بھارت میں مذہبی باباؤں کا عروج

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
یہ بات تو ماہرین عمرانیات اور سماجیات ہی بتا سکیں گے کہ آخر سارے مذاہب صرف دنیا کے دو خطوں میں کیوں وجود میں آئے۔ دنیا کے کچھ موجودہ مذاہب عرب خطے میں وجود میں آئے تھے اور باقی تقریباً سبھی دوسرے مذاہب کا جنم بھارت میں ہوا۔ بھارت میں دور قدیم میں یوں تو درجنوں مذاہب وجود میں آئے لیکن وقت کے ساتھ بہت سے مذاہب ختم ہو گئے۔
بھارت میں جنم لینے والے بہت سے مذاہب میں اس وقت ہندو، بدھ، جین سکھ اور دہریت اہم ہیں ۔ بہت سے چھوٹے چھوٹے مسلک بھی ہیں جن کے پیروکار لاکھوں کی تعداد میں ہیں ۔
بھارتی سماج میں ابتدا سے ہی مذہب کا خا صا اثر رہا ہے ۔لیکن دور قدیم سے ہی بھارت کی سیاست میں مذہب کے دخل کی حدیں طے رہی ہیں ۔ سیاست میں مذہب کا دخل اخلاقی پہلوؤں تک محدود ہوتا تھا اور سیاست اپنے وقت کے سیاسی فلسفے سے متعین ہوتی تھی ۔
بھارت ایک بڑا ملک ہے اور خدا کی تلاش کی یہاں نئی نئی راہیں نکلتی رہی ہیں ۔اگر آپ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی پارلیمنٹ کے گرد ایک کلو میٹر دائرے کا جائزہ لیں تو اس میں کم ازکم چھوٹے بڑے پندہ مندر اور دس مزار مل جائیں گے ۔ یہاں صوفیوں، سنتوں، فقیروں اور سادھوؤں کا بڑا احترام رہا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں باباؤں کا ایک نیا مذہبی سلسلہ شروع ہوا ہے ۔ ملک کے ہر خطے میں یہ مذہبی بابا بڑے بڑے قلعہ نما آشرموں میں رہ رہے ہیں۔، کئی باباؤں کے ٹی وی چینل ہیں۔ یہ سیاسی طور پر انتہائی طاقتور ہو چکے ہیں۔ پچھلےدنوں جب ہریانہ پولیس نے حصار قصبے میں بابا رام پال کے آشرم میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اسے بابا کے کمانڈوز کا سامنا کرنا پڑا۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ان کمانڈوز کو وزیر اعظم اور اہم شخصیات کی حفاظت کرنے والے این ایس جی اور ایس پی جی اور فوج کے سبکدوز کمانڈوز نے تربیت دی تھی۔ بابا کا آشرم مغلیہ سلطنت کے بادشاہ شاہ جہاں کے لال قلعہ سے کہیں بڑا ہے اور کئی شہروں میں ان کے بڑے بڑے آشرم ہیں ۔ان کے لاکھوں مرید ہیں جو ان کے لیے مر مٹنے کے لیے تیار ہیں ۔ ان کے بہت سے پیروکار انہیں خدا کا اوتار سمجھتے ہیں ۔ پولیس نے بابا کو ایک قتل کے سلسلے میں عدالت کے حکم پر گرفتار کیا ہے ۔ بابا فی الوقت حوالات میں ہیں ۔
کچھ دنوں پہلے ایک اور بڑے بابا باپو آشا رام کو پولیس نے نابالغ بچیوں سمیت کئی خواتین کے ریپ کے الزام میں گرفتار کیا ۔ بابا آشا رام کے کئی شہروں میں آشرم ہیں ۔ ان کی مالیت کا اندازہ کئی ہزار کروڑ میں لگایا جاتا ہے ۔ حالانکہ بابا کا کہنا ہے کہ یہ املاک بھگوان کی ہیں۔
ایک اور بابا ان دنوں کافی مشہور ہوئے ہیں بابا رام دیو۔ یہ یوگا کے ماہر ہیں لیکن ان کی سرگرمیاں یوگا سے زیادہ بھارتی طرز کی آیور ویدگ دوائیں فرخت کرنے پر مرکوز ہیں ۔ ان کے اثاثوں کا اندازہ بھی اربوں روپے میں لگایا جاتا ہے ۔ انہوں نے لوک سبھا کے انتخابات میں بی جے پی کی حمایت میں مہم چلائی تھی ۔ ابھی حال میں مرکزی حکومت نے انہیں ’ زیڈ‘ 'زمرے کی سکیورٹی فراہم کی ہے ۔یہ سخت ترین درجے کی سکیورٹی ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مرکزی وزارت داخلہ کے 22 کمانڈوز رات دن ان کی حفاظت پر مامور ہیں ۔ سادھوؤوں اور صوفیوں کی حفاظت کمانڈوز کے ذریعے؟ یقینآ یہ ایک عجیب سی بات ہے ۔ لیکن اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور کے یہ قلندر بابا دراصل سیاسی اور مالی اعتیار سے انتہائی طاقتور ہوچکے ہیں۔
ساتھ ہی ان باباؤں کے لاکھوں پیروکار بھی ہیں ۔ سیاست سے ان باباؤں کا گہرا رشتہ ہے ۔ ہزاروں ایکڑ کی زمینیں سیاسی پشت پناہی کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتیں ۔ کروڑوں کی آمدنی کے باوجود کوئی ٹیکس نہ دینا اور ہر طرح کی سرکاری سہولیات، رعایت اور ترجیح کی بنیاد پر حاصل کرنا صرف سیاسی حمایت سے ممکن ہے ۔ اکثر یہ بابا انتخابات میں کسی پارٹی کی حمایت کا اعلان کر کے اپنا حق ادا کرتے ہیں ۔
بھارت کے سیاسی نظام میں کئی عشرے سے باباؤں کا بازار کافی گرم ہے ۔ یہ بابا سیاست میں اہم رول ادا کر رہے ہیں ۔ یہ بابا بھی دراصل سیایسی رہنما ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ سیاست اور کاروبار غیب سے کرتے ہیں ۔ مادی اعتبار سے یہ بھارت کے انتہائی کامیاب پروفیشنل ہیں ۔







