امریکی پروفیسر کی ایران میں تدفین کی خواہش

،تصویر کا ذریعہwiki
ایرانی ذرائع ابلاغ میں تنقید کے بعد مشہور امریکی پروفیسر رچرڈ فرائی کی تدفین تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی پروفیسر کی خواہش تھی کہ انھیں ایران کے مرکزی شہر اصفہان میں دفن کیا جائے۔
ایشیا امور کے ماہر پروفیسر رچرڈ فرائی 94 برس کی عمر میں 27 مارچ کو انتقال کر گئے تھے تاہم ان کی میت کو ابھی تک بوسٹن سے ایران منتقل نہیں کیا جا سکا۔
ایرانی اخبار ’کیان‘ نے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے بہت قریب ہے رچرڈ فرائی کی ملک میں تدفین کی مخالفت کرتے ہوئے انھیں سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکی پروفیسر نے وصیت کی تھی کہ انھیں ایران کے زاہدان رُود دریا کے قریب دفن کیا جائے جہاں اس سے پہلے دو امریکی پروفیسرّز آرتھر پوپ اور فلس ایکرمین مدفون ہیں۔
ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے رچرڈ فرائی کو ایران میں دفنانے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔
احمدی نژاد نے سنہ 2010 میں انھیں اصفہان میں ایک گھر بطور تحفہ دینے کی بھی پیشکش کی تھی۔
ایران کی ایک یونیورسٹی میں لیچکرار کے طور پر کام کرنے والے مصطفیٰ محقق دمد نے ایرانی اخبار کو بتایا کہ اگر ہم رچرڈ فرائی کی وصیت کو پورا کرنے میں ناکام رہے تو اس سے ایران کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر رچرڈ فرائی کی تدفین کے بارے میں آٹھ اپریل تک کوئی فیصلہ نہ ہوا تو ان کی میت کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے بھیج دیا جائے گا۔







