بھارت کے سب سے بڑے جوہری ری ایکٹر کے نقشے تیار

بھارت کے اخبار دکن ہیرلڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی سائنسدانوں نے ملک کے سب سے بڑے جوہری ’ری ایکٹر‘ کے نقشے تیار کر لیے ہیں جو بھارت کو جوہری توانائی پیدا کرنے والے بڑے ملکوں کی صف میں شامل کر دے گا۔
اخبار نے بھابھا اٹامک ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر شیکر باسو کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ جوہری ری ایکٹر بھابھا اٹامک ریسرچ سنٹر اور نیوکلیئر پاؤر کارپوریشن آف انڈیا کا مشترکہ منصوبہ ہے اور اس کی تعمیر اگلے پانچ برس میں شروع ہو جائے گی۔
تیسرا محاذ، نیا سیاسی اتحاد
بھارت میں دو ہزار چودہ کے عام انتخابات سے قبل حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کو نکال کر ایک تیسرا اتحاد بنانے اور قائم رہنے پر بھارتی اخبارات سوالات اٹھا رہے ہیں۔
رواں ہفتے دارالحکومت دہلی میں چودہ علاقائی جماعتوں کے سربراہان جمع ہوئے جس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ کس طرح ایک ایسی حکمت عملی تیار کی جائے جس کے ذریعے قومی دہارے سے ’لسانی سیاست‘ کو پاک کیا جا سکتا ہے۔
علاقائی رہنما جن میں سابق وزیرِ قانون ملائم سنگھ یادیو، بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کو اپنی تقریروں میں تنقید کا نشانہ بنایا۔
لیکن اخبارات کا خیال ہے کہ یہ ممکنہ اتحاد جس کو ’تھرڈ فرنٹ‘ یا تیسرا محاذ کا نام دیا جا رہا ہے ان کی جماعتوں میں سوچ کی ہم آہنگی اور ایک مشترکہ مقصد کے بارے میں ابہام ہے ۔
بھارت کے مقتدر اخبار ہندوستان ٹائمز کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس اتحاد کے بارے میں سوالات ضرور اٹھانے چاہیں۔ یہ مشکل ہے کہ ان کے درمیان کیا قدرے مشترکہ ہے مثال کے طور پر یادیو کی سماج وادی پارٹی اور نتیش کمار کی جنتا دل یونائیٹڈ اور دائیں بازو کی جماعتوں میں۔
اخبار لکھتا ہے کہ کسی بھی انتخابی اتحاد کے لیے ضروری ہے کہ اس کے درمیان کوئی مشترکہ نظریاتی سوچ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ بہت سے لوگ ان سے متفق نہ ہوں لیکن کانگریس اور بی جی پی میں نظریے اور رہنماؤں کے لحاظ سے ایک نظریاتی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہندی زبان کے روزنامے ’دینک جگران‘نے بھی تیسرا اتحاد بنانے کے محرکات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اخبار کہتا ہے کہ دہلی میں جو سیاسی جماعتیں اکھٹا ہوئی ہیں اور جن کا مقصد لسانی اختلافات کو ختم کرنا ہے ان کے متحدہ رہنے اور ملکی سیاست کو ایک متبادل سیاسی اتحاد فراہم کرنے پر شدید شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
اخبار لکھتا ہے: ’اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ سیاست دان بالکل مختلف زبانیں بولتے ہیں بالکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی ٹھوس اور واضح ایجنڈہ نہیں ہے۔‘
ہندی زبان کے ایک اور اخبار امر اُجالا لکھتا ہے کہ: ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیشہ سے ہی یہ احساس رہا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کے علاوہ بھی کوئی ہونا چاہیے لیکن گزشتہ دو دہائیوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس طرح کا کوئی اتحاد کبھی چل نہیں سکا۔ اسی وجہ سے اس نئے اتحاد پر شک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔‘
انتخابی نشانات

بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق دارالحکومت دہلی کے مضافاتی علاقے گڑ گاؤں میں بدھ کی رات ایک کال سنٹر کی خاتون اہلکار سے اجتماعی جنسی زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تین مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
گذشتہ سال دہلی میں ایک طالبہ سے مسافر بس میں اجتماعی جنسی زیادتی کے خوفناک واقعے کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے تاہم خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست کریلا کا شہر کانر ملک کا پہلا شہر بننے والا ہے جہاں رہائش پذیر ہر شہری کے پاس اپنی زمین ہو گی۔
رپورٹ کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے جمعہ کو گیارہ ہزار مسحق افراد میں پانچ سو ایکٹر زمین تقسیم کر کے یہ ہدف حاصل کیا جائے گا۔
دی نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جنوبی شہر چنئی میں بدھ کو ایک تقریب میں ستر معذور جوڑے شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ ان جوڑوں نے ذات پات اور مذہب کی دیواروں کو گراتے ہوئے اپنے جیون ساتھیوں کا انتخاب کیا۔
آخر میں دی نیو انڈین ایکسپریس نے اس خبر کے بعد سیاسی دانوں پر کڑی تنقید کی ہے جس میں حکمراں کانگریس پارٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ وسطی بھارت میں کنول کے تالاب چھپا دیے جائیں کیونکہ اس کی حریف جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخابی نشان یہ کنول کا پھول ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مطالبوں پر رضامند ہونا منطقی طور پر مطالبہ کرتا ہے کہ لوگ دستانوں کا استعمال کریں اور سائیکل اور لالٹین کا استعمال نہ کریں کیونکہ کانگریس، سماج وادی اور راشٹریا ڈل جماعت کے نشانات بلترتیب ہاتھ، سائیکل اور لالٹین ہیں۔++







