بھارت کے جوہری پلانٹ کے قریب دھماکہ، چھ ہلاک

بھارت کی ریاست تمل ناڈو میں پولیس حکام کے مطابق ایک جوہری پلانٹ کے قریب دھماکے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
کندنکلم کے متنازع جوہری پلانٹ جس کا افتتاج گذشتہ ماہ ہی کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وہاں گھریلو ساخت کا بم پھٹنے سے تین دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اس متنازع پلانٹ کے خلاف ایک سال تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد گذشتہ ماہ ہی اس سے بجلی کی پیداوار شروع ہوئی ہے۔
پلانٹ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کو بھی اسی طرح کا خطرہ لاحق ہے جس طرح جاپان میں سنہ 2011 میں فوکوشیما پلانٹ سونامی کے طوفان سے متاثر ہوا تھا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ روس کے تعاون سے بنایا گیا یہ منصوبہ بھارت کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور لوگوں کی فلاح اور اقتصادی ترقی کے لیے بہت اہم ہے اور مکمل طور پر محفوظ ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ساحلی گاؤں میں ہونے والے اس دھماکے کی تحقیقات کی جا رہی ہے اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا اس دھماکے کا تعلق ایک سال تک جاری رہنے والے احتجاج سے ہے۔
مقامی پولیس سربراہ وجیندرا بیداری کا کہنا ہے کہ دھماکا حادثاتی طور پر ایک گھر میں ہوا، جس میں چھ افراد موقعے پر ہلاک ہو گئے جب کہ تین شدید زخمی ہوئے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ اس گھر کو بم بنانے والی فیکٹری کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹی وی پر نشر ہونے والی تصاویر میں دھماکے کی جگہ پر تین گھروں کے منہدم ہونے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔
بھارت کے اٹامک انرجی کمیشن کے سینیئر اہلکاروں نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ پلانٹ محفوظ ہے اور معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔
یہ پلانٹ بھارت کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت سنہ 2032 تک ملک 63 ہزار میگا واٹ بجلی جوہری توانائی سے حاصل کرنا چاہتا ہے جو کہ موجودہ جوہری توانائی سے بجلی کی پیداوار سے 14 گنا زیادہ ہے۔







