بنگلہ دیش: انتخابات سے قبل فوج تعینات

بنگلہ دیش کی حزب مخالف کو اس بات کا خدشہ ہے کہ حکومت اقتدار میں رہتے ہوئے انتخابات میں دھاندلی کرے گی
،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش کی حزب مخالف کو اس بات کا خدشہ ہے کہ حکومت اقتدار میں رہتے ہوئے انتخابات میں دھاندلی کرے گی

بنگلہ دیش میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات اور سیاسی تشدد کو روکنے کے لیے ہزاروں فوجی اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ بنگلہ دیش کی حزبِ مخالف رہنما خالدہ ضیا کی جانب سے اپنے حامیوں کو ملک گیر مظاہرے کرنے کی استدعا کے بعد کیا گیا۔

خالد ضیا کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد نے ملک میں پانچ جنوری کو ہونے والے انتخابات سے پہلے اقتدار سے علیحدگی اور نگران حکومت قائم نہ کی تو وہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کریں گی۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے حزبِ مخالف کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

اس سے پہلے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آئندہ سال جنوری میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل اقتدار سے علیحدہ ہو جائے۔

خالدہ ضیاء نے اس حوالے سے دارالحکومت ڈھاکہ میں ’بڑے مارچ‘ کی کال دی تھی۔ انھیں امید تھی یہ ’بڑا مارچ‘ حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دے گا۔

بنگلہ دیش کی حزب مخالف کو اس بات کا خدشہ ہے کہ حکومت اقتدار میں رہتے ہوئے انتخابات میں دھاندلی کرے گی۔

بنگلہ دیش میں نگران حکومتیں انتخابات کی نگرانی کرتی تھیں تاہم سنہ 2011 میں حسینہ واجد کی حکومت نے ان انتظامات کو ختم کر دیا تھا۔

بنگلہ دیش کے انتخابی کمیشن کے ترجمان ایس ایم اسد الزماں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ملک کے 64 میں سے 59 اضلاع میں فوجیوں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ملک کے کسی بھی حصّے میں تشدد ہوا تو اس صورت میں یہ فوجی ملک کے اہم علاقوں، گلیوں اور شاہراہوں پر گشت کریں گے۔

بنگلہ دیش میں فوجیوں کی ایک قلیل تعداد گذشتہ کئی دنوں سے گلیوں میں پہلے سے ہی موجود ہے۔