چاہیے وہ ہے ترقی، اور جس چیز کا وعدہ مسٹر مودی کر رہے ہیں وہ ترقی ہی ہے۔‘
’ہمارے نوجوان بیزار ہیں۔ نہ کوئی نوکری ہے نہ کوئی مواقع۔ ہمارا ارادہ ہے کہ اس کو تبدیل کریں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نازک تعلقات
جہاں تک وادی کا تعلق ہے تو یہاں انتخابی مہم بہت ہی کم دکھائی دے رہی ہے۔ آپ سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں کی تعداد انگلیوں پرگن سکتے ہیں اور یہ جھنڈے بھی بی جے پی کے نہیں بلکہ ان دو علاقائی جماعتوں کے ہیں جو یہاں کی سیاست پر چھائی ہوئی ہیں، یعنی برسرِاقتدار نیشنل کانفرنس اور حزبِ اختلاف کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی۔
لیکن یہاں بی جے پی کی حمایت میں بھی غیر متوقع اضافہ ہو رہا ہے اور لوگوں اس جماعت میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔
سجاد لون ماضی کے علیحدگی پسند رہنما ہیں۔ اس مرتبہ وہ اپنے گھرانے کے مضبوط سیاسی گڑھ کپواڑہ سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ کپواڑہ کشمیر کا ایک دور دراز پہاڑی قصبہ ہے جو لائن آف کنٹرول کے قریب ہے اور یہ عسکریت پسندوں کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔
اس ماہ کے اوائل میں سجاد لون وزیرِ اعظم مودی سے دلی میں ملاقات کر چکے ہیں جس کے بعد یہ افواہیں گرم ہیں کہ اگر بی جے پی 87 ارکان کی اسمبلی میں سادہ اکثریت یعنی 44 نشستیں حاصل کرنے کے قریب پہنچ جاتی ہے تو ان دونوں رہنماؤں میں اشتراک اقتدار کی بات ہو سکتی ہے۔
ایک طرف اگر سید علی شاہ گیلانی جیسے سخت گیر علیدگی پسندوں کو یہ فکر ہے کہ بی جے پی انتخابات جیت سکتی ہے تو کئی دیگر رہنماؤں کا خیال ہے کہ اس سے کشمیر میں صورتحال زیادہ تبدیل نہیں ہو گی۔
میر واعظ عمر فاروق کہتے ہیں: ’ ہم جانتے ہیں کہ کشمیری حکومتوں کے پاس بہت کم اختیارات ہوتے ہیں کیونکہ ہر چیز دہلی سے کنٹرول ہوتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
’ اس لیے ہمارے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ ہم بی جے پی جیسی قومی جماعت سے براہ راست معاملہ کریں۔‘
لیکن اگر آپ سرینگر کی گلیوں کی بات کریں تو وہاں بی جے پی اور دوسری جماعتیں تو درکنار، لوگ انتخابات میں بھی کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے۔
یہ شہر اب بھی اس تباہی سے بشمکل نمٹ رہا ہے جو ستمبر کے ہولناک سیلاب سے یہاں آئی تھی۔
اپنا نام بتانے سے انکار کرنے والے ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ ’ہمیں حکومت سے کسی قسم کی کوئی خاص امداد نہیں ملی ہے۔‘
’میری دکان کو نقصان پہنچا تھا، میرا سامان سیلاب میں تباہ ہوگیا۔ مجھے اس نقصان کو پورا کرنے میں مہینے لگ جائیں گے۔ ایکشن گئے بھاڑ میں۔‘
دیگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس دکاندار سے اتفاق کرتی ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ نئی حکومت بھی کشمیری لوگوں کے لیے کچھ خاص نہیں کرے گی، خاص طور پر علاقے میں بھارتی سکیورٹی فورس کی موجودگی اور سکیورٹی کے طاقتور قوانین کے حوالے سے کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔
اسی ماہ ایک ناکے پر سکیورٹی اہلکاروں نے دو نوجوانوں کو ان کی کار پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
اس واقعے میں مارے جانے والے تیرہ سالہ برہان کے والد کے بقول ’ اگر کشمیری سڑک پر جاتے ہوئے محفوظ نہیں تو نئی بڑی بڑی سڑکیں اور پل بنانے کے منصوبوں کا کیا فائدہ؟‘







