بھارت: چور لڑکیوں کاگینگ

علاقے کے تھانہ انچارج کے مطابق تفتیش جاری ہے لیکن ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY

،تصویر کا کیپشنعلاقے کے تھانہ انچارج کے مطابق تفتیش جاری ہے لیکن ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

بھارت کی راجدھانی دلی کے قریب غازی آباد شہر میں تیرہ لڑکیوں کے ایک گینگ نے ایک پرنٹنگ پریس میں داخل ہو کر چوری کی اور یہ پوری کارروائی سی سی ٹی وی نے قید کر لی۔

یہ حیرت انگیز واقعہ تقریباً دو ہفتے قبل پیش آیا تھا اور اعلی پولیس اہلکاروں نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ چوری کرنے والا گروہ لڑکیوں پر مشتمل تھا۔

پریس کے مالک ونیت تیاگی کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں لڑکیوں کو بارہ فٹ اونچی دیوار پھلانگ کر پرنٹنگ پریس میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ لڑکیوں کی عمریں 20 سال کے آس پاس بتائی گئی ہیں۔ انھوں نے اپنے منہ دوپٹوں سے ڈھک رکھے تھے۔

مسٹر تیاگی کے مطابق لڑکیاں رات دیر گئے دو تالے توڑ کر پریس میں داخل ہوئیں اور صرف 14 منٹ میں سامان لے کر غائب ہوگئیں۔ مسٹر تیاگی کا پریس غازی آباد کے ایک صنعتی علاقےمیں ہے۔

لڑکیوں کی نظر جب سی سی ٹی وی پر پڑی تو انھوں نے اس کے تار نکال دیے لیکن پریس کے دروازے کے قریب ایک کیمرہ نصب تھا جو ان کی نظروں سے بچ گیا۔

علاقے کے تھانہ انچارج کے مطابق سی سی ٹی وی کا ٹیپ تفتیش کے لیے ماہرین کےسپرد کر دیا گیا ہے لیکن ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔