بڑھتے ہوئے سیلابی ریلے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان میں سیلاب کی تازہ تصاویر

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 200 ہوگئی ہے اور سینکڑوں افراد متاثرہ علاقوں میں تاحال پھنسے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 200 ہوگئی ہے اور سینکڑوں افراد متاثرہ علاقوں میں تاحال پھنسے ہوئے ہیں۔
سری نگر میں سیاح ہوائی اڈے پر جمع ہیں جہاں سے فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کا انخلا کیا جائے گا۔
،تصویر کا کیپشنسری نگر میں سیاح ہوائی اڈے پر جمع ہیں جہاں سے فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کا انخلا کیا جائے گا۔
بھارت کے زیر انتظام جموں میں ہلاکتوں کی تعداد 193 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سری نگر سمیت دیگر علاقوں میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے وہاں موجود انتطامیہ سے رابطوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے زیر انتظام جموں میں ہلاکتوں کی تعداد 193 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سری نگر سمیت دیگر علاقوں میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے وہاں موجود انتطامیہ سے رابطوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب، شمالی علاقہ جات اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 262 تک پہنچ گئی ہے جبکہ لاکھوں افراد سیلابی پانی سے متاثر ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ پنجاب، شمالی علاقہ جات اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 262 تک پہنچ گئی ہے جبکہ لاکھوں افراد سیلابی پانی سے متاثر ہوئے ہیں۔
دریائے چناب میں آنے والا بڑا سیلابی ریلا اس وقت صوبہ پنجاب کے وسطی علاقوں سے گزرتے ہوئے جنوبی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے اور حکومتِ پنجاب کا کہنا ہے کہ اس وقت بچاؤ اور امداد کے آپریشن کا مرکز جھنگ اور ملتان کے اضلاع ہیں۔
،تصویر کا کیپشندریائے چناب میں آنے والا بڑا سیلابی ریلا اس وقت صوبہ پنجاب کے وسطی علاقوں سے گزرتے ہوئے جنوبی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے اور حکومتِ پنجاب کا کہنا ہے کہ اس وقت بچاؤ اور امداد کے آپریشن کا مرکز جھنگ اور ملتان کے اضلاع ہیں۔
پنجاب کابینہ کمیٹی کے رکن زعیم قادری کا کہنا ہے کہ پنجاب کے متاثرہ علاقوں میں 500 امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپنجاب کابینہ کمیٹی کے رکن زعیم قادری کا کہنا ہے کہ پنجاب کے متاثرہ علاقوں میں 500 امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر شجاع خانزادہ نے بتایا کہ جھنگ میں تریموں کے مقام پر اب بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور وہاں سے ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی گزر رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنصوبائی وزیر شجاع خانزادہ نے بتایا کہ جھنگ میں تریموں کے مقام پر اب بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور وہاں سے ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی گزر رہا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بھی امدادی کارروائیوں کے بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق سیلاب سےمتاثرہ علاقوں جھنگ، اٹھارہ ہزاری، احمد پور سیال، پیرکوٹ اور چنیوٹ میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور اس دوران چار ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنآئی ایس پی آر نے بھی امدادی کارروائیوں کے بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق سیلاب سےمتاثرہ علاقوں جھنگ، اٹھارہ ہزاری، احمد پور سیال، پیرکوٹ اور چنیوٹ میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور اس دوران چار ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک سیلاب سے 2400 سے زیادہ دیہات متاثر ہوئے ہیں جن میں 2300 سے زیادہ مکانات مکمل جبکہ چھ ہزار کے قریب جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنصوبائی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک سیلاب سے 2400 سے زیادہ دیہات متاثر ہوئے ہیں جن میں 2300 سے زیادہ مکانات مکمل جبکہ چھ ہزار کے قریب جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔
شجاع خانزادہ نے کہا کہ جھنگ کے بعد اب سیلابی ریلے کا رخ ملتان کی جانب ہے جہاں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے اور پانی بڑھنے کی صورت میں دو مقامات محمد والا برج اور شیر شاہ برج کے قریب شگاف ڈالنے کی تیاریاں کی گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشجاع خانزادہ نے کہا کہ جھنگ کے بعد اب سیلابی ریلے کا رخ ملتان کی جانب ہے جہاں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے اور پانی بڑھنے کی صورت میں دو مقامات محمد والا برج اور شیر شاہ برج کے قریب شگاف ڈالنے کی تیاریاں کی گئی ہیں۔
شجاع خانزادہ نے کہا کہ ایسا ہونے کی صورت میں ملتان کے جنوبی دیہی علاقوں میں پانی آئے گا اور ان علاقوں سے آبادی کو پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنشجاع خانزادہ نے کہا کہ ایسا ہونے کی صورت میں ملتان کے جنوبی دیہی علاقوں میں پانی آئے گا اور ان علاقوں سے آبادی کو پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔