جب راہبر ہی راہزن ٹھہرے!

حالیہ برسوں میں سی بی آئی کی شبیہ بری طرح مجروح ہو ئی ہے اور اس کی غیر جانبداری پر اب کم ہی لو گ یقین کریں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحالیہ برسوں میں سی بی آئی کی شبیہ بری طرح مجروح ہو ئی ہے اور اس کی غیر جانبداری پر اب کم ہی لو گ یقین کریں گے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

بھارت میں بدعنوانی اور سنگین نوعیت کے جرائم کی تفتیش کا سب سے بڑا ادارہ سنٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن ہے جو سی بی آئی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس ادارے کے بارے میں تصور یہ ہے کہ یہ ایک مکمل طور پر آزاد اور غیر جانبدار ادارہ ہے جو کسی حکومت یا کسی سیاسی پارٹی کے اثر میں آئے بغیر اپنی ذمےداری نبھاتا ہے لیکن اس تصور کے بر عکس گذشتہ تین عشرے میں شاید ہی کوئی ایسی حکومت رہی ہو جس پر سی بی آئی کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا الزام نہ لگا ہو۔

ایک سرکردہ سیاسی رہنما نے تو سی بی آئی کو ’سیاسی پارٹی‘ قرار دیا تھا۔

حالیہ برسوں میں سی بی آئی کی شبیہ بری طرح مجروح ہوئی ہے اور اس کی غیر جانبداری پر اب کم ہی لو گ یقین کریں گے۔ ان دنوں یہ ادارہ بہت برے وقت سے گزر رہا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے سی بی آئی کے سربراہ سے دریافت کیا ہے کہ بد عنوانی کے بڑے بڑے معاملات کے متعدد اہم ملزم درجنوں بار ان کی رہائش گاہ پر کیوں ملنے کے لیے آیا کرتے تھے۔

یہ معاملہ تو عدالت ہی طے کرے گی لیکن ایک عام آدمی تو یہ نہیں سوچےگا کہ سی بی آئی کےسربراہ کھربوں روپے کی بدعنوانی کے ملزموں سے اپنی رہائش گاہ پر محض رسمی اور اخلاقی ملاقات کر رہے تھے۔

اصولی بات تو یہ ہوتی کہ سی بی آئی کے سربراہ ملزمان سے اپنی مبینہ درجنوں ملاقاتوں کے انکشاف کے بعد سی بی آئی کے وقار کے لیے مستعفی ہو جاتے اور ان ملاقاتوں کی تحقیقات کی جاتی۔

بھارت میں سی بی آئی، انفورسفمنٹ ڈائرکٹوریٹ، انکم ٹیکس، سنٹرل ویجیلنس کمیشن اور سیری‏ئس فراڈ انویسٹیگیشن سمیت کئی ایسے ادارے ہیں جن کا کام بد عنوانی کا پتہ لگانا ہے لیکن حالیہ برسوں میں اگر نظر ڈالیں تو 2جی گھپلہ، کامن ویلتھ گیمز، کوئلہ کانوں کی تقسیم، دفاعی سودوں میں میں کمیشن اور اس طرح کے تمام بڑے گھپلوں کا سراغ ان تفتیشی اداروں نے نہیں بلکہ، میڈیا، مفادِ عامہ کی عذر داریوں، آر ٹی آئی اور کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل کے ادارے نے لگایا تھا۔

گذشتہ دنوں برطانیہ کے سیریئس فراڈ انویسٹیگیشن کے ادارے نے برطانیہ کی ا یک کمپنی پر الزام عائد کیا کہ اس نے دہلی میں میٹرو ریلوے کے کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے 2000 سے 2006 کے درمیان بھارتی اہلکاروں کو رشوت دی تھی۔

سپریم کورٹ نے ایسے تمام افراد کی فہرست طلب کی ہے جو سی بی آئی سربراہ سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر جایا کرتے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے ایسے تمام افراد کی فہرست طلب کی ہے جو سی بی آئی سربراہ سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر جایا کرتے تھے

دلی میٹرو ایک انتہائی ایمان دار انجینئر کی رہنمائی میں تعمیر کی گئی تھی اور اس وقت وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے پارلیمنٹ کے اندر ایک قرارداد کے ذریعے دلی میٹرو کو کرپشن فری قراد دیا تھا۔

چند مہینے پہلے اطالوی پولیس نے آگسٹا ہیلی کاپٹروں کی خریداری میں رشوت دہی کے معاملے میں کئی بھارتی اعلی فوجی اور سول اہلکاروں اور سیاسی رہنماؤں کو بے نقاب کیا تھا۔ اطالوی پولیس نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد رشوت دہی کے معاملے میں نہ صرف یہ کہ کمپنی کے سربراہ کو برطرف کر دیا بلکہ انھیں سزا بھی دی گئی۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس معاملے میں بھارت میں کسی کو سزا ملنی تو ایک طرف الٹے اس کمپنی کا کنٹریکٹ منسوخ کر دیاگیا اور ضمانت کے طور پر جمع رقم بھی ضبط کر لی گئی۔

اگر گذشتہ ایک عشرے میں سامنے آنے والے بد عنوانی کے بڑے بڑے گھپلوں پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ ان کے انکشاف میں انسداد بدعنوانی کے اداروں کا کوئی کردار نہیں رہا ہے۔

اگسٹا ہیلی کاپٹر میں معاملے میں بھارت کے کسی بھی فرد کو سزا نہیں دی گئی

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشناگسٹا ہیلی کاپٹر میں معاملے میں بھارت کے کسی بھی فرد کو سزا نہیں دی گئی

سی بی آئی جس طرح سپریم کورٹ کے سامنے آج مجرموں کی طرح کھڑی ہے وہ صرف اس کی اہلیت کے بارے میں ہی سوالات نہیں پیدا کرتا بلکہ ان اداروں کی غیر جانب داری کو بھی شک کے دائرے میں لے آتا ہے۔

بھارت دنیا کے ان ملکوں میں شامل ہے جہاں بدعنوانی زندگی کے ہر شعبے میں سرایت کر چکی ہے۔

اگر بھارت کو اس لعنت سے نجات پانی ہے تو پہلے ان اداروں کو غیر جانبدار اور با احتیار بنانا ہو گا اور قانون کی بالا دستی قطی طور پر نافذ کرنی ہوگی۔