سی بی آئی چیف کے ریپ والے بیان پر ہنگامہ

بھارت میں خواتین کی تنظیموں نے بھارت کے سب سے بڑے تفتیشی ادارے سی بی آئی کے سربراہ کی جانب سے آنے والے ایک بیان پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
سی بی آئی کے سربراہ رنجیت سنہا کا یہ بیان گذشتہ روز منگل کو دہلی میں اس وقت آیا تھا جب وہ کھیلوں میں غیر قانونی سٹے بازی پر بات کر رہے تھے۔
انھوں نے کرکٹ میں سٹے بازی کو قانونی بنانے کے جواز پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر آپ سٹے بازی پر پابندی نہیں لگا سکتے تو یہ تو ایسا ہی ہوا گویا آپ یہ کہیں کہ اگر آپ ریپ پر پابندی نہیں لگا سکتے تو اس کا مزا لیں۔‘
بعد میں مسٹر سنہا نے کہا کہ ان کے بیان کا غلط مفہوم اخذ کیا گیا ہے۔
خواتین تنظیموں کی جانب سے اس کی زبردست مذمت کیے جانے کے بعد انھوں نے بدھ کوصفائی دیتے ہوئے کہا: ’میں خواتین کا بہت احترام کرتا ہوں۔ میرے بیان سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو مجھے افسوس ہے۔‘
واضح رہے کہ بھارت میں گذشتہ سال دہلی میں ہونے والے گینگ ریپ کے واقعے کے بعد خواتین کے خلاف جنسی تشدد پر لوگ کافی حساس ہوئے ہیں اور ملک میں اس کے خلاف ایک قسم کی لہر نظر آئی ہے۔
منگل کو مسٹر سنہا نے کہا تھا کہ ’کرکٹ میں سٹے بازی کو قانونی بنانے سے کوئی نقصان نہیں ہو گا کیونکہ ایسی پابندی سے کیا فائدہ جسے نافذ نہ کیا جا سکے۔‘
مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کی رہنما برندا کرات جیسی خواتین نے مسٹر سنہا کے بیان کو ’وحشت انگیز‘ قرار دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برندا کرات نے ایک اخبار دا ہندو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک شخص جو بذات خود متعدد قسم کے ریپ کے الزامات کی جانچ کا سربراہ ہو وہ اس قسم کی تمثیل کا استعمال کرے۔ ان پر خواتین کی بے عزتی کے لیے مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔‘
مسٹر سنہا کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آل انڈیا پروگریسیو ویمنز ایسوسی ایشن کی سیکرٹری کویتا کرشنن نے بی بی سی کو بتایا: ’سی بی آئی چیف کو اگر ریپ اور تفریح کے درمیان فرق نہیں معلوم ہے تو وہ سی بی آئی جیسے اہم ادارے کے سربراہ کیسے رہ سکتے ہیں۔ سی بی آئی ڈائریکٹر کو اپنے اس بیان کے لیے فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہیے۔‘
دہلی کے ایک ادارے سنٹر فار سوشل ریسرچ کی رنجنا کماری نے اخبار ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اتنے سینيئر پولیس آفیسر کو اس قسم کا بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔۔۔ یہ قابل قبول نہیں، انھیں معافی مانگنی چاہیے۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں میں یہ ایک رواج بنتا جا رہا ہے کہ وہ جنسی تشدد کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔‘
مسٹر سنہا نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ایک مثال دے رہے تھے۔ انھوں نے کہا: ’بھارت میں لاٹری قانونی ہے اس لیے میں نے کہا کہ سٹے بازی کو بھی قانونی حیثیت دے دی جائے اور اس پر ٹیکس لگایا جائے اور اسی لیے میں نے اس مثال کا استعمال کیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ میرے خلاف پروپگینڈا ہے اور یہ درست نہیں۔







