الیکشن سے قبل 100 پولنگ مراکز نذرِ آتش

بنگلہ دیش میں اتوار کو ہونے والے الیکشن سے قبل ملک کے مختلف علاقوں میں درجنوں پولنگ مراکز کو آگ لگا دی گئی ہے جبکہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی اپوزیشن جماعتوں نے اس موقع پر دو روزہ ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
بنگلہ دیشن کی حزبِ مخالف چاہتی ہے کہ یہ انتخابات ایک غیرجانبدار نگراں حکومت کے نگرانی میں ہوں جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے لیکن شیخ حسینہ واجد کی حکومت اس پر تیار نہیں۔
پولیس اور انتخابی حکام نے بتایا کہ سنیچر کو دارالحکومت ڈھاکہ سمیت ملک کے 20 اضلاع میں 100 کے قریب پولنگ مراکز کو آگ لگا دی گئی۔ ان میں سے بیشتر مراکز سکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں میں قائم کیے گئے تھے۔
دوسری جانب چٹاگونگ میں انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ ووٹنگ مقررہ وقت پر شروع ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ پولنگ سٹیشنز کے جلائے جانے کے باوجود ووٹنگ ہو گی۔
’جو پولنگ سٹیشن جلائے گئے تھے ان کی جگہ ہم نے عارضی پولنگ سٹیشن قائم کر دیے ہیں جہاں لوگ آ کر ووٹ ڈال سکتے ہیں۔‘

ان متنازع انتخابات کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ آسانی سے ان انتخابات کو جیت لے گی۔
بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کا الزام ہے کہ ان کی رہنما خالدہ ضیا کو ان کے گھر پر نظر بند رکھا گیا ہے۔ خالدہ ضیا کی جانب سے عوام سے ووٹ نہ ڈالنے کی اپیل کے بعد حزبِ مخالف نے ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔
انھوں نے ان انتخابات کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے حکومت پر انھیں گھر میں نظر بند رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنگلہ دیش کی حکومت خالدہ ضیا کی نظر بندی سے انکار کرتی ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ انھیں قریباً ایک ہفتے سے ڈھاکہ میں موجود ان کے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔
اتوار کو ہونے والے انتخابات کے موقعے پر بھی پرتشدد واقعات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کو خدشہ ہے حالات ایک بار پھر کشیدہ ہو جائیں گے۔ بنگلہ دیش میں گذشتہ 12 ماہ سنہ 1971 کی جنگ کے بعد خونی ترین عرصہ تھا۔
گذشتہ ایک ہفتے سےجاری احتجاج کے دوران بنگلہ دیش میں سکول، فاتر اور بازار بند کروائے گئے اور سنیچر سے مکمل ہڑتال کی جا رہی ہے۔
احتجاج کے دوران گاڑیاں اور بسیں جلائے جانے کے واقعات کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ اس دوران حزبِ مخالف کے کئی کارکنوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش میں حفاطتی انتظامات کے تحت انتخابات سے قبل 50,000 زائد فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں کم سے کم 10 پولنگ بوتھ جلائے گئے۔
دوسری جانب امریکہ، یورپی یونین اور دولتِ مشترکہ نے بنگلہ دیش میں انتخابات کی نگرانی کرنے کے لیے اپنے مبصرین بھیجنے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد بنگلہ دیشی حزبِ مخالف کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات قابلِ اعتبار نہیں ہوں گے۔







