انتخابات راہل کے لیے ’آر یا پار‘ کا معاملہ؟

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارتی عام انتخابات میں حکمراں جماعت کانگریس کی امیدیں نہروگاندھی خاندان کے وارث راہل گاندھی کی قیادت سے وابستہ ہیں۔ ان انتخابات میں جبکہ راہل گاندھی کی شکست کی پیشنگوئی کی جارہی ہے، بی بی سی کی گیتا پانڈے نے ان کی انتخابی مہم کا جائزہ لینے کے لیے ریاست اتر پردیش کا دورہ کیا تاکہ دیکھ سکیں کہ راہل رائے دہندگان کو اپنی طرف کیسے راغب کرتے ہیں اور ان کا پیغام کیا ہے۔
ضلع پرتاب گڑھ کے رام لیلا گراؤنڈ میں موسم بہار کے خوشگوار ماحول میں کانگریس کی ریلی کے لیے تقریبا سات ہزار افراد جمع ہوئے۔ ریلی کے مقام پر پہنچ کر دکھائی دیا کہ سینکڑوں مزید لوگ، مرد، خواتین، بوڑھے، جوان اور بچے جوق در جوق ریلی میں شرکت کے لیے آتے جا رہے ہیں۔
ریلی میں زبردست جوش و خروش کا ماحول ہے جہاں ان کے حامی پارٹی کے پرچم کے ساتھ نعرے بازی کر رہے ہیں۔ ابھی راہل تو نہیں پہنچے لیکن حلقے میں پارٹی کے امیدوار کے ساتھ سٹیج پر مقررین میں بھوج پوری فلموں کے سپر سٹار اور جون پور سے کانگریس کے امیدوار روی کشن بھی موجود ہیں۔
روی کشن کہتے ہیں کہ راہل نے عوام کے لیے شہری عیش و آرام ترک کر کے بھارت کی سخت سیاسی معرکہ آرائي کو ترجیح دی ہے: ’راہل گاندھی شراب کا جام اٹھا کر اٹلی یا یورپ کے کسی بھی ساحل سمندر پر عیش کر سکتے ہیں، لیکن انہوں نے ہمارے درمیان رہنے کا انتخاب کیا ہے۔‘
راہل کے پہنچتے ہی لوگوں کی بھیڑ ان کا دیدار کرنے کے لیے سٹیج کے مزید قریب جمع ہو جاتی ہے۔
اپنے بیس منٹ کے خطاب میں راہل کانگریس پارٹی کے دس سالہ دور اقتدار میں کیےگئے اہم کاموں کو اجاگر کرتے ہیں۔ اپنے مستقبل کے منصوبوں میں وہ خواتین کو پارلیمان میں ریزرویشن دینے، نوجوانوں کی امنگوں کا خیال رکھنے، چين سے سبقت کے لیے بھارت کو مینیوفیکچرنگ ہب بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بات کرتے ہیں۔
اپنی تقریر کے بعد وہ نیچے اترتے ہیں جہاں بہت سے مرد و خواتین ان سے مصافحہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہت سے تو ان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ان کا نام لے کر چلاّتے بھی ہیں۔
اس ریلی میں آنے والے ساٹھ برس کے ایک مزدور رام کمار بھی تھے۔ ان کا کہنا تھا ’میں تو انہیں کو ووٹ دونگا۔ یہاں کے لوگوں کے لیے کانگریس پارٹی نے بہت کچھ کیا ہے۔ ہمیں پانی، بجلی اور اچھی سڑکیں تو پارٹی کی وجہ سے ہی ملی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راہل گاندھی کا تعلق بھارت کے اوّلین سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے بزرگوں میں جواہر لال نہرو، دادی اندرا گاندھی اور خود ان کے والد راجیو گاندھی بھارت کے وزیراعظم رہ چکے ہیں جبکہ ان کی ماں سونیا گاندھی اب کانگریس پارٹی کی صدر ہیں۔
گزشتہ برس راہل گاندھی کو پارٹی کا نائب صدر مقرر کیا گیا تھا اور چونکہ اس دوران ان کی والدہ صحت کے مسائل سے بھی دو چار رہیں اس لیے سیاسی ذمہ داریوں کا بوجھ بتدریج ماں سے بیٹے کے کندھوں پر منتقل ہوا۔

،تصویر کا ذریعہPTI
سونیا گاندھی کی سوانح حیات اور کانگریس پارٹی پر ’اکبر روڈ‘ نامی کتاب کے مصنف اور سینیئر صحافی رشید قدوائی کہتے ہیں کہ ’سونیا کانگریس سے راہل کانگریس تک تبدیلی ہوچکی ہے اور یہ تبدیلی بہت ہموار رہی ہے۔‘
راہل گاندھی کی لیڈرشپ کے حوالے سے موجودہ انتخابات کو ایک بڑے امتحان کے روپ میں دیکھا جارہا ہے۔
چنانچہ گزشتہ چند ہفتوں میں پارٹی کارکنان سے ملاقاتوں اور انتخابی جلسوں سے خطاب کے لیے راہل گاندھی نے ملک کے مختلف علاقوں کے زبردست دورے کیے ہیں۔
پرتاب گڑھ کی ریلی کے چند روز بعد راہل پڑوسی حلقے امیٹھی پہنچے جہاں سے وہ خود تیسری بار انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اس حملے سے ان کے مقابلے میں بی جے پی کی طرف سے ٹی وی اداکارہ سمرتی ایرانی اور عام آدمی کی طرف سے شاعر کمار وشواش میدان میں ہیں۔
کمار وشواش کی انتخابی مہم چلانے والے پنکج شکلا کا کہنا ہے کہ امیٹھی کے لوگ علاقے میں ترقی نہ ہونے کے سبب بہت ناراض ہیں۔
شہر میں چائے کی ایک دکان پر مزدوروں اور کسانوں سے بات چیت ہوئی تو علاقے میں لوگ غربت، خراب سڑکیں، بے روزگاری اور لوڈ شیڈنگ کی شکایت کرتے ملے۔
اس کے باوجود راہل گاندھی پر نکتہ چینی کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں تھا۔ انہوں نے راجیو گاندھی نے اس علاقے میں ترقی کے جو کام کیے تھے اس کا ذکر کیا۔ بی جے پی کی طرح ہندوں اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ نہ ڈالنے کے لیے کانگریس کی تعریف بھی کی۔
صاحب کانت مشرا کا کہنا تھا کہ گاؤں کا ہر شخص کانگریس کو ووٹ دے گا۔ اس بات کے لیے وہ ذاتی طور پر ضمانت دینے کو بھی تیار ہیں کہ اس حلقے سے راہل گاندھی بڑے واضح فرق سے کامیاب ہونگے۔
ایک کسان محمد نعیم خان کہتے ہیں ’امیٹھی سے راہل حتمی طور پر جیتیں گے۔ کیونکہ اگر وہ ہار گئے تو یہ ہماری شکست ہوگی۔‘
دو ہزار چار میں جب راہل نے سیاست میں قدم رکھا تھا اور پہلی بار امیٹھی سے انتخاب لڑا تو یہاں کے لوگوں نے کہا تھا کہ انہوں نے پی ایم (وزیراعظم) کو منتخب کیا ہے ایم پی کو نہیں۔
گزشتہ دو انتخابات میں انہیں زبردست کامیابی ملی اور اس بار بھی یہاں کے لوگ اس امید میں ان کا دم بھر رہے ہیں کہ ان کا آدمی دہلی کے تخت پر براجمان ہونے والا ہے۔
لیکن بھارت کے سبھی علاقے امیٹھی تو نہیں ہیں جہاں فی الوقت بہت زیادہ لوگ راہل یا کانگریس کے نام پر شرط لگانے کو تیار نہیں۔
منموہن سنگھ کی قیادت میں کانگریس پارٹی کی حکومت کو ان انتخابات میں سخت ترین حکومت مخالف رجحان کا سامنا ہے۔ تقریبا سبھی جائزوں میں کانگریس پارٹی کی شکست کی پیشنگوئیاں کی گئی ہیں اور بی جے پی کی جیت کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
دی ہندو اخبار کی سینیئر صحافی سمتا گپتا کا کہنا ہے ’سچ تو یہ ہے کہ کانگریس کو جس حکومت مخالف رجحان کا سامنا ہے اس سے راہل کا کچھ بھی لینا دینا نہیں۔‘
لیکن ان کے بہت سے نقادوں کو ان سے کوئی ہمدردی نہیں ہے اور بعض تو انہیں غیر مؤثر رہنما کہتے ہیں۔ بی جے پی کے سینیئر رہنما ارون جیٹلی کا کہنا ہے ’راہل گاندھی ایک رہنما کی حیثیت سے ابھر نہیں پائے ہیں۔ وہ ملک کو قابل قبول نہیں ہیں۔ ان کی قیادت خود کانگریس کے کارکنان کے لیے غیر موثر رہی ہے۔ ان کی اقتصادی فہم پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔‘
رشید قدوائی کہتے ہیں کہ ہر شخص اوباما تو نہیں بن سکتا لیکن راہل نے ’اتنا خراب بھی نہیں کیا ہے۔ کانگریس کی خراب صورت حال کے لیے ان کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط تجزیہ ہے۔ وہ اپنی سیٹ دس برس سے جیتتے رہے ہیں۔ وہ کسی بھی طرح کے سکیم سے پاک رہے ہیں اور دیانت داری کے تعلق سے ان کی شخصیت پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔‘
مسٹر قدوائی کے مطابق دو ہزار چودہ کے انتخابات راہل کے لیے ’آر یا پار‘ کا معاملہ نہیں ہیں۔ ان کے مطابق وہ ابھی جوان ہیں اور ان کی قیادت کے پراون چڑھنے کے لیے ابھی بہت وقت ہے۔
سمتا گپتا کہتی ہیں کہ کانگریس اس بات کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے کہ وہ انتخاب ہار جائے گی یہاں تک کہ خراب کارکردگی بھی گاندھی خاندان کے وارث کے لیے کوئی بڑا نقصان نہیں ہے۔
ان کے مطابق ’یہ تو سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ کانگریس پارٹی کی قیادت فیملی سے باہر کسی دوسرے کے پاس ہوگی۔ پارٹی خاندان سے مربوط ہے۔ انتخابات کے بعد، چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو، راہل گاندھی ہی کی چلے گی۔‘







