بھارت کا دو روز میں دو قسم کے میزائل کا تجربہ

بھارت نے سنیچر اور اتوار کو دو اقسام کی میزائل کا کامیاب تجربہ کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت نے سنیچر اور اتوار کو دو اقسام کی میزائل کا کامیاب تجربہ کیا

بھارت نے اتوار کو ایک نئے انٹرسیپٹر میزائل یعنی میزائل شکن میزائل کا کامیابی کے ساتھ تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ سنیچر کو آکاش کا تجربہ کیا گیا۔

اس نئے انٹرسیپٹر میزائل کی صلاحیت سطح سمندر سے 30 کلومیٹر بلندی پر زمین کے فضائی ماحول سے باہر جا کر خلا میں نشانہ لگانے کی ہے۔

بھارتی دفاعی اور تحقیقی ادارے ڈی آر ڈی او (ڈیفنس ریسرچ ڈیولپمنٹ ارگنائزیشن) کے ترجمان روی کمار گپتا نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’تجربہ کامیابی سے ہمکنار ہوا اور ہمارے مقاصد پورے ہوئے۔‘

دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ بھارت نے دفا‏عی نظام میں مزید ایک قدم بڑھایا ہے اور اس سے ان کا مقصد اپنے جوہری اسلحہ رکھنے والے پڑوسیوں چین اور پاکستان کی جانب سے آنے والے کسی ممکنہ بیلسٹک میزائل کے خلاف ڈھال تیار کرنا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے کہا کہ بھارت کا یہ کامیاب تجربہ مشرقی ساحلی ریاست اڑیسہ کے بالاسور ضلعے میں واقع چاندی پور کے ٹیسٹ رینج میں کیا گیا۔

اس نئے میزائل میں دوہرا دفاعی نظام ہے جو زیادہ بلندی اور کم بلندی دونوں صورتوں میں اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ڈی آر ڈی او بھارتی دفاعی شعبے میں تحقیق اور میزائل کی تیاری کا کام دیکھتا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنڈی آر ڈی او بھارتی دفاعی شعبے میں تحقیق اور میزائل کی تیاری کا کام دیکھتا ہے

اس سے قبل سنیچر کو بھارت نے آکاش میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔ یہ زمین سے ہوا میں اپنے ہدف کو نشانہ لگانے والا میزائل ہے۔

آکاش نامی یہ میزائل بھی مشرقی ساحلی ریاست اڑیسہ کے چاندی پور ٹیسٹ رینج سے لانچ کیا گیا۔

بھارت کے دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیچیدہ اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس آکاش میزائل پانچ منٹ کے وقفے سے دو بار لانچ کیا گیا۔

آئی ٹی آر کے ڈائریکٹر ایم کے وی پرساد نے کہا کہ ’دونوں تجربے مکمل طور سے کامیاب رہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ یہ بھارتی فضائیہ کے استعمال کے تجربے کا حصہ تھا۔

مقامی طور پر تیار کیے گئے اس میزائل کی صلاحیت 30 کلو میٹر ہے جبکہ اس سے قبل اس کی مؤثر صلاحیت 15 کلو میٹر تھی۔ اس پر 60 کلو گرام وزن تک اسلحہ لے جانے کی صلاحیت ہے۔ اس میں ایک بیٹری نصب ہے جو اپنے ہدف کو تلاش بھی کر سکتا ہے اور بیک وقت کئی اہداف کو نشانہ بھی بنا سکتا ہے۔

اس کا فضائی ورژن استعمال کے لیے تیار ہے جبکہ آرمی ورژن اپنے آخری مراحل میں ہے۔