چوری پچاس ہزار کی، برآمدگی کروڑ سے زیادہ کی

،تصویر کا ذریعہpti
بھارت میں حزب اقتدار کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک منتخب نمائندے کے گھر میں چوری کی واردات کے بعد ان کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
گری راج سنگھ کے فلیٹ سے مسروقہ سامان میں ایک کروڑ 14 لاکھ روپے کے علاوہ قیمتی گھڑیوں اور زیورات برآمد ہوئے ہیں، جب کہ انھوں نے کہا تھا کہ صرف 50 ہزار روپے چوری ہوئے ہیں۔
اس معاملے میں پولیس نے چار افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں گری راج سنگھ کے سٹاف کے تین ارکان بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ گری راج سنگھ نے گذشتہ انتخاب کے دوران ایک تقریر میں کہا تھا کہ جن لوگوں نے ان کے رہنما نریندر مودی کو ووٹ نہیں دیے انھیں بھارت بدر کر کے پاکستان بھیج دیا جانا چاہیے۔
پولیس نے کہا ہے کہ بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمان نے ابتدائی طور پر اپنے گھر سے چوری ہونے والے سامان کے بارے میں کچھ نہیں کہا تھا، تاہم بعد ازاں ان کی جماعت کے ایک رکن نے پولیس کو بتایا کہ 50 ہزار روپے چوری ہوئے ہیں۔
پولیس نے ان کے گھر میں واردات کرنے والے چور کو پکڑ لیا ہے اور اس کے قبضے سے نوٹوں سے بھرے ایک سوٹ کیس کے علاوہ قیمتی ڈیزائنر گھڑیاں اور خاصی مقدار میں زیورات برآمد کیے ہیں۔
چور نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ ساری رقم، زیورات اور گھڑیاں اس نے گری راج سنگھ کے فلیٹ سے چرائی ہیں جہاں اس کو داخل ہونے میں خود گری راج سنگھ کے عملے نے مدد کی تھی۔
الیکشن سے پہلے اپنے اثاثہ جات ظاہر کرتے ہوئے گری راج سنگھ نے بہت کم رقم درج کروائی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گری راج سنگھ کے پارٹی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں جو رقم گری راج سنگھ کے فلیٹ سے چرائی گئی ہے انھی کی ہو۔ لیکن ابھی تک اس کا کوئی دعویدار سامنے نہیں آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹیکس حکام کو مطلع کر دیا ہے اور چوری کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ اس بارے میں بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں کہ یہ رقم کہاں سے آئی۔







