عشرت جہاں کیس:’امت شاہ کے خلاف ٹھوس شواہد نہیں‘

،تصویر کا ذریعہPTI
بھارت کے وفاقی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے گجرات کی ایک خصوصی عدالت کو بتایا ہے کہ عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس میں ریاست کے سابق وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف ایسے ٹھوس شواہد نہیں ملے ہیں کہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔
امت شاہ وزارت عظمی کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کے قریبی معتمد ہیں اور انہیں اس الزام کا سامنا تھا کہ پولیس نے عشرت جہاں کو ان کے حکم پر ایک فرضی مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا۔
امت شاہ پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی کے لیے شمالی ریاست اترپردیش کے انچارج ہیں۔
یہ واقعہ جون سنہ 2004 کا ہے جب گجرات پولیس کی کرائم برانچ نے 19 سالہ عشرت جہاں اور تین دیگر افراد کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔ عشرت جہاں کا تعلق ممبئی سے تھا جہاں وہ ایک کالج میں زیر تعلیم تھیں۔
پولیس کا دعوی تھا کہ یہ لوگ ریاست کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو ہلاک کرنے کے ارادے سے گجرات آئے تھے اور ان کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا لیکن الزام یہ ہے کہ یہ مقابلہ فرضی تھا اور اس سلسلے میں ریاست کے کئی سینیئر پولیس افسران جیل میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP Photo
سی بی آئی نے عدالت کو بتایا کہ اس فرضی پولیس مقابلے کے سلسلے میں اسے کوئی ایسا واضح ثبوت نہیں ملا ہے جس کی بنیاد پر امت شاہ پر عائد الزامات کو ثابت کیا جا سکے۔
اس سے پہلے سی بی آئی نے جب فروری میں ضمنی فرد جرم داخل کی تھی تو اس میں امت شاہ کا نام شامل نہیں کیا تھا۔
اس کیس میں انٹیلی جنس بیورو کے ایک سابق افسر راجندر کمار بھی شک کے دائرے میں ہیں اور ان پر اس مقابلے کی سازش رچنے کا الزام ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقابلے میں حصے لینے والی ٹیم کی قیادت مبینہ طور پر پولیس کے نائب انسپکٹر جنرل ڈی جی ونزارا نے کی تھی جو سہراب الدین قتل کیس میں بھی ملزم ہیں اور کئی سال سے جیل میں ہیں۔
سہراب الدین انکاؤنٹر کیس میں امت شاہ بھی ملزم ہیں اور ضمانت پر رہا ہیں۔ انہیں 25 جولائی 2010 کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے تین مہینے جیل میں گزارے تھے۔
سپریم کورٹ نے ان پر گجرات کے بجائے ممبئی میں مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ انصاف کے عمل کو متاثر نہ کر سکیں۔
امت شاہ کا دعوی ہے کہ انہیں ایک سازش کے تحت ان مقدمات میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اصل کوشش نریندر مودی تک پہنچنے کی ہے۔







