فوج کی ساکھ بہتر کرنے کی کوشش

،تصویر کا ذریعہepa
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں چار برس قبل ایک فرضی انکاؤنٹر (مقابلے) میں تین شہریوں کو قتل کرنے کے جرم میں ایک فوجی عدالت نے ایک کرنل، ایک کیپٹین اور تین فوجیوں کو عمر قید کی سزاکی سفارش کی ہے۔
اس سزا پر ناردرن کور کمانڈر کی توثیق کے بعد عمل کیا جائے گا۔ اپریل، سنہ 2010 میں راجپوتانہ رائفلز کے ان فوجی اہلکاروں نے شمالی کشمیر کے مژہل سیکٹر میں تین مقامی نوجوانوں کو کنٹرول لائن کے نزدیک ہلاک کر دیا تھا۔ انھیں پاکستانی دہشت گرد قرار دے کر کنٹرول لائن پر ہی دفن کر دیا گیا۔ ان نوجوانوں کو اس فوجی یونٹ نے کام کے بہانے بلایا تھا اور انھیں اپنی یونٹ کے نام اور اعزاز حاصل کرنے کے لیے قتل کردیا گیا تھا۔
مژہل کے فرضی مقابلے کے خلاف احتجاج میں اس وقت پوری وادی میں کئی مہینے تک مظاہرے ہوئے تھے۔ احتجاج کے دوران سوا سو سے زیادہ کشمیری نو عمر بچوں کو سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے کی پاداش میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔
مژہل کا معاملہ ایک ذیلی سویلین عدالت میں شروع ہوا تھا لیکن فوج کی مداخلت سے یہ مقدمہ سویلین عدالت میں روکنا پڑا اور ملزمان کے خلاف فوجی کورٹ مارشل کا عمل شروع کیا گیا۔ مژہل کے واقع میں جرم کی نوعیت اتنی واضح اور ثبوت اتنے پختہ تھے کہ قانون کی گرفت سے بچنا ممکن نہیں تھا۔
کشمیر مین مسلح علیحدگی پسندی کی تحریک کے دوران فوج پر حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے بہت سے واقعات درج ہیں لیکن ان میں شاید ہی کسی معاملے میں فوج نے اپنے اہلکاروں کے خلاف کچھ چھوٹی موٹی کارروائی کی ہو۔ یہ گذشتہ 25 برس میں پہلا موقع ہے جب فوج نے اپنے اہلکاروں کو عمر قید جیسی سخت سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح کی سخت سزاؤں سے سکیورٹی فورسز کے ذریعے حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے میں یقیناً مدد ملے گی ۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اس مہینے کے اوائل میں سکیورٹی فورسز نے بڈگام میں ایک چیک پوائنٹ پر دو نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ شہریوں کے احتجاج اور مظاہروں کے بعد فوج نے اعتراف کیا کہ یہ واقع فوجی اہلکاروں کی غلطی سے رونما ہوا۔ فوج کے کور کمانڈر نے اس واقع کی غیر جانبدارانہ تفتیش کا وعدہ کیا۔ ہلاک ہونے والوں کے لیے معاوضے کا بھی اعلان کیا گیا۔
جس تیزی سے اور اعلیٰ سطح پر فوج حرکت میں آئی اور تفتیش سے قبل ہی یہ اعتراف کیا گیا کہ یہ ہلاکت فوجیوں کی غلطی کا نتیجہ تھی یہ بھی اپنی نوعیت کا پہلا واقع ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیمیں ان اقدامات اور فیصلوں کو مرکزی حکومت کی انتخابی حکمتِ عملی کا حصہ خیال کرتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ کہتی ہیں کہ فوجی عدالت نے مژہل کے فرضی مقابلے کا فیصلہ ستمبر میں کر لیا تھا لیکن اسے دو مہینے بعد اسمبلی انتخابات سے ذرا پہلے ہی کیوں سنایا گیا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر فوج واقعی جوابدہی کا عمل شورع کرنا چاہتی ہے تو پتھری بل مقابلے کی ہلاکتوں کے ملزمان کو بھی سزا دے۔ اس واقعے میں فوجی عدالت نے یہ کہہ کر کیس بند کر دیا کہ ملزم فوجی اہلکاروں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہepa
لیکن کورٹ مارشل کے فیصلے اور فوج کے حالیہ اقدامات سے وادی میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ اصل مسئلہ شہری آبادیوں میں فوج کی تعیناتی کا ہے۔ سماجی رضاکاروں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ آرمڈ فورسز سپیشل پاورس ایکٹ یا افسپا کو شہری علاقوں سے ہٹایا جائے۔ اس قانون کے تحت فوج کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں اور اس نے خود کو کسی طرح کی قانونی جوابدہی سے اوپر رکھا ہے۔
ریاست کی کئی سیاسی جماعتوں نے اپنے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ فوج کے اس قانون کو ہٹانے کے لیے جد وجہد کریں گی۔ فوج نے حالیہ دنوں میں جوابدہی کا جو اشارہ کیا ہے وہ ایک مثبت پہلو ہے لیکن وہ عوام کا مکمل اعتماد تب ہی حاصل کر سکے گی جب وہ فورسز کی خلاف ورزیوں کے معاملات سویلین کورٹ میں طے کرنے کی اجازت دے گی۔ وادی میں جوں جوں حالات بہتر ہونگے ، جوادہی کے لیے فوج پر دباؤ بڑھتا جائے گا۔







