مودی کا طریقہ کار شخصی رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں۔ امریکہ ان کا ایک پسندیدہ ملک رہا ہے اور وہ 2000 سے پہلے بی جے پی کے عہدیدار اور آر ایس ایس کے ’پرچارک‘ کے طور پر کئی بار امریکہ کا دورہ کر چکے ہیں۔
سنہ 2002 میں گجرات کے فسادات کے بعد امریکہ نے انھیں ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے نتیجے میں وہ گذشتہ نو برس سے امریکہ نہیں جا سکے تھے۔
امریکہ کے اپنے رواں دورے میں مودی کے حامیوں نے امریکہ کے ایک مشہور پارک میں بھی ان کی ایک تقریر کا اہتمام کیا ہے جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے وہ کسی غیر ملکی رہنما کی تقریر کے لیے امریکہ کا سب سے سے بڑا اجتماع ہو گا۔
مودی کئی دوسرے پروگراموں میں بھی تقریریں کریں گے۔ انھیں تقریر کرنا بہت پسند ہے۔
گذشتہ دنوں جب بھارت کے خلائی سائنسدانوں نے مریخ کے مدار میں بھارتی خلائی جہاز پہنچانے میں زبردست کامیابی حاصل کی تو اسرو کے کنٹرول سینٹر پر کسی سائنس دان کا کوئی بیان نہیں آيا۔ وہاں صرف وزیر اعظم مودی نے تقریر کی اور اتنی لمبی تقریر کی کہ سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں کافی بحث بھی چلی۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS
مودی کے وزیر اعظم بننے سے قبل ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی روزانہ نیوز کانفرنس کیا کرتی تھی۔ اہم معامالات پر خصوصی پریس کانفرنسیں ہوا کرتی تھیں۔
صحافیوں کو وزرا تک رسائی ہوا کرتی تھی اور وہ ان سے متعلقہ وزارتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیا کرتے تھے۔ پارٹی کے کئی باضابطہ ترجمان ہوتے تھے۔ لیکن اب نہ کوئی ترجمان ہے اور نہ ہی وزرا کو بولنے کی اجازت۔ وزرا اب کوئی بیان یا ردعمل دیتے ہوئے ڈرتے ہیں۔
وزیر اعظم مودی حکومت کے پروگراموں اور پالیسیوں کے بارے میں سوشل میڈیا کے ذریعے بات کرتے ہیں یا پھر کبھی کبھی تقریر کرتے ہیں۔ اطلاعات کی ترسیل پر حکومت نے پورا کنٹرول کر رکھا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صحافتی حلقوں میں کافی بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ بھارت کے کئی سرکردہ اخباروں کے مدیروں نے وزیر اعظم مودی پر الزام لگایا ہے کہ وہ معلومات کی ترسیل کو روک رہے ہیں اور میڈیا کے ساتھ ان کا رویہ غیر جمہوری ہے ۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت جیسے ملک میں جہاں سب کو انٹرنیٹ دستیاب نہیں ہے سوشل میڈیا کے ذریعے کوئی پیغام صرف محدود لوگوں تک ہی پہنچ سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
مودی کا طریقہ کار شخصی رہا ہے۔ وہ جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو ان کا طریقۂ کار یہی تھا۔ حکومت کے سارے اہم فیصلے انھیں سے ہو کر ہوتے تھے۔ معلومات پر ان کا مکمل کنٹرول ہوا کرتا تھا۔ انھیں تنقید پسند نہیں ہے۔
لیکن شاید بھارت کی حکومت اس طرح چلانا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ جمہوری نظام میں حکومتیں اب زیادہ سے زیادہ شفافیت کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ حکومتی اقدامات اور فیصلوں کی تجزیاتی چھان بین اب اور شدت سے ہوتی ہے۔ حکومتوں کی جوابدہی اب مزید بڑھ گئی ہے اور معلومات کی ترسیل اور رسائی کا دائرہ اب اور بھی وسیع ہو گیا ہے ۔
معلومات کی ترسیل اور ان تک آزادانہ رسائی جمہوریت کا بنیادی اصول ہے اور کسی بھی معاشرے میں ان اصولوں سے زیادہ دنوں تک انحراف اب ممکن نہیں ہے۔







