بھارت کے طاقتور ٹیکس چور

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
جرمنی نے کچھ عرصے قبل بھارت کی حکومت کو تقریبا ایک ہزار ایسے کھاتے داروں کی ایک فہرست دی تھی جنھوں نے غیر ممالک کے بینکوں میں اپنے کھاتے کھول رکھے ہیں۔
جس وقت یہ فہرست ہاتھ لگی تھی اس وقت مرکز میں منموہن سنگھ کی حکومت تھی اور اس نے ان ناموں کو یہ کہہ کرعام کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ مختلف ملکوں سے ڈبل ٹیکسیشن معاہدے کے تحت وہ ان ناموں کو عام نہیں کر سکتی۔
اس وقت حزبِ اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہ الزام عائد تھا کہ منموہن سنگھ کی حکومت کالا دھن جمع کرنے والوں کو بچا رہی ہے۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے حکومت کو یہ حکم دیا کہ وہ ان تمام کھاتوں کی تفتیش کرے جنھوں نے بے ایمانی کی دولت غیر ممالک میں جمع کر رکھی ہے اور ان کے ناموں کا اعلان کرے۔

،تصویر کا ذریعہ
بی جے پی نے منموہن سنگھ کے دور حکومت میں غیر ممالک میں جمع کالے دھن کو ملک واپس لانے کے لیے زبردست تحریک چلا رکھی تھی اور یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آتے ہی ان ناموں کا اعلان کر دے گی۔
تاہم جمعے کو اس نے حیرت انگیز طور پر سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ایک درخواست میں وہی بات دہرائی جو چند مہینے قبل منموہن سنگھ کی حکومت نے کہی تھی یعنی یہ کہ وہ بعض معاہدوں کے تحت ان ناموں کا اعلان نہیں کر سکتی۔
سپریم کورٹ میں داخل کی جانے والی مفادِ عامہ کی ایک درخواست کے مطابق اس فہرست میں کئی بڑے صنعتکاروں اور سیاستدانوں کے نام بھی شامل ہیں۔
ملک کے قانون کے مطابق اگر کوئی بھارتی شہری غیر ممالک میں اپنا بینک کھاتہ کھولتا ہے تو اسے ریزرو بینک آف انڈیا کو اس کی تفصیلات دینی ہوں گی۔ ایسا نہ کرنے پر وہ کھاتہ کالے دھن کے زمرے میں آ جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جرمنی نے جو فہرست دی ہے اس میں بھارتی شہریوں کے نام ہی نہیں ان کے کھاتوں میں جمع رقم کی تفصیلات بھی درج ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جن لوگوں کے نام غیر ملکی کھاتوں میں پائے گئے ہیں ان کے نام ریزرو بینک آف انڈیا سے چیک کیے جا سکتے ہیں۔
اگر انھوں نے بھارتی ریزرو بینک کو اطلاع نہیں دی تو یہ کھاتے واضح طور پر غیر قانونی اور کالے دھن کے کھاتے ہیں۔ اس صورت میں حکومت کو نہ صرف یہ کہ ان ٹیکس چوروں کے ناموں کا اعلان کرنا چاہیے بلکہ ان کے خلاف فوری طور پر قانونی کارروائی شروع کرنی چاہیے۔
مودی حکومت نے جس طرح اپنا قدم پيچھے ہٹایا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس میں ملک کے بااثر اور طاقتور لوگ ملوث ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کرنا اتنا آسان نہیں ہے جتنا سیاسی نعروں میں نظر آتا ہے۔
ڈھائی برس قبل جب انا ہزارے نے بد عنوانی کے خلاف تحریک چلائی تھی تو اس وقت یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ بھارتیوں نے غیر ممالک میں 500 ارب سے 1400 ارب ڈالر تک کالا دھن جمع کر رکھا ہے۔
چونکہ یہ کالا دھن غیر ممالک کے خفیہ بینکوں میں جمع کیا جاتا ہے اس لیے اس کے بارے میں بالکل صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اگر چاہے تو منی لانڈرنگ قانون میں معمولی سی تر میم کے ذریعے غیر ممالک میں کھولے جانے والے تمام خفیہ بینک کھاتوں اور ان میں جمع دولت کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے۔
جس طرح کا نرم رویہ موجودہ اور ماضی کی حکومتوں نے کالے دھن کے سلسلے میں اختیار کر رکھا ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ٹیکس کی چوری اور کالے دھن کے کھاتوں میں ملک کے بااثر اورطاقتور افراد شامل ہیں اور حکومت ان کے نام لینے سے ہچکچا رہی ہے۔
بی جے پی نے انتحابی مہم کے دوران یہ دعویٰ کیا تھاکہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد 100 دنوں کے اندر غیر ممالک میں جمع کالے دھن واپس لائے گی۔ کالا دھن تو لانا دور کی بات حکومت نے تو اب بدعنوانی کا ذکر کرنا بھی بند کر دیا ہے۔







