آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بی جے پی کو کیا گجرات انتخابات میں عام آدمی پارٹی سے خطرہ ہے؟
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
انڈیا کی ریاست گجرات میں انتخابات سے قبل حکومتی بھارتیہ جنتا پارٹی مخالف عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات کے اندراج اور کارروائیوں کے بعد حکومتی اداروں پر ایسے وقت میں مقامی سیاست کے لیے استعمال ہونے کے الزامات لگ رہے ہیں۔
انڈیا کے مرکزی تفتیشی بیورو، سی بی آئی نے دلی حکومت کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سیسودیا سے حال ہی میں شراب پر ایکسائز سے متعلق حکومت کی پالیسی کے سلسلے میں نو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی جس کے بعد عام آدمی پارٹی رہنما نے الزام عائد کیا کہ ’مجھ سے کہا گیا کہ عام آدمی پارٹی چھوڑ دو ورنہ ایسے ہی کیس چلتے رہیں گے۔‘
سی بی آئی نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی ایک وجہ اسمبلی انتخابات ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ سی بی آئی نے دلی حکومت کی ایکسائز پالیسی میں بدانتظامی اور بدعنوانی کا ایک مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ اسی سلسلے میں سی بی آئی نے سیسودیا کے گھر پر بھی چھاپہ مارا تھا اور ان کے بینک لاکر کی تلاشی بھی لی تھی لیکن وہاں سے کچھ برآمد نہیں ہوا تھا۔
نو گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد سی بی آئی کے ہیڈ کوارٹرز سے باہر نکلتے ہوئے سیسودیا نے کہا کہ ’بی جے پی سی بی آئی جیسے آئینی ادارے کو غلط طریقے سے سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ وہاں مجھ سے کہا گیا کہ عام آدمی پارٹی چھوڑ دو ورنہ ایسے ہی کیس چلتے رہیں گے۔‘
’مجھ سے کہا گیا کہ ستیندر جین (ایک دوسرے وزیر) کے خلاف کون سا کیس ہے ۔جس طرح وہ چھ مہینے سے جیل میں ہیں، آپ بھی اسی طرح جیل میں رہیں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں آپریشن لوٹس (بی جے پی کا انتخابی نشان) کے دباؤ میں آنے والا نہیں ہوں۔‘
سی بی آئی نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ تفتیشی ادارے نے کہا کہ ’سیسودیا کے ساتھ پوچھ گچھ پیشہ ورانہ طریقے سے کی گئی۔ ایکسائز پالیسی کے مقدمے میں ان کا نام شامل ہے۔ اگر ہمیں دوبارہ ضروررت ہوئی تو پوچھ گچھ کے لیے انھیں دوبارہ طلب کیا جائے گا۔ اس معاملے کی جانچ قانون کے مطابق چلتی رہے گی۔‘
سیسودیا سے پہلے بھی دلی کی عام آدمی پارٹی کی حکومت کے دو وزیروں کے خلاف بدانتطامی اور بدعنوانی کے مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک وزیر جیل میں ہیں اور دوسرے ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پارٹی کے قومی کنوینر اور وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال گذشتہ کئی دنوں سے کہہ رہے تھے کہ اُن کے ساتھی کو گرفتار کیا جانے والا ہے۔ سی بی آئی نے ابھی سیسودیا کو گرفتار نہیں کیا ہے۔
کیجریوال کا کہنا ہے کہ بی جے پی گجرات انتخابات سے خوفزدہ ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ عام آدمی پارٹی کے رہنما ریاست میں انتخابی مہم میں حصہ لے سکیں۔
یہ بھی پڑھیے
کیجریوال نے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا ’سیسودیا کے خلاف جو کیس بنایا جا رہا ہے وہ مکمل طور پر فرضی ہے۔ وہ انتخابی مہم کے لیے گجرات جانے والے تھے۔ وہ انھیں گجرات جانے سے روکنے کے لیے یہ سب کر رہے ہیں۔ لیکن اس سے انتخابی مہم نہیں رکے گی۔ گجرات میں آج ہر کوئی آپ پارٹی کے لیے مہم چلا رہا ہے۔‘
معروف تجزیہ کار ونود شرما کہتے ہیں ’منیش سیسودیا پر لگائے گئے الزامات میں کتنی سچائی ہے اور کتنا جھوٹ یہ تو عدالت ہی طے کرے گی۔ لیکن آج کے دور میں جس طرح پورے ملک میں اپوزیشن جماعتوں کے خلاف تفتیشی اداروں کا استعمال ہو رہا ہے، اس سے ان اداروں پر سوال اٹھے ہیں۔ یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ تفتیشی اداروں کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔‘
چند دن قبل بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے پارٹی کے حامیوں کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’عام آدمی پارٹی بدعنوانی کا استعارہ بن چکی ہے۔ اسے ہم ہر انتخاب میں شکست دیں گے۔‘
عام آدمی پارٹی دلی میں دو مرتبہ بی جے پی کو شکست فاش دے کر اقتدار میں آئی تھی۔ اب وہ پنجاب میں اقتدار میں ہے اور گذشتہ چند مہینوں سے گجرات اور ہماچل پردیش میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان دونوں ریاستوں میں، جہاں بی جے پی برسر اقتدار ہے، نومبر میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور عام آدمی پارٹی کی پوری قیادت کچھ دنوں سے گجرات میں انتخابی مہم میں سرگرم ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی ایک وجہ یہ اسمبلی انتخابات بھی ہو سکتے ہیں۔
ونود شرما کہتے ہیں کہ ’عام آدمی پارٹی یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اگر بی جے پی کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے تو وہ عام آدمی پارٹی ہے۔ ارووند کیجریوال گجرات اور ہماچل پردیش میں سرگرم ہیں اور بی جے پی کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تفتیشی کاروائیوں کے پیچھے ان ریاستوں کے انتخابات بھی ہو سکتے ہیں۔‘
گجرات میں بی جے پی دو عشرے سے زیادہ عرصے سے اقتدار میں ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا تعلق بھی گجرات سے ہے لیکن میں بی جے پی کی ریاستی حکومت کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔
چند برس قبل ہونے والے ایک سروے کے مطابق گجرات میں 2002 کے مقابلے میں، جب مودی ریاست کے وزیر اعلی تھے، بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاست کے ایک سرکردہ دانشور گھنشیام داس بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ریاست میں پہلے کے مقابلے بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔ شہری علاقوں کے لوگ پولیس، شہری انتظامیہ اور حکومتی دفاتر کی بدعنوانیوں سے پریشان ہیں۔‘
دوسری جانب اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی بدعنوانی مخالف تحریک سے وجود میں آئی تھی۔ دلی میں اس نے تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور ملازمتیں دینے میں جس طرح کام کیا اس کی ہر جگہ تعریف ہو رہی ہے۔
گھنشیام داس کہتے ہیں کہ ’عام آدمی پارٹی کی شبیہ ایک کرپشن مخالف پارٹی کی ہے۔ وہ گجرات میں اپنے کاموں کو اجاگر کر رہی ہے۔ گجرات کے انتخابات میں اس کا یہ امیج موثر ثابت ہو سکتا ہے۔‘
’اس پس منظر میں بی جے پی لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ عام آدمی پارٹی بھی ایک بدعنوان سیاسی جماعت ہے۔ منیش سیسودیا کے گھر پر چھاپے اور سی بی آئی کی ان سے پوچھ گچھ کے پیچھے اسی سیاسی کوشش کی کارفرمائی بھی ہو سکتی ہے۔‘
گجرات میں 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو گذشتہ انتخابات کی 115 نشستوں کے مقابلے 99 سیٹیں ملی تھیں۔
بی جے پی کے لیے گجرات سیاسی اعتبار سے بہت اہم ہے۔ یہ بی جے پی کا ایک مضبوط قلعہ مانا جاتا ہے جہاں 2024 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل بی جے پی کسی طرح بھی کمزور نہیں نظر آنا چاہے گی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست میں انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ وہ پہلے ہی کئی ریلیوں سے خطاب کر چکے ہیں۔
ریاست میں کانگریس دوسری سب سے بڑی پارٹی تھی لیکن ابھی تک اس کی انتخابی مہم میں وہ شدت اور منصوبہ بندی نہیں نظر آ رہی ہے جس شدت سے بی جے پی اور عام آدمی پارٹی انتخاب میں اتری ہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ گجرات کے شہری علاقوں میں بی جے پی کے خلاف بے چینی بڑھ رہی ہے۔ بی جے پی حامی مقامی میڈیا بھی اب ان بے چینیوں کو اجاگر کر رہا ہے۔
عام آدمی پارٹی کی امیج بھی ایک قوم پرست پارٹی کا ہے۔ اس نے ریاستی اسمبلی کی ہر سیٹ سے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم بی جے پی کو شکست دینا اس کے لیے آسان نہیں ہو گا۔ لیکن اگر وہ ان انتخابات میں کانگریس کی جگہ اصل اپوزیشن کے طور پر بھی ابھرتی ہے تو یہ ملک کی سیاست میں اس کی ایک اور بہت بڑی کامیابی ہو گی۔