بھارت کا تفتیشی ادارہ سی بی آئی غیر آئینی

حکومت ہند نے کہا ہے کہ وہ بھارت کے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دینے والے گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔
بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق قانون کے وزیر کپل سبل نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’گوہاٹی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف (سپریم کورٹ میں) اپیل داخل کی جائے گی اور اس کے متعلق حکومت ہند کے ملازمت اور تربیت کے محکمے ڈی او پی ٹي کی جانب سے اپیل داخل کی جائے گی۔‘
واضح رہے کہ سی بی آئی کی انتظامی ذمہ داری ڈی او پی ٹی کے دائرۂ کار میں آتی ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق کپل سبل نے کہا کہ ڈی او پی ٹی نے اس مسئلے پر ان سے گفتگو کی ہے اور اس کے بعد ایک اپیل داخل کرنے کا فیصلہ ہوا۔
اس سے قبل شمال مشرقی ریاست آسام کے دارالحکومت میں گوہاٹی ہائی کورٹ نے ایک اپیل کی سماعت کے دوران ان سفارشات کو رد کر دیا تھا جن کی بنیاد پر سی بی آئی کا قیام عمل میں آیا تھا۔
اس کے ساتھ ہی گوہاٹی ہائی کورٹ نے سی بی آئی کی تمام کارروائیوں کو بھی ’غیر آئینی‘ قرار دیا ہے۔
اس سے پہلے جمعہ کو پرسونل امور کی وزارت میں ریاستی سطح کے وزیر وی ناراين سوامي نے اس مسئلے پر بحث کے لیے وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی۔
ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پی پی ملہوترہ نے پی ٹی آئی کو بتایا: ’فیصلہ بالکل غلط ہے۔۔۔ہم یقینی طور پر اس کو چیلنج کریں گے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی جا سکتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ گوہاٹی ہائی کورٹ میں معاملے کی سماعت کے دوران حکومت کا موقف پی پی ملہوترا نے پیش کیا تھا۔
جسٹس آئی اے انصاری اور اندرا شاہ کی بینچ نے یہ فیصلہ ناویندر کمار کی درخواست پر سماعت کے دوران سنایا۔ ناویندر نے سی بی آئی کی تشکیل کرنے والی تجویز کو چیلنج کیا تھا۔
ملہوترا نے دلیل دی کہ سی بی آئی کے قیام کی تجویز کو سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں میں صحیح قرار دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سی بی آئی کی تشکیل کے لیے وزارت داخلہ کی سفارشات نہ تو مرکزی کابینہ کا فیصلہ تھا اور نہ ہی اس معاملے میں ہدایات کی صدر نے منظوری دی تھی۔
عدالت نے مزید کہا: ’متعلقہ سفارشات کو زیادہ سے زیادہ محکمۂ جاتی ہدایات کے طور پر لیا جا سکتا ہے اور اسے قانون نہیں کہا جا سکتا۔‘
پی ٹی آئی کے مطابق عدالت نے مزید کہا:’معاملہ درج کرنے، کسی شخص کو مجرم کے طور پر گرفتار کرنے، تحقیقات کرنے، قرقی اور ضبط کرنے، ملزم پر مقدمہ چلانے جیسی سی بی آئی کی سرگرمیاں آئین کی شق 21 کو زک پہنچاتی ہیں اور اس لیے اسے غیر آئینی تسلیم کرتے ہوئے منسوخ کیا جاتا ہے۔‘
واضح رہے کہ آئین کی شق 21 انفرادی آزادی سے متعلق ہے۔







