’کشمیر میں سیلاب کی قبل از وقت تنبیہ کا نظام نہیں‘

بھارت کے مرکزی آبی کمیشن کی اس بات پر تنقید کی جا رہی ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر ان کی ویب سائٹ پر موجود سیلاب کے خطرے والی ریاستوں کی فہرست میں بھی موجود نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبھارت کے مرکزی آبی کمیشن کی اس بات پر تنقید کی جا رہی ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر ان کی ویب سائٹ پر موجود سیلاب کے خطرے والی ریاستوں کی فہرست میں بھی موجود نہیں ہے
    • مصنف, نوین سنگھ کھڑکا
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

پاکستان کی جانب سے بھارت سے سیلاب کی پیشگی اطلاع نہ دینے کی شکایات پر بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں بارشوں کے نتیجے میں سیلاب کی قبلِ از وقت اطلاع دینا ممکن نہیں تھا۔

نئی دہلی میں بھارت کے مرکزی آبی کمیشن کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے لیے سیلاب کی تنبیہ کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

پاکستان نے بھارت سے شکایت کی ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان بہنے والے دریاؤں کے متعلق مناسب معلومات فراہم نہیں کرتا۔

بھارت کے آبی وسائل کی وزارت کے تحت کام کرنے والے ادارے سنٹرل واٹر کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاستوں کو سیلاب کے بارے میں قبل از وقت معلومات فراہم کرے لیکن وہ کشمیر میں آنے والی حالیہ تباہی میں ایسا کرنے سے قاصر رہا۔

کمیشن کے چیئرمین اے بی پانڈیا نے بی بی سی کو بتایا: ’سیلاب کے بارے میں وارننگ اسی وقت جاری کی جاسکتی ہے جب ریاست اور کمیشن کے درمیان مروجہ رابطہ موجود ہو۔

’سیلاب کی وارننگ جاری کرنے کے لیے بعض ضروری اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے۔ مثلا دریاؤں میں خطرے کے نشان کی نشاندہی کرنا، دریاؤں کی ماسیلیات اور موسمیات کے نظام کا قیام وغیرہ۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’یہ اقدامات نہیں کیے جا سکے ہیں اور ہم کچھ عرصے سے جموں و کشمیر کی حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں لیکن ان امور پر حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا اور اس لیے سیلاب کی وراننگ کا نظام وہاں موجود نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر مرکزی آبی کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود سیلاب کے خطرے والی ریاستوں کی فہرست میں بھی شامل نہیں ہے۔

جنوبی ایشیا کے ڈیم، دریاؤں اور لوگوں کے نیٹ ورک کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے ہمانشو ٹھکّر نے کہا ہے کہ ’اس معاملے میں نہ تو سی ڈبلیو سی نے جموں کشمیر کی حکومت کو خبردار کیا اور نہ ہی ریاستی حکام نے کوئي وارننگ جاری کی۔‘

کشمیر کا سیلاب بطور خاص جہلم اور چناب کی وجہ سے تھا جس میں 450 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشنکشمیر کا سیلاب بطور خاص جہلم اور چناب کی وجہ سے تھا جس میں 450 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

پانڈیا کے پاس کشمیر میں بہنے والے دریا کے کچھ ریکارڈز موجود ہیں لیکن وہ پاکستان بھارت کے درمیان کیے جانے والے سندھ طاس معاہدے سے متعلق ہیں جو سنہ 1960 میں ہوا تھا۔

اس معاہدے کے مطابق بھارت پاکستان کو ان دریاؤں کے پانی کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا جو بھارت سے گزرتے ہوئے پاکستان میں بہنے والے دریائے سندھ میں جا ملتے ہیں۔

چناب، جہلم، ستلج، راوی اور بیاس بھارت سے نکلتے ہیں جبکہ دریائے سندھ تبت سے نکل کر بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہوتا ہوا پاکستان چلا جاتا ہے۔

حالیہ سیلاب بطور خاص دریائے جہلم اور چناب میں آیا تھا جس میں 450 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان دریاؤں کے متعلق اعدادو شمار بروقت پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کے معمول کے پروٹوکول کے تحت فراہم کر دیے گئے تھے لیکن بھارت میں اس کے باوجود سیلاب کی وارننگ جاری نہیں کی جا سکی۔

مسٹر ٹھکّر کا کہنا ہے کہ جب بھارت کے پاس اپنے ہی جموں کشمیر کے لیے کوئی سیلاب وارننگ نظام نہیں ہے ایسے میں پاکستان کی مدد کی بات کرنا ذرا زیادہ ہی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمسٹر ٹھکّر کا کہنا ہے کہ جب بھارت کے پاس اپنے ہی جموں کشمیر کے لیے کوئی سیلاب وارننگ نظام نہیں ہے ایسے میں پاکستان کی مدد کی بات کرنا ذرا زیادہ ہی ہے

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت سے موصولہ معلومات سیلاب کی وارننگ کے لیے کافی نہیں تھیں۔

پاکستان میں محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل حضرت میر نے کہا: ’سیلاب کی وارننگ جاری کرنے کے لیے ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہے، ممکنہ ترسیل، حقیقی ترسیل اور دریا میں پانی کا بہاؤ۔

’انھوں نے دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافے کے بارے میں صرف پانی کے بہاؤ کے اعدادوشمار فراہم کیے تھے۔ ہمیں بارش کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جاتیں جو کہ سیلاب کے خطرے کے بارے میں انتہائی اہم ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’تمام دریاؤں ستلج، جہلم، چناب اور راوی کے پانی حاصل کرنے کے علاقے بھارت میں ہی ہیں۔‘

چناب، جہلم، ستلج، راوی اور بیاس دریا بھارت سے نکلتے ہیں جبکہ اہم دریائے سندھ تبت سے نکل کر بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہوتا ہوا پاکستان چلا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنچناب، جہلم، ستلج، راوی اور بیاس دریا بھارت سے نکلتے ہیں جبکہ اہم دریائے سندھ تبت سے نکل کر بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہوتا ہوا پاکستان چلا جاتا ہے

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے دیے جانے والے اعدادوشمار پاکستانی سرحد کے قریب کے ہی ہوتے ہیں اور یہ بھی ایک دباؤ ہے۔

پاکستان میں سیلاب کی پیش گوئی کرنے والے ادارے کے سربراہ محمد ریاض نے کہا: ’فی الحال ہمیں بھارت میں اکنور بیراج کے اعدادوشمار دیے جاتے ہیں جو ہماری سرحد سے بہت قریب ہے اور ہمیں تیاری کرنے کا موقع نہیں مل پاتا ہے۔‘

پاکستان کے سیلاب وارننگ نظام پر تنقید ہوتی رہی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ زبوں حالی کا شکار ہے۔

ہمانشو ٹھکّر نے کہا: ’جب بھارت کے پاس اپنے ہی جموں کشمیر کے لیے کوئی سیلاب وارننگ نظام نہیں ہے ایسے میں پاکستان کی مدد کی بات کرنا ذرا زیادہ ہی ہے۔‘