کشمیر: انتخابات کے پہلے مرحلے میں 70 فیصد ووٹنگ

،تصویر کا ذریعہAP
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 87 رکنی ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ کی شرح 70 فیصد رہی ہے۔
منگل کو ہونے والے انتخابات کے دوران 15 انتخابی حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے ہیں اور پولنگ کا عمل پرامن رہا۔
علیحدگی پسندوں نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی جبکہ پولنگ کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے اور 50 ہزار اضافی نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے۔
جن حلقوں میں پولنگ ہوئی ان میں سے چھ جموں میں، پانچ کشمیر میں اور چار لداخ میں واقع ہیں۔
ان حلقوں سے 123 امیدوار انتخاب میں شریک تھے جن میں موجودہ اسمبلی کے 12 ارکان اور سات وزرا بھی شامل ہیں۔
دہلی میں الیکشن کمیشن کے حکام نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے اعداد و شمار کے مطابق ڈوڈا میں سب سے زیادہ 76 فیصد ووٹروں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
اس کے علاوہ گادربل میں 68 فیصد، لیہ میں 57 فیصد، کارگل میں 59 فیصد، کشتواڑ میں 70 فیصد، بانڈی پورہ میں 70.3 فیصد پولنگ ہوئی.
جموں کشمیر میں 2008 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پولنگ کی شرح 65 فیصد رہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق جموں و کشمیر میں دو دسمبر کو دوسرے مرحلے، نو دسمبر کو تیسرے مرحلے، 14 دسمبر کو چوتھے مرحلے اور 20 دسمبر کو پانچویں مرحلہ میں پولنگ ہوگی جبکہ ووٹوں کی گنتی 23 دسمبر کو ہو گی۔
کشمیر میں پولنگ سے قبل ہی تمام بڑے علیحدگی پسند رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ کشمیر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس کے علاوہ کم ازکم ایک ہزار نوجوانوں کو بھی احتیاطی حراست میں رکھا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انتخابی مہم میں پارٹیوں کی توجہ بدعنوانی کے الزامات، خاندانی حکمرانی، معیشت کی بہتری و ترقی اور ریاست کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ 370 جیسے موضوعات پر مرکوز رہی۔ بعض جماعتوں نے وادی میں سینیما گھروں اور بالی وڈ کو دوبارہ واپس لانے کا بھی وعدہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ عسکری تحریک کے دوران وادی میں سینیما گھر بند کر دیے گئے تھے جو ابھی تک بند پڑے ہیں۔
ریاست میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس چھ برس تک مخلوط حکومت چلانے کے بعد الگ الگ انتخابات لڑ رہی ہیں۔ ریاست کی تیسری بڑی پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یعنی بی ڈی پی بھی تنہا الیکشن لڑ رہی ہے۔
اس بار کے انتخابات میں بی جے پی ایک اہم پارٹی کے طور پر ابھری ہے اور وہ سبھی جماعتوں کے نشانے پر ہے۔ بی جے پی نے جموں و لداخ کے علاوہ اس بار کشمیر وادی میں بیشتر نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں۔
بی جے پی وادی کی ان سیٹوں پر امید کر رہی ہے جہاں بے گھر ہونے والے پنڈتوں کے خاصے ووٹ ہیں۔ بڑے پیمانے پر انتخاب کے بائیکاٹ سے بی جے پی فائدے کی امید کر رہی ہے۔ اسے یہ امید ہے کہ بیشتر پنڈت اسے ووٹ دیں گے۔
اس کے برعکس وادی کی باقی تینوں جماعتیں ووٹروں سے اپیل کر رہی ہیں کہ وہ بی جے پی کو ووٹ نہ دیں کیونکہ بقول ان کے بی جے پی ریاست کی مسلم غلبے والی حیثیت ختم کر سکتی ہے۔
تاہم بی جے پی ریاست میں ایک بہتر اور ایماندار انتظامیہ کے قیام اور ریاست کی ترقی کے نعرے پر ووٹ مانگ رہی ہے۔
وادی میں 1989 میں مسلح علیحدگی پسندی کی تحریک شروع ہونے کے بعد ریاست کے علیحدگی پسند رہنما انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے رہے ہیں جس کے نتیجے میں تحریک کے عروج کے دوران انتخابات میں پولنگ کی شرح بہت کم رہی ہے۔ لیکن گذشتہ کچھ انتخابات سے پولنگ کی شرح میں بہتری آئی ہے اور دیہی علاقوں میں لوگوں نے شہری علاقوں کے مقابلے زیادہ ووٹ دیے ہیں۔







