بھارت کے طاقتور ٹیکس چور

ایک اندازے کے مطابق بھارتیوں نے غیر ممالک میں 500 ارب ڈالر سے 1400 ارب ڈالر تک کالا دھن جمع کر رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایک اندازے کے مطابق بھارتیوں نے غیر ممالک میں 500 ارب ڈالر سے 1400 ارب ڈالر تک کالا دھن جمع کر رکھا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

جرمنی نے کچھ عرصے قبل بھارت کی حکومت کو تقریبا ایک ہزار ایسے کھاتے داروں کی ایک فہرست دی تھی جنھوں نے غیر ممالک کے بینکوں میں اپنے کھاتے کھول رکھے ہیں۔

جس وقت یہ فہرست ہاتھ لگی تھی اس وقت مرکز میں منموہن سنگھ کی حکومت تھی اور اس نے ان ناموں کو یہ کہہ کرعام کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ مختلف ملکوں سے ڈبل ٹیکسیشن معاہدے کے تحت وہ ان ناموں کو عام نہیں کر سکتی۔

اس وقت حزبِ اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہ الزام عائد تھا کہ منموہن سنگھ کی حکومت کالا دھن جمع کرنے والوں کو بچا رہی ہے۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے حکومت کو یہ حکم دیا کہ وہ ان تمام کھاتوں کی تفتیش کرے جنھوں نے بے ایمانی کی دولت غیر ممالک میں جمع کر رکھی ہے اور ان کے ناموں کا اعلان کرے۔

بی جے پی نے انتحابی مہم کے دوران یہ دعوی کیا تھاکہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد 100 دنوں کے اندر غیر ممالک میں جمع کالے دھن واپس لائے گی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنبی جے پی نے انتحابی مہم کے دوران یہ دعوی کیا تھاکہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد 100 دنوں کے اندر غیر ممالک میں جمع کالے دھن واپس لائے گی

بی جے پی نے منموہن سنگھ کے دور حکومت میں غیر ممالک میں جمع کالے دھن کو ملک واپس لانے کے لیے زبردست تحریک چلا رکھی تھی اور یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آتے ہی ان ناموں کا اعلان کر دے گی۔

تاہم جمعے کو اس نے حیرت انگیز طور پر سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ایک درخواست میں وہی بات دہرائی جو چند مہینے قبل منموہن سنگھ کی حکومت نے کہی تھی یعنی یہ کہ وہ بعض معاہدوں کے تحت ان ناموں کا اعلان نہیں کر سکتی۔

سپریم کورٹ میں داخل کی جانے والی مفادِ عامہ کی ایک درخواست کے مطابق اس فہرست میں کئی بڑے صنعتکاروں اور سیاستدانوں کے نام بھی شامل ہیں۔

ملک کے قانون کے مطابق اگر کوئی بھارتی شہری غیر ممالک میں اپنا بینک کھاتہ کھولتا ہے تو اسے ریزرو بینک آف انڈیا کو اس کی تفصیلات دینی ہوں گی۔ ایسا نہ کرنے پر وہ کھاتہ کالے دھن کے زمرے میں آ جائے گا۔

جرمنی نے جو فہرست دی ہے اس میں بھارتی شہریوں کے نام ہی نہیں ان کے کھاتوں میں جمع رقم کی تفصیلات بھی درج ہیں۔

بی جے پی نے وہی بات دہرائی جو چند مہینے قبل منموہن سنگھ کی حکومت نے کہی تھی یعنی یہ کہ وہ بعض معاہدوں کے تحت ان ناموں کا اعلان نہیں کر سکتی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبی جے پی نے وہی بات دہرائی جو چند مہینے قبل منموہن سنگھ کی حکومت نے کہی تھی یعنی یہ کہ وہ بعض معاہدوں کے تحت ان ناموں کا اعلان نہیں کر سکتی

جن لوگوں کے نام غیر ملکی کھاتوں میں پائے گئے ہیں ان کے نام ریزرو بینک آف انڈیا سے چیک کیے جا سکتے ہیں۔

اگر انھوں نے بھارتی ریزرو بینک کو اطلاع نہیں دی تو یہ کھاتے واضح طور پر غیر قانونی اور کالے دھن کے کھاتے ہیں۔ اس صورت میں حکومت کو نہ صرف یہ کہ ان ٹیکس چوروں کے ناموں کا اعلان کرنا چاہیے بلکہ ان کے ‏خلاف فوری طور پر قانونی کارروائی شروع کرنی چاہیے۔

مودی حکومت نے جس طرح اپنا قدم پيچھے ہٹایا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس میں ملک کے بااثر اور طاقتور لوگ ملوث ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کرنا اتنا آسان نہیں ہے جتنا سیاسی نعروں میں نظر آتا ہے۔

ڈھائی برس قبل جب انا ہزارے نے بد عنوانی کے خلاف تحریک چلائی تھی تو اس وقت یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ بھارتیوں نے غیر ممالک میں 500 ارب سے 1400 ارب ڈالر تک کالا دھن جمع کر رکھا ہے۔

چونکہ یہ کالا دھن غیر ممالک کے خفیہ بینکوں میں جمع کیا جاتا ہے اس لیے اس کے بارے میں بالکل صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے۔

بھارت کے بعض سیاست دانوں کے خلاف عدالتوں میں بدعنوانی کے مقدمے چلے ہیں

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنبھارت کے بعض سیاست دانوں کے خلاف عدالتوں میں بدعنوانی کے مقدمے چلے ہیں

بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اگر چاہے تو منی لانڈرنگ قانون میں معمولی سی تر میم کے ذریعے غیر ممالک میں کھولے جانے والے تمام خفیہ بینک کھاتوں اور ان میں جمع دولت کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے۔

جس طرح کا نرم رویہ موجودہ اور ماضی کی حکومتوں نے کالے دھن کے سلسلے میں اختیار کر رکھا ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ٹیکس کی چوری اور کالے دھن کے کھاتوں میں ملک کے بااثر اورطاقتور افراد شامل ہیں اور حکومت ان کے نام لینے سے ہچکچا رہی ہے۔

بی جے پی نے انتحابی مہم کے دوران یہ دعویٰ کیا تھاکہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد 100 دنوں کے اندر غیر ممالک میں جمع کالے دھن واپس لائے گی۔ کالا دھن تو لانا دور کی بات حکومت نے تو اب بدعنوانی کا ذکر کرنا بھی بند کر دیا ہے۔