600 مزید ہندوستانیوں کا عراق سے واپسی کا امکان

،تصویر کا ذریعہ AFP
عراق کے شمالی علاقے میں محصور 46 بھارتی نرسوں کے بعد اب عراق سے تقریباً 600 ہندوستانیوں کا اگلے دو دنوں کے دوران بھارت پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ہندوستانی وزارت خارجہ کے حوالے سے کہا ہے کہ 200 ہندوستانیوں کا ایک گروپ سنیچر کی رات عراقی ایئرویز کے خصوصی طیارے سے نئی دہلی پہنچ رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اگلے دو دنوں میں تقریباً 400 دیگر ہندوستانی بھی عراق سے واپس آنے والے ہیں۔
اس سے پہلے عراق میں محصور 46 بھارتی نرسیں ہفتہ کو اپنے آبائی شہر کوچّی پہنچ گئیں۔ یہ تمام نرسیں عراق کے شہر تكریت میں واقع ایک ہسپتال میں کام کرتیں تھیں۔
جون کے شروع میں اسلامی شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش یا آئی ایس آئی ایس) نے تكریت شہر پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے یہ نرسیں ایک طرح سے وہاں محصور تھیں۔
بہر حال ان کی رہائی کے متعلق سب سے اہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ داعش کے شدت پسندوں نے بھارتی نرسوں کو اپنی قید سے کیونکر رہا کیا اور انھیں بھارت کیوں آنے کی اجازت دی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
نرسوں کی رہائی کیسے ممکن ہو پائی اس بارے میں بھارتی وزارت خارجہ نے کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا ہے۔
یہاں تک کہ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ اومن چینڈی بھی اس موضوع پر کچھ بولنا نہیں چاہتے۔ ان کے مطابق ’یہ قومی مفادات سے جڑا معاملہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گذشتہ تین دن سے ان کی بات چیت بغداد کے بھارتی سفارت خانے کے حکام کے ساتھ، وزارت خارجہ کے حکام اور بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کے ساتھ چل رہی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ مجھے سب کا مکمل تعاون ملا۔‘

،تصویر کا ذریعہGOVT
دوسری جانب بھارت لوٹنے والی نرسوں میں خوشی کے ساتھ کچھ خدشات بھی ہیں اور وہ روزی روٹی اور قرض کے متعلق ہیں۔
نرس نیتی کے بھائی سلومن جان نے بتایا: ’ہمارے سامنے بالکل نئے حالات ہیں۔ سب سے بڑا سوال ہے کہ اب گزر بسر کیسے ہوگا۔ میری بہن چھ ماہ قبل عراق گئی تھی اور اس نے اس کے لیے ایک لاکھ 60 ہزارقرض لیا تھا۔ گذشتہ چار ماہ سے تنخواہ بھی نہیں ملی ہے اور ابھی صرف 30 ہزار قرض ہی چکایا جا سکا ہے۔‘
صحافی عمران قریشی کے مطابق 46 میں سے صرف 14 نرسیں ہی واپسی چاہتی تھیں باقی سب دوسری جگہ کام چاہتی تھیں تاکہ اپنے قرض چکا سکیں۔
جب اس بارے میں وزیر اعلیٰ سے بات پوچھی گئي کہ کیا ان لوگوں نے تعلیم اور روزگار کے لیے جو قرض لیا اسے معاف کیا جائے گا تو انھوں نے کہا کہ ’اس بارے میں غور کیا جائے گا۔‘







