بھارت: ریل کے کرائے میں 14 فیصد اضافہ

،تصویر کا ذریعہAP
بھارت میں نریندر مودی کی مرکزی حکومت نے 25 جون سے ریل کرائے میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مسافر کرائے میں 14.2 فی صد کے اضافے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ مال بردار ٹرین کے کرائے میں 6.5 فی صد اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ریلویز کے وزیر سدانند گوڑا نے حال ہی میں ریل کرائے میں اضافے کا عندیہ دیا تھا۔
مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ گذشتہ حکومت نے جو عبوری بجٹ پیش کیا تھا اس میں مسافر کرائے اور مال بردار ٹرین کے کرایوں میں ترمیم کا فیصلہ کیا تھا۔
گذشتہ حکومت نے انتخابات کے پیش نظر کرایوں میں اضافے کی تجویز کو واپس لے لیا تھا۔
موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ جب تک کرائے میں اضافہ نہیں کیا جاتا ریلویز کے سالانہ اخراجات کو پورا کرنا مشکل ہوگا۔
25 جون یا اس کے بعد کے سفر کے لیے جو ٹکٹ ریل کرایہ میں اضافہ کے اعلان سے پہلے خرید لیے گئے تھے ان پر بھی بڑھی ہوئی قیمت واجب الادا ہوگی اور یہ اضافی کرایہ سفر کے دوران ریل ٹی ٹی ای وصول کریں گے۔
ٹکٹ بکنگ فیس اور سپرفاسٹ چارج میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرائے میں اضافے کے اس فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سابق وزیر ریل اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا کہ ’جو بھی کرنا تھا وہ ریل بجٹ کے دوران کرنا چاہیے تھا۔ اس وقت انھیں کرائے میں اضافے کا جواز دینا چاہیے تھا۔ مجھے بھی پانچ بار ریل بجٹ پیش کرنے کا تجربہ ہے۔ یہ اضافہ ریل بجٹ سے پہلے نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘
نتیش کمار کا کہنا تھا کہ ’اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا‘۔ انھوں حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ’یہ آنے والے اچھے دنوں کا اشارہ ہے۔‘
واضح رہے کہ بی جے پی حکومت نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ’اچھے دن آنے والے ہیں‘ کا نعرہ دیا تھا۔
دوسری جانب ریل کرائے میں اضافے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس لیڈر منیش تیواری نے کہا: ’بی جے پی جب اپوزیشن میں تھی تو جب بھی کرائے میں اضافے کی بات کی جاتی تھی تو ان کی طرف سے سخت رد عمل آتے تھے کہ حکومت عام آدمی پر بوجھ ڈال رہی ہے اور حکومت میں آتے ہی پہلا کام ریل کرائے میں 14 فیصد کے اضافے کے ساتھ انھوں نے عام آدمی پر بوجھ ڈالنے کا کام کیا۔‘
گذشتہ سال کانگریس کے ریلویز کے وزیر کمار بنسل نے کہا تھا کہ اس وقت ملک میں بارہ ہزار تین سو سے زیادہ ریل گاڑیاں چلتی ہیں لیکن مجموعی طور پر ریلوے کی حالت اچھی نہیں ہے اور اس کی مالی حالت کو بہتر کیے بغیر بہتر سہولیات فراہم نہیں کی جاسکتیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں ریلویز ملازمت فراہم کرنے والا سب سے بڑا شعبہ ہے۔







