طوفان ’ہد ہد‘ بھارتی ساحل سے ٹکرا گیا، دو افراد ہلاک

طوفان کے دوران سمندر کی لہریں اپنی انتہا پر ہوں گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنطوفان کے دوران سمندر کی لہریں اپنی انتہا پر ہوں گی

خلیج بنگال سے اٹھنے والا سمندری طوفان ہدہد بھارتی ریاست آندھر پردیش کے ساحلی علاقے وشاکھا پٹنم سے اتوار کی دوپہر ٹکرایا جس میں اطلاعات کے مطابق دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

وشاكھاپٹنم کے ساحلی علاقوں میں فی الحال 100 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے تیز ہوائیں چل رہی ہیں اور اس کے ساتھ بارش بھی ہو رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ابھی طوفان میں مزید تندی آئے گی اور ہوا کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹے تک جا سکتی ہے۔

بھارت میں قومی آفات سے نمٹنے کے محکمے این ڈی آر ایف کے مطابق آندھر پردیش کے علاقے شريكاكلم اور وشاكھاپٹنم میں درخت کے نیچے دبنے سے دو افراد مارے گئے ہیں۔

بھارت کی جنوب مشرقی ریاستوں کے ساحلی علاقوں سے بڑے پیمانے پر لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ صرف ساحلی ریاست آندھر پردیش سے ہی ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

بھارت کے محکمہ موسمیات کے مطابق یہ طوفان بہت تباہی پھیلا سکتا ہے۔

ریاست اڑیسہ میں حکام کا کہنا ہے کہ مزید تین لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بھارتی بحریہ کو چوکس کر دیا گیا ہے۔

ہدہد طوفان میں لاکھوں افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہدہد طوفان میں لاکھوں افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

خصوصی رلیف کمشنر پردیپ کمار مہا پاترہ کا کہنا ہے کہ اس طوفان کا سامنا کرنے کے لیے حکام اور انتظامیہ پوری طرح سے تیار ہیں۔

1999 میں اُڑیسہ میں آنے والے ’سُپر سائیکلون‘ سے دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

گذشتہ اکتوبر میں اڑیسہ اور آندھرا پردیش سے گزرنے والے پہلِن طوفان کے پیشِ نظر پانچ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

اڑیسہ میں ابھی صرف تیز ہوائیں چل رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناڑیسہ میں ابھی صرف تیز ہوائیں چل رہی ہیں

بھارت کے شمالی ساحل اور بنگلہ دیش میں اپریل سے نومبر کے درمیان سمندری طوفان آتے رہتے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔

اس طوفان کی زد میں جو ریاستیں آنے والی ہیں وہاں امدادی ٹیموں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔