بھارتی حکومت کی’میک ان انڈیا‘ مہم

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت میں حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے اور ملک کو صنعتی پیداوار کا مرکز بنانے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا ہے جسے ’میک ان انڈیا‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اپنے دورۂ امریکہ کے دوران اس مہم کا آغاز کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کی جائیں گی تاکہ معیشت کو واپس پٹڑی پر لایا جا سکے۔
اس مہم کے لیے 25 شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سرمایہ کاری کے لیے سنگل ونڈو کلیئرینس کی سہولت فراہم کی جائے گی یعنی سرمایہ کاروں کو اپنی فیکٹری یا کاروبار شروع کرنے کے لیے بھاگ دوڑ نہیں کرنی پڑے گی۔
بھارتی معیشت میں لمبے عرصے کے بعد کچھ بہتری کے آثار ہیں اور حکومت مانتی ہے کہ تیز رفتار ترقی میں غیر ملکی سرمایہ کاری اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
’میک ان انڈیا‘ مہم کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ’آپ کو جو بنانا ہے بھارت میں بنائیے، اور اس کی راہ ہم ہموار کریں گے۔‘
تاہم حزب اختلاف کانگریس کا الزام ہےکہ بی جے پی اس کی پالیسیوں کو اپنا بنا کر پیش کر رہی ہے اور کانگریس کی حکومت نے بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ’میک ان انڈیا‘ ایک اچھا نعرہ ضرور ہے لیکن غیر ملکی سرمایہ کار اپنا پیسہ لگانے سے پہلے کاروبار کے ماحول اور بنیادی ڈھانچے کی صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔
اقتصادی امور کے ماہر پرنجوئے گوہا ٹھاکرتا کہتے ہیں کہ ’ہم صنعت کاروں کو یہاں فیکٹری لگانے کی دعوت تو دے رہے ہیں لیکن غیر ملکی صنعت کار کہتے ہیں کہ یہاں بنیادی ڈھانچے کی بہت کمی ہے، بجلی ، پانی اور زمین آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹھکرتا کے مطابق لال فیتہ شاہی اور بدعنوانی غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس مہم کی کامیابی کا دارومدار ’لال فیتے‘ کے خاتمے پر ہوگا اور بنیادی ڈھانچے کی تمعیر کی طرح یہ کام بھی آسان نہیں ہے۔







