بےبسی میں زندگی کے نئے معنی تلاش کرتے کشمیری پنڈت

اپنے ہی گھر میں بےگھر ہونے کا درد کشمیری پنڈتوں کی آنکھوں میں محسوس کیا جا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناپنے ہی گھر میں بےگھر ہونے کا درد کشمیری پنڈتوں کی آنکھوں میں محسوس کیا جا سکتا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

’کشمیر کی وادی سے ہمیں نکالنے کے ساتھ بھارت کا آئین بھی وہاں سے نکال دیا گیا۔ جب تک وہاں بھارت کا آئین واپس نہیں آتا، ہم واپس نہیں جائیں گے۔‘

یہ الفاظ ہیں بھوشن لال بھٹ کے جو وادی میں بےگھر ہونے بعد گذشتہ 25 برس سے جموں میں پناہ گزین کی طرح رہ رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’وادی کے لوگوں نے مل جل کر رہنے کا چلن ترک کر دیا ہے۔‘

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ایک لاکھ سے زیادہ پنڈت گذشتہ ڈھائی دہائیوں سے جموں، دہلی اور کئی دیگر شہروں میں پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

انھیں وادی میں پرتشدد علیحدگی پسند تحریک شروع ہونے کے بعد کشمیر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا اور انھیں واپس لانے کی کوششیں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

بھوشن لال کی طرح پنڈت روشن لال بھی جموں شہر کے نواح میں پنڈتوں کے لیے بنائی گئی ایک کالونی میں رہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ہم 25 برس سے غیر یقینی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمارے پاس مکان ہے لیکن گھر نہیں ہے۔ بچے بہت مایوس ہیں۔جب وہ پوچھتے ہیں کہ آگے کیا ہو گا تو ہم جواب دیتے ہیں کہ معلوم نہیں۔‘

ایک کمرے کے چھوٹے چھوٹے مکانوں میں ہزاروں کشمیری پنڈت بے بسی میں زندگی کے نئے معنی تلاش کر رہے ہیں اور اپنے ہی گھر میں بےگھر ہونے کا درد کشمیری پنڈتوں کی آنکھوں میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔

کیمپ میں رہنے والی سریتا کہتی ہیں: ’بچے تو کسی طرح پڑھ لکھ گئے لیکن نوکری نہیں ملتی۔ یہاں بہت پریشانی ہے۔‘

اشوک کول ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے ہر طرح کے خطرات کے باوجود سرینگر میں اپنا گھر بار نہیں چھوڑا۔

اشوک کا کہنا ہے کہ حکومت پنڈتوں کو واپس لانے کے معاملے میں سنجیدہ نہیں رہی ہے: ’زیادہ تر پنڈت اپنے گھر اور زمینیں فروخت کر چکے ہیں۔ وہ جائیں تو جائیں کہاں۔ انھیں دوبارہ بسانے کا منصوبہ صرف کاغذی ہے۔ ایک دو جگہ کچھ کالونیاں بنائی گئی ہیں لیکن ان میں کتنے لوگ آئیں گے؟‘

سری نگر سے ملحقہ ضلع بڈگام میں پنڈتوں کے لیے ایک بڑا رہائشی کمپلیکس بنایا گیا ہے جہاں سنیتارینا چار برس سے رہ رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ وادی کی صورتِ حال تو پہلے سے بہت بدل گئی ہے لیکن پرانی یادیں ذہن میں تازہ ہیں: ’یہاں اتنی لوٹ مار ہوئی، قتل ہوئے، اتنی تباہی مچی، اسے کیسے بھولیں۔ نئی نسل اب یہاں آنا نہیں چاہتی اور پرانے لوگوں کو اب بھی ڈر ہے۔‘

رینو بھی یہیں رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اتنی تکلیفیں جھیلنے کے باوجود ان کے دل میں کسی کے لیے نفرت نہیں ہے: ’یہ تو ہماری مادر وطن ہے۔ زیادہ تر لوگ سیدھے سادے ہیں۔ ہمیں سیاست کے داؤ پیچ نہیں معلوم۔‘

بعض اندازوں کے مطابق 90- 1989 میں وادی میں پنڈتوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ تھی جبکہ پنڈتوں کی ایک تنظیم ’پنون کشمیر‘ کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جبکہ وادی میں پرتشدد تحریک کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 219 پنڈت مارے گئے تھے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کاخیال ہے کہ پنڈتوں کو دوبارہ بسانے کا سوال کسی پارٹی کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا ہے۔

لیکن اس بار بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ریاستی انتخابات میں بی جے پی جموں کے ساتھ ساتھ کشمیر وادی کے بھی بیشتر حلقوں سے انتخاب لڑ رہی ہے۔ وادی کے کم از کم دس حلقوں میں بے گھر ہونے والے پنڈتوں کے اچھے خاصے ووٹ ہیں اور بی جے پی ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انتخابات میں اگر بی جے پی کی کارکردگی اچھی رہی تو کشمیر وادی میں پنڈتوں کی واپسی کا راستہ ہموار جائے گا۔