کشمیر: الیکشن اور سابق عسکریت پسندوں کا تذبذب

شیخ اعجاز اُن درجنوں سابق عسکریت پسندوں میں سے ہیں جنھوں نے گذشتہ 20 برس کے دوران ہندنواز سیاسی کیمپ میں شمولیت اخیتار کی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنشیخ اعجاز اُن درجنوں سابق عسکریت پسندوں میں سے ہیں جنھوں نے گذشتہ 20 برس کے دوران ہندنواز سیاسی کیمپ میں شمولیت اخیتار کی ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

دس سال قبل پاکستان کے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف نے پاکستانی کشمیر کے کوہالہ پُل پر ایک تقریب سے خطاب کیا۔ سامعین میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے مشرقی قصبے کنگن کے شیخ اعجاز بھی تھے۔

وہ مسلح تربیت حاصل کرنے کے لیے پاکستان گئے تھے۔ مشرف کی تقریر کے بعد اعجاز نے بھارتی وزارت داخلہ کی ایک خفیہ سکیم کے تحت نیپال کے راستے گھر کی راہ لی۔ آج وہ کنگن کی نشست کے لیے کانگریس پارٹی کے امیدوار ہیں۔

اعجاز کہتے ہیں: ’جب جنرل مشرف نے یہ کہا کہ بندوق سے مسئلہ حل نہِیں ہوگا، تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ میں یہاں کیا کر رہا ہوں۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ میرا یہاں آنا، سیاست دان بننا اور اب الیکشن لڑنا، ان سب کے لیے مجھے جنرل مشرف کی باتوں نے ہی آمادہ کیا۔‘

36سالہ شیخ اعجاز اُن درجنوں سابق عسکریت پسندوں میں سے ہیں جنھوں نے گذشتہ 20 برس کے دوران ہندنواز سیاسی کیمپ میں شمولیت اخیتار کی ہے۔ لیکن ان میں سے ایک بھی نوجوان آج تک ہندنواز سیاسی منظرنامے پر کوئی مقام نہیں بنا پایا۔

اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کپوارہ کے غلام رسول شاہ کہتے ہیں: ’میں آج بھی جمہوری نظام اور پرامن جدوجہد میں یقین رکھتا ہوں، لیکن یہاں ہمارے لیے پرامن راستوں کو مسدود کر دیا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ بھارت جمہوریت کی بات کرتا ہے لیکن کشمیر کے جمہوری عمل میں وہ اپنے آزمودہ اور پسندیدہ کھلاڑیوں کو ہی جگہ دیتا ہے۔‘

آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں مرکز میں برسراقتدار پارٹی بی جے پی کشمیر میں پورے جوش کے ساتھ اتری ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنآئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں مرکز میں برسراقتدار پارٹی بی جے پی کشمیر میں پورے جوش کے ساتھ اتری ہے

غلام رسول شاہ 25 سال پہلے عمران راہی کہلاتے تھے اور وہ یہاں کی سب سے بڑی مسلح جماعت حزب المجاہدین کے ڈپٹی چیف کمانڈر تھے۔

تین سال سرگرم رہنے کے بعد وہ گرفتار ہوئے اور سنہ 1995 میں انھوں نے بعض ساتھیوں سمیت اُس وقت کے بھارتی وزیرداخلہ ایس بی چوہان کے ساتھ نئی دہلی میں مذاکرات کیے۔ انھوں نے سنہ 2008 کے انتخابات میں حصہ لیا، لیکن ہار گئے۔

ان کا کہنا ہے: ’جو لوگ تحریک یا مسئلہ کشمیر کی بات کرتے ہیں، لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ہی راستے پر رہیں۔ جب کوئی تحریک والا ووٹ مانگنے لگتا ہے تو لوگ اسے مسترد کر دیتے ہیں۔‘

غلام رسول شاہ کا کہنا ہے کہ الیکشن مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے اور اگر حکومت ہند پرامن جدوجہد کو مسلسل دباتی رہی تو تشدد کا نیا دور شروع ہو جائے گا۔

وہ کہتے ہیں: ’یہ تو سادہ سی بات ہے۔ سنہ 1987 میں جب سید صلاح الدین اور دوسرے رہنماؤں نے جمہوری راستہ اپنایا اور الیکشن لڑا تو حکومت ہند نے بے مثال دھاندلی کر کے انھیں ناکام قرار دیا حالانکہ وہ جیت چکے تھے۔ اسی کے ردعمل میں ہم لوگوں نے بندوق اُٹھائی۔ آج بھی اگر نئی نسل کو یہ احساس ہو گیا کہ بھارت جمہوریت کے راستوں کو مسدود کر رہا ہے، تو وہ بھی بندوق اُٹھائیں گے۔‘

غلام رسول شاہ 25 سال پہلے عمران راہی کہلاتے تھے اور وہ یہاں کی سب سے بڑی مسلح جماعت حزب المجاہدین کے ڈپٹی چیف کمانڈر تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنغلام رسول شاہ 25 سال پہلے عمران راہی کہلاتے تھے اور وہ یہاں کی سب سے بڑی مسلح جماعت حزب المجاہدین کے ڈپٹی چیف کمانڈر تھے

صحافی اور تجزیہ نگار شیخ قیوم کہتے ہیں: ’کشمیر کی انتخابی سیاست کی وجہ سے ہی کشمیری علیحدگی پسندوں کے درمیان نظریاتی خلیج پیدا ہو چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی علیحدگی پسند ہندنواز سیاست اپناتا ہے توگمنامی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔‘

مسٹر قیوم کا کہنا ہے: ’ایک تو یہ کہ لوگ علیحدگی پسندوں سے توقعات وابستہ کر لیتے ہیں اور جب یہ لوگ ہندنواز خیمے میں کود پڑتے ہیں تو عوامی مقبولیت ختم ہو جاتی ہے اور پھر ان کے ہندنواز حریف پوری طاقت کے ساتھ ان کے خلاف یہ بات استعمال کرتے ہیں کہ کل تک جو جمہوریت کو گناہ سمجھتا تھا، وہ آج ہندوستانی جمہوریت کو سلام کرتا ہے۔ مجھے لگتا ہے جب تک مسئلہ کشمیر ہے، علیحدگی پسند تحریک باقی رہےگی، چہرے بدلتے رہیں گے، لیکن تحریک باقی رہے گی۔‘

واضح رہے کہ اس وقت سابق عسکریت پسندوں کی بڑی تعداد ہندنواز سیاسی جماعتوں کی صفوں میں موجود ہے۔ لیکن انھیں ان جماعتوں میں کوئی نمایاں کردار نہیں ملتا، جس کی وجہ سے اکثر نے یا تو واپسی کی راہ اختیار کر لی ہے یا سیاست کو ہی ترک کر دیا ہے۔