کشمیر میں وبائی بیماریاں پھیلنے کا خطرہ

،تصویر کا ذریعہAP
سیلاب سے بے حال بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں اب تک سوا دو لاکھ لوگوں کو بچایا جا چکا ہے تاہم اس درمیان وباء پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
شدید سیلاب کی صورتحال کے پیشِ نظر سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو متاثرین کو کھانا، پانی، ایندھن اور ادویات فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر کے چیف جسٹس سے کسی سٹیٹ گیسٹ ہاؤس یا ججوں کی رہائش گاہ سے کام کاج شروع کرنے کے بھی کہا ہے۔
سیلاب کے 13 ویں دن فوج اور قومی تباہی ریلیف فورس نے مل کر اب تک دو لاکھ سے زیادہ لوگوں کو بچایا ہے لیکن اب بھی ایک لاکھ لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
سیلاب میں اب تک کم سے کم 250 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔
اس دوران ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ صرف کچھ خاص لوگوں کو ہی بچایا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
وزیر اعلیٰ نے نامہ نگاروں سے کہا کہ یہ بالکل جھوٹ ہے کہ کسی وی آئی پی پر ہی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
ملبہ اور مویشیوں کی لاشیں
اس دوران مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ ملاقات کر کے ریلیف کے کاموں کا جائزہ لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وادی میں پانی تو کم ہوا ہے لیکن ہر جگہ ملبہ اور جانوروں کی لاشیں بکھری ہوئی ہیں لوگوں کے لیے سب سے بڑی مشکل پینے کے پانی کی کمی بھی ہے۔

انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر لوگوں کو مسلسل چیچک کے ٹیکے لگا رہے ہیں اور مرکز سے زیادہ مدد کی گذارش کی گئی ہے۔
لوگوں میں غصہ
پیر کو صبح بارش کی وجہ سے امداد کا کام تھوڑی دیر تک رکا رہا ایک جگہ لوگوں نے امدادی کام میں مصروف ہیلی کاپٹر کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
ایئر وائس مارشل اپُكارجيت سنگھ کا کہنا تھا، ’ہم سمجھ سکتے ہیں کہ لوگوں میں غصہ ہے لیکن ہم مدد کے لیے ہیں۔‘
فوج کی دو بٹالینوں کو جموں اور وادی کشمیر میں نظام قانون برقرار رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
فون سروس بحال
پرائیوٹ فون کمپنی ایئر ٹیل نے کہا ہے کہ پوری وادی میں اب فون سروِسسز تقریباً بحال کر لی گئی ہیں۔
ایئر ٹیل وادی میں بیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو موبائل سروس فراہم کرتی ہے۔







