عراق: بھارتی نرسیں تہہ خانوں میں رہنے پر مجبور

،تصویر کا ذریعہReuters
عراق کے تكریت شہر میں ہونے والے تازہ بم دھماکوں کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والی بھارتی نرسیں ہسپتال میں ہی پھنس کر رہ گئی ہیں۔
سکیورٹی خدشات کے سبب انھیں تہ خانے میں رہنا پڑ رہا ہے۔
تكریت ہسپتال میں نرس مرینا جوز نے بی بی سی کو فون پر یہ اطلاع دی ہے۔
انھوں نے بتایا: ’ہسپتال کے پاس چند بم دھماکے ہوئے ہیں یہاں تک کہ ہسپتال کے احاطے میں بھی دھماکہ ہوا ہے۔ اس کے بعد ایک جنگجو نے ہم سب کو ہسپتال کے تہہ خانے میں موجود باورچي خانے میں پناہ لینے کے لیے کہا۔ ہم بے حد خوف زدہ ہیں، ہمیں نہیں معلوم ہم یہاں کیسے رہ پائیں گے۔‘
بھارت میں وزارت خارجہ کے ترجمان سید اكبرالدين نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارت کی جانب سے عراقی فوج اور حکومت کو ان نرسوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کر دی گئی ہیں۔
انھوں نے بتایا: ’ہم نے ہسپتال میں موجود 46 نرسوں کے بارے میں عراق حکومت اور فوج کو مطلع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ انھیں ان سے رابطہ قائم کرنے کے لیے بھی کہا ہے۔‘
دوسری جانب نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر ایک افسر نے بتایا: ’ہسپتال میں کوئی بم دھماکہ نہیں ہوا ہے۔ ہاں وہاں سے 200 میٹر کے فاصلے پر ایک عمارت میں دھماکہ ضرور ہوا تھا۔ ایسے حالات میں حفاظتی اقدام کے طور پر تہہ خانے میں جانا عام بات ہے۔ ہم ان نرسوں سے رابطے میں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
اس وقت تكريت میں عراقی فوج اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان جدوجہد کی اطلاعات ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جوز کے ایک پیغام سے عراق میں بھارتی نرسوں کے پھنسے ہونے کا علم ہوا۔
اس تازہ صورت حال سے قبل گذشتہ ماہ چھٹیاں گزارنے کے لیے عراق سے ہندوستان آنے والی نرسوں کا کہنا تھا کہ وہ واپس عراق جانا چاہتی ہیں۔
جنوبی عراقی شہر ناصریہ سے چھٹیوں پر آنے والی جنوبی ہندوستانی ریاست کیرالہ کی سندھو نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمیں عراق کی صورتِ حال کے بارے میں بہت تشویش ہے لیکن میں واپس کام پرجانا چاہتی ہوں۔‘
28 سالہ سندھو دس جون کو شمالی اور وسطی عراقی شہروں پر دولت اسلامی عراق و شام یا داعش نامی تنظیم کے قبضے شروع ہونے سے ایک ہی دن پہلے واپس گھر پہنچی تھیں اور اسی ماہ کے اخیر میں وہ ایک دوسری نرس کے ساتھ عراق لوٹ گئیں۔







