کشمیر میں نصف صدی کا بدترین سیلاب

اب بارش نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں تیزی آ رہی ہے۔ اس کے بعد تعمیرِ نو اور بحالی کا کام شروع ہو جائے گا جو یقیناً مزید مشکل ہوگا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناب بارش نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں تیزی آ رہی ہے۔ اس کے بعد تعمیرِ نو اور بحالی کا کام شروع ہو جائے گا جو یقیناً مزید مشکل ہوگا

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ نصف صدی میں آنے والے بد ترین سیلاب کی وجہ سے ہزاروں لوگ پھنس کر رہ گئے ہیں۔ سڑکوں اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے بھارتی فوج متاثرین تک پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کا استعمال کر رہی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار سنجے موجمدار نے سیلابوں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے امدادی کاموں کے لیے استعمال ہونے والی ایک کشتی میں سفر کیا۔

جموں کے فضائی اڈے پر علی الصبح گہما گہمی ہے۔ روسی ساختہ ایم آئی 17 ہیلی کاپٹروں پر امدادی سامان لادا جا رہا ہے۔

ہمارا طیارہ وادی کشمیر کے دور دراز علاقے کیشتور جا رہا ہے جن سے سیلابوں کی وجہ سے رابطہ کٹ گیا ہے۔ اس طیارے میں خوراک کی بوریاں اور کریٹ، پیاز، آلو، ٹماٹر اور بینگن جیسی سبزیاں لے جائی جا رہی ہیں۔

اس مشن کے انچارج کمانڈر ایئر کموڈور پی ای پتنگے نے بتایا کہ ’بچاؤ کا مرحلہ بہت حد تک ختم ہو گیا ہے اور اب ہماری ترجیح ضرورت مندوں کو امدادی سامان فراہم کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے دور دراز علاقوں تک ادویات اور ڈاکٹروں پہنچا دیے ہیں، سری نگر میں راشن، خیمے اور دیگر مواد پہنچایا ہے۔‘

ہم جیسے ہی وادیِ کشمیر کی طرف جانے کے لیے فضا میں بلند ہوئے، ہمیں سیلاب کے اثرات کا انداز ہوتا گیا۔

بہت سے علاقوں میں پانی کم ہو رہا ہے اور دریاؤں کے کناروں سے اب پانی باہر نہیں نکل رہا، لیکن سیلاب کی تباہ کاریوں کے نشانات جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر دریاؤں کے ٹوٹے ہوئے کنارے، تباہ شدہ پل، شکستہ سڑکیں اور درہم برہم مواصلاتی نظام۔

چند دن پہلے ہی یہ سب کچھ پانی میں گرا ہوا تھا: اکاموڈور پی ای پتنگے

،تصویر کا ذریعہb

،تصویر کا کیپشنچند دن پہلے ہی یہ سب کچھ پانی میں گرا ہوا تھا: اکاموڈور پی ای پتنگے

طیارے کے عملے کے ایک رکن نے نیچے سبز زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ ’چند دن پہلے ہی یہ سب کچھ پانی میں گھرا ہوا تھا۔‘

پانی کم ہوگیا ہے لیکن کشمیر کے بہت سے علاقوں تک اب بھی رسائی نہیں ہو سکتی۔ ہم 45 منٹ بعد کاشمور پہنچے جو پہاڑوں میں 26 میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔

جیسے ہی ہم پہنچے تو فوج نے سامان اتار کر قریب ہی کھڑے ٹرکوں پر لادنا شروع کر دیا۔

عام طور پر اس سامان کو سڑک کے رستے پہنچایا جاتا ہے، لیکن سڑک کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے بازاروں اور اوپر پہاڑوں پر سامان نہیں پہنچتا۔

کیشتور میں بھی بہت زیادہ مسائل ہیں۔ مواصلات کا نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے علاقے میں موجود عملے سے وائرلیس فون پر بھی رابطہ بہت مشکل ہوتا ہے۔

ایئر کموڈور پتنگے نے بتایا کہ ’گذشتہ چند روز بڑی مشکل سے گزرے ہیں۔ پورے پورے علاقے پانی میں ڈوب گئے تھے اور ہیلی کاپٹروں کی لینڈنگ کے لیے جگہ نہیں تھی۔ ہمیں فضا سے امدادی سامان پھینکنا پڑا اور رسیوں کے ذریعے لوگوں کو نکالنا پڑا۔‘

اب بارش نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں تیزی آ رہی ہے۔ اس کے بعد تعمیرِ نو اور بحالی کا کام شروع ہو جائے گا جو یقیناً مزید مشکل ہوگا۔

مواصلات کے نظام کو بحال کر کے پھر حکومت تباہ حال دیہاتوں اور برادریوں کو بحال کرنے کا کام شروع کرے گی۔ یہ ایک لمبے عرصے کا عمل ہے جس پر شاید مہینے یا سال لگ سکتے ہیں۔