مودی کے ’زعفرانی انقلاب‘ میں امریکہ ان کے ساتھ ہے: جان کیری

’مودی حکومت کی ’سب کا ساتھ، سب کا ترقی‘ کی پالیسی میں ہم ساتھ دینا چاہتے ہیں: جان کیری

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن’مودی حکومت کی ’سب کا ساتھ، سب کا ترقی‘ کی پالیسی میں ہم ساتھ دینا چاہتے ہیں: جان کیری
    • مصنف, برجیش اپادھیائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو، واشنگٹن

بدھ کو امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری بھارت کے دورے پر نئی دہلی پہنچ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے ترقی کے ایجنڈے میں امریکہ ان کا بھرپور ساتھ دے گا۔

بھارت اور امریکہ کے قدرے ٹھنڈے پڑے ہوئے دوطرفہ تعلقات میں تیزی لانے کی بات کرتے ہوئے جان کیری نے کہا ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے مستقبل کو ایک راستے پر لانے کا موقعہ ہے۔

جان کیری نے یہ بیان واشنگٹن میں دیا، بھارت اور امریکہ کے تعلقات کو بہتر کرنے کی بات کی لیکن ساتھ ہی یہ نریندر مودی کی طرف گرم جوشی سے ہاتھ بڑھانے کی ایک پر زور کوشش بھی کی۔

جان کیری نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو ایک ایسے مقام تک لے جانے کی بات کی ہے جہاں دونوں ہی ’صحیح معنوں میں ایک دوسرے کے شریک کار‘ بن سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مودی حکومت کی ’سب کا ساتھ، سب کا ترقی‘ کی پالیسی میں ہم ساتھ دینا چاہتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ بے حد اچھی پالیسی ہے۔ امریکہ کا نجی شعبہ بھارت کی معاشي ترقی کو تیزی دینے کے لیے تیار ہے۔‘

کیری کا کہنا ہے کہ بھارت کی معاشي ترقی خطے کے لیے بھی اچھی خبر ہے اور اس معاملے پر ان کی پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے بھی بات ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تجارت میں اضافہ دونوں ہی ملکوں کے فائدے میں ہے، دونوں کے عوام کے فائدے میں ہے اور امریکہ اس میں ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہے۔

بھارت میں ہر گھر میں بجلی پہنچانے کا اعلان ہو، نوجوانوں کو نئے موقع دینے کا وعدہ ہو یا پھر موسم میں تبدیلی کی بحث ہو، کیری نے مودی کی ہر کوشش میں ساتھ دینے کی بات کی۔

دس برسوں تک مودی کو امریکہ سے دور رکھنے کے بعد، امریکہ پوری طاقت سے اس سفارتي دوڑ میں بھاگنے لگا ہے جس میں کئی افراد کا خیال ہے کہ اسے ابھی کافی زمین طے کرنی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشندس برسوں تک مودی کو امریکہ سے دور رکھنے کے بعد، امریکہ پوری طاقت سے اس سفارتي دوڑ میں بھاگنے لگا ہے جس میں کئی افراد کا خیال ہے کہ اسے ابھی کافی زمین طے کرنی ہے

کیری کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے زعفراني انقلاب کی بات کی ہے، اور زعفراني رنگ توانائی کا رنگ ہے۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ ’یہ انقلاب صاف ستھری توانائی کے ذریعے آنا چاہیے۔ وہ بالکل صحیح ہیں۔ اور امریکہ اس معاملے پر مکمل طور سے بھارت کے ساتھ چلنے کو تیار ہے۔‘

لیکن امریکی بھارتی تعلقات کی دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ دونوں ہی ملک بہت سے معاملات پر، خاص کر تجارت کے مسائل پر، ٹیبل کے آر پار بیٹھے نظر آتے ہیں۔

ورلڈ ٹریڈ آرگنائیزیشن کی پیچيدگياں ہوں، انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کی بات ہو، سبسڈی کا معاملہ ہو، ان سب پر دونوں کے درمیان سخت بحث چل رہی ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ ان معاملات پر اگر بھارت لچک دکھائے، غیر ملکی سرمايہ كاري کے لیے ماحول تیار کرے تو امریکی کمپنیاں وہاں سرمايہ كاري کی دوڑ لگا دیں گي۔

دس برسوں تک مودی کو امریکہ سے دور رکھنے کے بعد، امریکہ پوری طاقت سے اس سفارتي دوڑ میں بھاگنے لگا ہے جس میں کئی افراد کا خیال ہے کہ اسے ابھی کافی زمین طے کرنی ہے۔

امریکہ بھارت کو ایشیا میں چین کے خلاف ایک طاقتور اتحادي ملک کی طرح دیکھنا چاہتا ہے۔ وہیں امریکی کمپنیاں بھارت کو ایک بڑے بازار کی طرح دیکھ رہی ہے لیکن وہاں اسے کئی ركاوٹیں نظر آ رہی ہیں۔

مودی نے بھی ابھی تک کھل کر اپنی امریکی پالیسی واضح نہیں کی ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ستمبر میں اوباما کے ساتھ ہونے والی ان کی ملاقات کافی حد تک یہ تعلقات کا مستقبل طے کرے گی۔

دونوں ہی ممالک کے سامنے فی الحال چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک ایسا فارمولا پیش کر سکیں جس میں دونوں ہی کا فائدہ نظر آئے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں ابھی شاید وقت لگے گا۔