جنوبی ایشیا میں القاعدہ کی شاخ کے امیر جنگجو سے زیادہ مقرر

،تصویر کا ذریعہREUTERS
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
عالمی شدت پسند تنظیم القاعدہ کی طرف سے جنوبی ایشیا کے لیے حال ہی میں قائم کردہ نئی شاخ کے امیر عاصم عمر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شدت پسند کمانڈر سے زیادہ اپنی تقریریوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
گذشتہ ہفتے القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی طرف سے ایک ویڈیو بیان جاری کیاگیا تھا جس میں جنوبی ایشیا کے لیے القاعدہ کی نئی تنظیم کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں مولانا عاصم عمر کو نئی تنظیم کا امیر اور اسامہ محمود نامی جنگجو کو ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔
عاصم عمر کو ایسے وقت یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے جب عراق اور شام میں القاعدہ کے مقابلے میں سامنے آنے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی طرف سے ایک وسیع علاقے پر اسلامی خلافت کے قیام کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دولت اسلامیہ کے لیے جنوبی ایشیا میں بھی حمایت پائی جاتی ہے۔
مختلف ذرائع سے جمع کی گئی معلومات کے مطابق عاصم عمر کی عمر 40 سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے کراچی کے مدرسوں اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے دینی تعلیم حاصل کی ہے۔
وہ گذشتہ کئی سالوں سے القاعدہ سے منسلک رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے لیے القاعدہ کا امیر مقرر ہونے سے پہلے وہ پاکستان میں القاعدہ کی شرعی کمیٹی کے انچارج کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق عاصم عمر طویل عرصے تک افغانستان میں بھی رہے ہیں جہاں وہ القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کے قریب رہے اور ان کے ساتھ کام بھی کر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بتایا جاتا ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی سے بھی منسک رہے ہیں۔ یہ تنظیم کشمیر اور بعض دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں سرگرم رہی ہے۔ اس تنطیم کے القاعدہ سے بھی مضبوط مراسم رہے ہیں۔
شدت پسند تنظیموں پر کام کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ عاصم عمر کے کشمیری عسکری پسند تنظیموں سے مضبوط روابط رہے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ القاعدہ نے انھیں کشمیر، ہندوستان، بنگلہ دیش اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کےلیے اپنا امیر منتخب کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
عاصم عمر یہ نئی ذمہ داری ملنے سے چند ماہ پہلے ہی سے سرگرم ہوگئے تھے۔ ان کی طرف سے گذشتہ چند ماہ کے دوران جہادی ویب سائٹس پر کئی ویڈیواور آڈیو پیغامات جاری کیے گئے ہیں۔
شدت پسند تنظیموں میں عام طور پر اہم ذمہ داریاں ان کمانڈروں کو دی جاتی ہے جو عسکری شعبے میں مہارت رکھتے ہوں۔ لیکن عاصم عمر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کمانڈر سے زیادہ مقرر کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔
بعض معلومات کے مطابق عاصم عمر کو نوجوانوں کو شدت پسند تنظیم میں بھرتی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
خیال رہے کہ تین سال پہلے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس خطے میں القاعدہ کی سرگرمیاں کم ہوگئی تھیں تاہم اس نئی شاخ کے اعلان کے بعد یہاں پھر سے ان کی کارروائیوں میں شدت آنے کا امکان ہے۔







