ماحول گرم مگر راہل نرم

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, ستیش مشرا
- عہدہ, سینيئر صحافی، سینیئر فیلو
کانگریس پارٹی نے جب سے نہرو /گاندھی خاندان کے وارث راہل گاندھی کو 2014 کے پارلیمانی انتخابات کی مہم کی باگ ڈور سونپی ہے، تب سے وہ ملک کے کونے کونے میں جا کر گذشتہ دس برس کے دوران پارٹی کی جانب سے کیے جانے والے اچھے کاموں کی یاد دلا کر اپنی جماعت کے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ انتخابات سے قبل کے زیادہ تر اندازوں کے مطابق راہل گاندھی کو شکت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم وہ مسلسل کانگریس کی اقتدار میں واپسی کے بعد کا ایجنڈا پیش کر رہے ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران راہل گاندھی کی تقاریر کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے حصے میں وہ عام طور پر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں جس میں بطورِ خاص بی جے پی ان کے ہدف پر تھی۔ راہل کا کہنا ہے کہ بی جے پی ملک میں نفرت کے بیج بو رہی ہے، جبکہ ان کی تقاریر کے دوسرے حصے میں مستقبل کی منصوبوں کی بات ہوتی تھی۔
رایل گاندھی بی جے پی پر تقسیم کی سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بجائے کچھ مخصوص لوگوں کے لیے کام کرتی ہے۔ وہ اہم اپوزیشن پارٹی اور اس کے رہنماؤں بطور خاص نریندر مودی پر مغرور ہونے کا الزام بھی لگاتے ہیں۔
دوسری جانب نریندر مودی بھی نہرو /گاندھی خاندان پر حملہ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور خاص طور پر راہل کو نشانہ بناتے ہیں۔ سیاسی حملہ کرنے کے لحاظ سے مودی جن الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں اس سے یہ لگتا ہے کہ وہ اکثر تہذیب کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
فروری کی 23 تاریخ کو دہرہ دون میں راہل نے ’کانگریس سے پاک بھارت‘ کے جملے کے حوالے سے مودی پر سخت نکتہ چینی کی اور گیتا، قرآن اور بودھ مت کی کتابوں سے حوالہ دیتے ہوئے لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ کانگریس سیکولر بھارت کے نظریے کی نمائندگی کرتی ہے جسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
یکم اپریل کو انھوں نے بہار کے اورنگ آباد میں کہا: ’ہم نظریات کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ان کے لیڈر کہتے ہیں کہ کانگریس کو مٹا دیجیے، ان کوگیتا پڑھنی چاہیے۔ وہ نہیں پڑھتے۔ گیتا میں کہا گیا ہے کہ دوسروں کے ساتھ رحم کا سلوک کرو۔ بودھ کو مٹایا نہیں جا سکتا، اشوک اور اکبر کو بھی نہیں۔ کانگریس کو بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ہم لڑیں گے۔ ہم جیتیں گے۔ ہم حکومت بنائیں گے۔‘

اپنے ایک انتخابی خطاب میں رایل نے اپنی بات یہ کہہ کر شروع کی کہ ’سیاست میں غصے اور تکبر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ سیاست لوگوں کا دکھ درد دور کرنے کا کام ہے۔‘‘ بی جے پی کا نام لیے بغیر انھوں نے کہا: ’یہ خون کی سیاست کرتے ہیں، کچھ اور نہیں دیکھتے، انھیں صرف اقتدار چاہیے۔۔۔ کسی بھی قیمت پر اقتدار چاہیے۔‘
راہل کے مطابق ’وہ (بی جے پی) کسی بھی فرقے اور برادری کے خلاف گڑھا کھود سکتی ہے، ایک دوسرے سے انھیں لڑا سکتی ہے، اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے اگر انھیں ضرورت محسوس ہوئی تو وہ کسی کا بھی خون بہانے سے نہیں ہچکچاتے۔ ہم غریبوں کے لیے لڑتے ہیں، لیکن بی جے پی مخصوص لوگوں کی بات کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی کو وزیر اعظم بنا دینے سے سب کا بھلا ہو جائےگا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راہل کی تقاریر کے دوسرے پہلو میں ان کی نظر اپنے ذاتی نظریے اور کاگریس پارٹی کے مثبت ایجنڈے پر ہوتی ہے۔ وہ نوجوانوں، خواتین، غریبوں اور پسماندہ طبقے کی بات کرتے ہیں۔ وہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ کانگریس انھیں مزید اختیارات دینے کے لیے کام کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہAP
راہل نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ان 70 کروڑ لوگوں کو متوسط طبقے میں لانے کے لیے کام کریں گے جو حالیہ برسوں میں خطِ افلاس سے اوپر اٹھے ہیں۔ راہل کہتے ہیں کہ ’ہم پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے 33 فیصد مخصوص نشستیں چاہتے ہیں لیکن این ڈی اے اس راہ میں ہماری رکاوٹ ہے۔ ہم نے ریزرویشن کو مقامی اداروں میں نافذ کیا، ہم اسے عام کریں گے۔‘
ملک کے دیہی علاقوں میں منعقد کی جانے والی ریلیوں میں راہل گاندھی غریبوں کے حقوق پر زور دینے سے ساتھ ساتھ لوگوں کو اپنے آبا و اجداد کی اچھی باتیں یاد دلاتے رہے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ منفی سیاسی ماحول میں نوجوان راہل گاندھی ایک ایسی لڑائی لڑ رہے ہیں جس میں ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
راہل گاندھی کے لیے چیلنج اس لحاظ سے بھی بڑھ جاتے ہیں کہ انھیں ایک طرف توگذشتہ ایک عشرے پر محیط یو پی اے حکومت کی مبینہ غلطیوں کا دفاع کرنا ہوتا ہے اور اس مشکل ترین کام کے ساتھ انھیں اپنے وژن کو بھی لوگوں کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔ یوپی اے حکومت پر کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
حکومت مخالف رجحانات کے بوجھ کے باوجود راہل گاندھی نہ تو تلخ زبان استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی جارحانہ انداز اپناتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تقاریر غصے یا گالم گلوچ سے پاک ہی رہی ہیں۔







