بھارت: ’پیاز سے کانگریس کو آنسو آ گئے‘

بھارت میں ذرائع ابلاغ کے مطابق پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمت پانچ ریاستوں میں آئندہ انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں اور اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے اندازے غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔
سبزیوں کی قیمتیں بالخصوص پیاز کی قیمت دنیا بھر میں شاید انتخابات کے لیے اہم موضوع نہ ہو مگر بھارت میں معاملہ کچھ الگ ہے۔
پیاز بھارت میں متوسط طبقے کے لیے کھانے کا ایک اہم جزو ہے اور عموماً پندرہ سے بیس بھارتی روپے فی کلو میں دستیاب ہوتا ہے۔ حالیہ قیمت ایک سو روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے جس سے بہت سے افراد پریشان ہیں۔
دسمبر میں پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں اور آئندہ سال کے آغاز میں ملک بھر میں عام انتخابات ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پیاز کی قیمت کا معاملہ کانگریس حکومت کے لیے معاشی سے زیادہ سیاسی معاملہ بنتا جا رہا ہے۔
اخبار ہندوستان ٹائمز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ حزبِ اختلاف کے ہاتھوں میں ایک طاقتور ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔
روزنامہ فائنینشل منٹ کا کہنا ہے کہ حکومت نے ریاستی انتخابات میں سیاسی نقصان سے بچنے کے لیے پیاز درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اخبار ٹیلی گراف کا کہنا ہے کہ ’انتخابات سے صرف چھ ہفتے قبل کانگریس کو پیاز کی وجہ سے آنسو آ گئے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹیلی گراف کا مزید کہنا ہے کہ دلی میں اب ممکنہ امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ سے زیادہ پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی پریشانی ہے۔
دوسری جانب اخبار ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کا کہنا ہے کہ حکومت آندھرا پردیش کے ساحلی علاقے سیماندھرا میں تعمیراتی ڈھانچے کے متعدد منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کا مقصد اندھرا پردیش کو بانٹ کر ایک علیحدہ ریاست تلنگانہ بنانے پر عوام میں غم و غصے کو کم کرنا ہے۔
اخبار کے مطابق زیرِ غور منصوبوں میں انجنیئرنگ اور مینجمنٹ کالج، تدریسی ہسپتال، میٹرو ریل لائن، بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور تحقیقاتی ادارے شامل ہیں۔
سیماندھرا نے ریاست کے بٹوارے کی مخالفت کی تھی۔
دوسری جانب ہندوستان ٹائمز کا کہنا ہے کہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شمالی ریاست اترپردیش میں سونے کی تلاش میں چند افراد نے تاریخی مقامات پر غیر پیشہ ورانہ انداز میں کھدائی شروع کر دی ہے۔
ہندوستان ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ کھدائی کرنے والے افراد نے سونے کی تلاش میں تاریخی اور مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا ہے۔

ادھر فرسٹ پوسٹ کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ دلی میٹرو ریل کارپوریشن نے نیشنل بک ٹرسٹ کے ساتھ مل کر ایک مہم شروع کی ہے جس کا مقصد سفر کرنے والے افراد میں مطالعے کی عادت کو فروغ دینا ہے۔
رپورٹ کا کہنا ہے کہ دونوں تنظیموں نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ریل اڈوں پر کتب گھر قائم کیے جائیں گے اور مسافروں کو کتب کی خریداری پر رعایت دی جائے گی۔
ریل کے محکمے سے ہی منسلک ایک اور خبر دی پائنیئر سے ملی ہے جس میں بتایا گیا کہ بھارتی ریلویز اب اپنی چند گاڑیوں پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ’شوگر فری‘ کھانے فراہم کیا کرے گی۔
این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے سافٹ ڈرنکس یعنی مشروبات کی سلسلہ وار جانچ کا حکم دیا ہے تاکہ ان میں صحت کے معیار کا خیال رکھا جائے مگر عدالت نے کولا کمپنیوں پر یہ لازمی کرنے کی درخواست مسترد کر دی کہ وہ اپنی مشروبات پر اس کے اجزا تحریر کریں۔







